قرآنِ مجید نے توحید کے فورًا بعد والدین کے حقوق کو بیان کر کے اُن کی عظمت کو واضح کر دیا ہے:شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری

انسانی زندگی کا آغاز والدین سے ہوتا ہے، اسی لیے حقوق کی ابتداء بھی انہی سے کی گئی ہے: شیخ الاسلام کا خطاب

قرآنِ مجید کا اندازِ بیان نہایت حکیمانہ اور بامقصد ہے، جہاں وہ سب سے پہلے انسان کو توحیدِ الٰہی کا درس دے کر اُس کے عقیدے کو مضبوط کرتا ہے، وہیں فورًا بعد والدین کے حقوق کا ذکر کر کے اُس کی عملی زندگی کی سمت متعیّن کر دیتا ہے۔ اس ترتیب میں ایک گہرا پیغام پوشیدہ ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ انسان کا حقیقی خالق اور رب ہے، اسی طرح والدین اس کی ظاہری زندگی کا سبب ہیں۔ لہٰذا جس دل میں اللہ تعالیٰ کی پہچان اور اس کی بندگی کا شعور بیدار ہو، اسی دل میں والدین کی عظمت، خدمت اور احترام کا جذبہ بھی لازمًا پیدا ہونا چاہیے۔ یوں قرآن ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ کامل ایمان صرف عبادت تک محدود نہیں بلکہ والدین کے حقوق کی ادائیگی سے ہی ایک متوازن اور مکمل انسانی کردار تشکیل پاتا ہے۔

توحید کے بعد والدین کے حقوق کی اہمیت:

مجدّد المئۃ الحاضرۃ حضور شیخ الاسلام دامت برکاتہم العالیۃنے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ: قرآنِ مجید نے جہاں اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کی عبادت و اطاعت کا ذکر کیا ہے، وہاں یہ ایمان اور عقیدے کی بنیاد کو واضح کرتا ہے، جس میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ دونوں کی اطاعت شامل ہے۔ اس کے فوراً بعد اکثر مقامات پر بغیر کسی وقفے کے والدین کے حقوق کا بیان کیا گیا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن نے انسانی زندگی میں سب سے پہلے جس معاشرتی حق کو اہمیت دی ہے، وہ والدین کا حق ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان کی زندگی کا آغاز ہی ماں باپ کے ذریعے ہوتا ہے۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

﴿يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيرًا وَنِسَاءً﴾

’’اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو جس نے تمہاری پیدائش (کی ابتداء) ایک جان سے کی پھر اسی سے اس کا جوڑ پیدا فرمایا پھر ان دونوں میں سے بکثرت مردوں اور عورتوں (کی تخلیق) کو پھیلا دیا‘‘ [النساء : 1]

تو انسانی زندگی کا آغاز چونکہ والدین کے وجود سے متعلق ہے۔ اس لیے عملی زندگی کے حقوق، واجبات اور فرائض کا بیان ہم سنتِ الہیہ پر عمل کرتے ہوئے اسی موضوع سے شروع کر رہے ہیں۔ جس آیتِ کریمہ کے ابتدائی چند الفاظ میں نے تلاوت کیے اس میں اللہ تبارک و تعالی نے ارشاد فرمایا:

﴿وَقَضَى رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ أَحَدُهُمَا أَوْ كِلَاهُمَا فَلَا تَقُلْ لَهُمَا أُفٍّ وَلَا تَنْهَرْهُمَا وَقُلْ لَهُمَا قَوْلًا كَرِيمًا﴾

’’اور آپ کے رب نے حکم فرما دیا ہے کہ تم اللہ کے سوا کسی کی عبادت مت کرو اور والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کیا کرو، اگر تمہارے سامنے دونوں میں سے کوئی ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو انہیں “اُف” بھی نہ کہنا اور انہیں جھڑکنا بھی نہیں اور ان دونوں کے ساتھ بڑے ادب سے بات کیا کرو‘‘ [الإسراء، 17/23]

والدین کے ساتھ حُسنِ سلوک کی ضرورت:

شیخ الاسلام نے مزید کہا کہ: یہ حقیقت بھی ہے کہ ہم میں سے اکثر لوگ کسی نہ کسی وقت غفلت، بے دھیانی، سستی، یا جوانی اور مال و دولت کے غرور میں والدین کے حقوق میں کوتاہی کر بیٹھتے ہیں۔ کبھی ان کی بات کو نظر انداز کر دیتے ہیں، کبھی ان کی خدمت میں کمی رہ جاتی ہے، اور کبھی ان کی دل آزاری کا سبب بن جاتے ہیں۔ اس لیے جب ہم دین کی ایسی تعلیمات سنتے ہیں تو ہمیں چاہیے کہ اپنے اندر اصلاح کا جذبہ پیدا کریں، اپنے رویوں کا جائزہ لیں، اور والدین کے ساتھ اپنے تعلق کو بہتر بنانے کا پختہ عزم کریں۔ اگر ایسی باتیں سن کر بھی ہمارے دل میں تبدیلی، تڑپ اور اصلاح کی خواہش پیدا نہ ہو تو پھر یہ علم ہمارے لیے نفع بخش نہیں رہتا۔

کچھ لوگ حضور ﷺ کی امت سے مایوس ہو سکتے ہیں، مگر میں اللہ کی عزت کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اس زوال کے دور میں بھی مجھے امتِ محمدیہ سے کوئی مایوسی نہیں۔ لوگ آج کل نوجوانوں کی شکایت کرتے ہیں، لیکن آپ نے کبھی میری زبان سے نوجوانوں کے خلاف شکوہ نہیں سنا ہوگا۔ میں ہمیشہ یہ سمجھتا ہوں کہ اگر ہماری بات لوگوں پر اثر نہیں کر رہی تو ہمیں دوسروں کو موردِ الزام ٹھہرانے کے بجائے اپنے اندر جھانکنا چاہیے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ہماری اپنی زندگی میں عمل کی کمی ہوتی ہے، مگر زبان سے ہم بڑی بڑی نصیحتیں کرتے ہیں، اور یہی قول و عمل کا تضاد ہماری بات کو بے اثر بنا دیتا ہے۔

اگر اللہ نے چاہا تو ضرور اثر ہوگا، اور کم از کم یہ ہونا چاہیے کہ آج جمعہ کی نماز کے بعد لوگ اپنے والدین کے ساتھ اپنے رویے بہتر کرنے کا عزم کریں اور اِسی دن سے اپنی اصلاح کا آغاز کریں۔ یہی اس اجتماع میں آنے کا کم از کم فائدہ ہونا چاہیے۔ آپ لوگ دور دور سے سفر کر کے یہاں آتے ہیں، حالانکہ آپ کے اپنے علاقوں میں بھی مساجد موجود ہیں جہاں جمعہ ادا کیا جا سکتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ ایک خاص جذبے اور مقصد کے تحت یہاں آتے ہیں، اور اب ضروری ہے کہ وہ مقصد پورا بھی ہو۔

میرے نزدیک اس مقصد کی تکمیل اسی وقت ہے جب ہم یہاں کی گئی باتوں کو دل میں اُتاریں اور واپسی پر اپنی عملی زندگی میں واضح تبدیلی لے آئیں۔ اگر ہماری زندگی میں کوئی فرق نہ آئے تو لوگ بجا طور پر سوال کریں گے کہ آپ اتنا سفر کر کے آخر حاصل کیا کرتے ہیں۔ اور اگر واقعی کوئی تبدیلی نہ ہو تو یہ اعتراض درست ہوگا۔ یہ طعنہ صرف آپ تک محدود نہیں رہے گا بلکہ مجھ تک بھی پہنچے گا، اور لوگ یہ سمجھیں گے کہ جس سے آپ سننے جاتے ہیں، اگر اس کی بات کا بھی کوئی اثر نہیں تو پھر اس سے بڑھ کر بے عملی کی مثال کیا ہوگی۔

اگر ہم اپنی سنی ہوئی باتوں پر عمل نہ کریں تو پھر لوگوں کا طعنہ دینا بھی بجا ہوگا، اور اس کا اثر مجھ پر بھی آئے گا اور آپ پر بھی۔ لیکن اگر ہم اس صورتحال سے بچنا چاہتے ہیں تو اس کا ایک ہی راستہ ہے: جو کچھ ہم سنتے ہیں، اس پر عمل شروع کر دیں۔ یہی طریقہ ہمارے لیے نجات کا ذریعہ بھی ہے اور عزت کا سبب بھی، اور حقیقت یہ ہے کہ یہ راستہ اتنا مشکل بھی نہیں جتنا ہم سمجھتے ہیں۔

حضرت داتا گنج بخش علی ہجویری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میں نے بہت غور کیا کہ دنیا کا سب سے مشکل کام کیا ہے، تو اپنے تجربے سے یہی پایا کہ انسان کا اپنے علم کے مطابق عمل کرنا سب سے مشکل کام ہے۔ یعنی جو کچھ وہ جانتا ہے، اسی پر عمل کر لے، یہی اصل آزمائش ہے۔ اسی لیے جو لوگ زیادہ علم رکھتے ہیں، وہ زیادہ امتحان میں ہوتے ہیں، اور جو کم جانتے ہیں، وہ کسی حد تک بچ جاتے ہیں۔

اب چونکہ آپ یہاں آتے ہیں، دین کی باتیں سنتے ہیں اور علم حاصل کرتے ہیں، تو آپ پر ذمہ داری بھی بڑھ جاتی ہے۔ پہلے اگر نہ جانتے تو معذور تھے، لیکن اب جب جان گئے ہیں تو اس علم پر عمل کرنا لازم ہو گیا ہے۔ پس کامیابی اسی میں ہے کہ ہم اپنے علم کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لیں اور اپنے اعمال سے اس کا حق ادا کریں۔

بلاگر: ڈاکٹر محمد اقبال چشتی (سینئر ریسرچ اسکالر)

تبصرہ

ویڈیو

Ijazat Chains of Authority
Top