علمِ دین انسان کے باطن کو سنوارتا ہے جبکہ دنیاوی علوم اس کی زندگی کو آسان بناتے ہیں: پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری
وہ علم سب سے افضل ہے جو انسان کو اپنے رب کی معرفت، اخلاق کی اصلاح اور انسانیت کی خدمت کا شعور عطا کرے: صدر منہاج القرآن
اسلام میں علم کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے، کیونکہ علم ہی انسان کی فکری، اخلاقی اور عملی زندگی کو سنوارتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا دنیاوی علوم سیکھنا بھی باعثِ اجر ہو سکتا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ علمِ دین انسان کے باطن کو پاکیزگی، معرفتِ الٰہی اور اخلاقی بلندی عطا کرتا ہے، جبکہ دنیاوی اور سائنسی علوم انسانی زندگی میں سہولت، ترقی اور معاشرتی بہتری کا ذریعہ بنتے ہیں۔ جب انسان ان علوم کو خیرِ عامہ، خدمتِ انسانیت اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لیے استعمال کرتا ہے تو یہی علوم اس کے لیے اجر و ثواب کا سبب بھی بنتے ہیں۔ تاہم سب سے افضل اور بلند تر وہ علم ہے جو انسان کو اپنے رب کی معرفت عطا کرے، اس کے اخلاق و کردار کی اصلاح کرے اور اسے انسانیت کی خدمت اور بھلائی کے راستے پر گامزن کر دے۔ یہی علم درحقیقت انسان کو دنیا میں وقار اور آخرت میں کامیابی عطا کرتا ہے۔
حصولِ علم اور جنت کی بشارت:
پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
مَنْ سَلَكَ طَرِيقًا يَلْتَمِسُ فِيهِ عِلْمًا سَهَّلَ اللَّهُ لَهُ طَرِيقًا إِلَى الْجَنَّةِ
’’جو شخص علم حاصل کرنے کے ارادہ سے چلا، تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت کے راستے کو آسان (و ہموار) کر دیتا ہے۔‘‘
1 - ترمذی، السنن، جلد5، ص 28، رقم: 2646
2 - أحمد بن حنبل، المسند، جلد2، ص 325، رقم: 8299
اس ارشادِ نبوی ﷺ سے معلوم ہوتا ہے کہ علم اور اس کی جستجو محض دنیاوی ترقی کا ذریعہ نہیں بلکہ آخرت کی کامیابی اور جنت کے حصول کی کنجی بھی ہے۔ لہٰذا انسان کو چاہیے کہ وہ اپنے آپ کو علم کی طلب کے ساتھ وابستہ رکھے۔ بے شک عصری علوم بھی اپنی جگہ اہمیت رکھتے ہیں کیونکہ انہی کے ذریعے انسان روزگار حاصل کرتا اور اپنی معاشی و معاشرتی ضروریات پوری کرتا ہے، اور یہ بھی انسان کی ذمہ داریوں میں شامل ہیں۔ تاہم اس حدیث میں جس علم کی طرف خاص طور پر توجہ دلائی گئی ہے وہ دراصل اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی معرفت کا علم، دین کی سمجھ، انسانیت کی خدمت، تہذیبِ نفس، حسنِ اخلاق اور آدابِ زندگی کو سیکھنے کا علم ہے۔ یہی وہ علم ہے جو انسان کی باطنی اصلاح کرتا ہے اور اس کے لیے جنت کا راستہ آسان بنا دیتا ہے۔ دیگر علوم انسان کو دنیا میں سہولتیں اور کامیابی فراہم کرتے ہیں، جیسے ریاضی یا دیگر سائنسی علوم کے ذریعے بہتر روزگار اور معاشی استحکام حاصل ہوتا ہے، لیکن براہِ راست جنت کا راستہ ہموار کرنے والا علم وہی ہے جو انسان کو اپنے رب کی معرفت اور دین کی صحیح سمجھ عطا کرے۔ البتہ یہ دنیاوی علوم بھی بالواسطہ طور پر انسان کو خیر اور بھلائی کے کاموں سے جوڑ دیتے ہیں، جو بالآخر اس کی دنیا اور آخرت دونوں کے لیے مفید ثابت ہوتے ہیں۔
علم کا حقیقی مقصد کیا ہے؟
پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے مزید کہا کہ: اسی طرح دنیا کے سائنسی اور عصری علوم بھی اپنی جگہ بڑی اہمیت رکھتے ہیں، کیونکہ ان کے ذریعے انسان معاشرے کے لیے بے شمار آسانیاں پیدا کرتا ہے۔ جب کوئی شخص اپنے علم اور مہارت کے ذریعے لوگوں کی زندگی میں سہولتیں پیدا کرتا ہے تو وہ عمل بالآخر خیر اور بھلائی کا سبب بنتا ہے اور بسا اوقات صدقۂ جاریہ کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ اس طرح یہ علوم بالواسطہ طور پر انسان کو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی رضا کے راستے سے جوڑ دیتے ہیں۔ تاہم یہاں جس علم کا ذکر کیا جا رہا ہے وہ وہ علم ہے جو براہِ راست انسان کو آدابِ زندگی سکھاتا ہے، اس کی شخصیت کو سنوارتا ہے اور اسے اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں علم اور تقویٰ کے اعلیٰ معیار تک پہنچا دیتا ہے۔ اس کے لیے یہ ضروری نہیں کہ ہر شخص عالمِ دین ہی بن جائے، کیونکہ حصولِ علم کا مطلب یہ نہیں کہ ہر فرد کو باقاعدہ دینی تخصص حاصل کرنا ہی پڑے۔ البتہ اتنا علم ضرور حاصل ہونا چاہیے جو انسان کو اپنے دین، اپنے اخلاق اور اپنے کردار کی درست رہنمائی فراہم کرے۔ مثال کے طور پر اعتکاف کی ان مبارک راتوں میں جب آپ روزانہ شیخ الاسلام کی مجلس میں بیٹھ کر کچھ سیکھتے ہیں تو اس کا مقصد یہ نہیں کہ آپ فوراً عالمِ دین بن جائیں، بلکہ اس کا اصل فائدہ یہ ہے کہ آپ اللہ کے سچے بندے بننے کا راستہ سیکھتے ہیں، اس کی عبدیت کے رموز سمجھتے ہیں اور روحانی منازل کی طرف قدم بڑھاتے ہیں۔ یہی وہ آداب اور تعلیمات ہیں جو انسان کے اندر تقویٰ کو بلند کرتی ہیں اور اس کے دل میں علم کی جستجو، تڑپ اور پیاس پیدا کر دیتی ہیں۔ درحقیقت انہی آدابِ زندگی کو سیکھنا اور اپنانا ہی حقیقی علم کی روح ہے۔
حضور نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے اسے دین کی سمجھ عطا کر دیتا ہے۔ جب کسی شخص کو یہ فہمِ دین نصیب ہو جائے تو اس کی بصیرت روشن ہو جاتی ہے؛ وہ تھوڑا سُن کر بھی زیادہ سمجھنے لگتا ہے اور اپنی زندگی کے معاملات کو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے احکام کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرتا ہے۔ پھر اس کی اندرونی بصیرت اور وجدان پاکیزہ اور بیدار ہو جاتے ہیں۔ چنانچہ اگر کسی مسئلے کی تفصیل اس کے علم میں نہ بھی ہو تو اس کا دل اسے ایسے راستے کی طرف جانے سے روک دیتا ہے جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی رضا کے خلاف ہو۔ یہی وہ فہم اور بصیرت ہے جو اللہ تعالیٰ اپنے خاص فضل سے عطا فرماتا ہے۔
اسی طرح حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص علم کے حصول کے لیے نکلتا ہے وہ اس وقت تک اللہ کی راہ میں رہتا ہے جب تک واپس نہیں لوٹتا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ طلبِ علم محض ایک علمی سرگرمی نہیں بلکہ ایک مقدّس عبادت اور جہاد کے مانند عظیم عمل ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ قرآنِ مجید علم کی فضیلت، معلّم کی عظمت اور تعلیم و تعلّم کے آداب کے بیان سے بھرا ہوا ہے، جو اس بات کی واضح دلیل ہے کہ اسلام میں علم حاصل کرنا اور اس کے آداب کو اپنانا انسان کی روحانی اور اخلاقی بلندی کا بنیادی ذریعہ ہے۔
بلاگر: ڈاکٹر محمد اِقبال چشتی (ریسرچ اسکالر)


















تبصرہ