جو دل اللہ تعالیٰ کی محبت میں سکون پا لیتا ہے، پھر دنیا کے خوف اور غم اُس پر اپنا اَثر کھو دیتے ہیں: پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری
جن لوگوں پر اللہ تعالیٰ اپنا احسانِ عظیم فرماتا ہے، اُن کے دل دنیا کے تمام خوف، غم اور ذہنی دباؤ سے آزاد ہو جاتے ہیں: صدر منہاج القرآن
انسان کی زندگی میں خوف، غم اور ذہنی دباؤ ایسی چیزیں ہیں جو دل کے سکون کو چھین لیتے ہیں، مگر اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے اُن چیزوں سے نجات کا راستہ بھی عطا فرمایا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جب دل اللہ تعالیٰ کی محبت، اُس کی یاد اور اُس پر توکل کے نور سے منوّر ہو جاتا ہے تو دنیا کی پریشانیاں اپنی شدّت کھو دیتی ہیں۔ جن لوگوں پر اللہ ربّ العزّت اپنا احسانِ عظیم فرماتا ہے، اُن کے دل خوف، غم اور ذہنی اضطراب کی زنجیروں سے آزاد ہو جاتے ہیں، اور پھر وہ حالات کے ہجوم میں بھی ایک ایسا باطنی سکون پا لیتے ہیں جو دنیا کی کسی دولت سے حاصل نہیں ہو سکتا۔
اللہ تعالیٰ کی رضا اور قلبی سکون کا راز:
پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ: اللہ ربّ العزّت نے اپنے بندوں کو یہ عظیم خوشخبری سنائی ہے کہ جب بندہ اُس کی رضا حاصل کر لیتا ہے تو وہ اُسے ’’نعمتِ عظیم‘‘ سے نواز دیتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا میں نعمتِ عظیم خوف اور غم سے نجات کا نام ہے۔ انسان کے دل و دماغ پر طاری ہونے والا ذہنی دباؤ، ڈپریشن، بے چینی، فریسٹریشن اور ذہنی اذیت دراصل دوزخ کی ایک جھلک ہے، جس کا کچھ حصہ انسان کو دنیا ہی میں دکھا دیا جاتا ہے۔ زندگی کے اکثر سٹریسز خوف اور غم ہی کے پیدا کردہ ہوتے ہیں۔ کبھی انسان اس خوف میں مبتلا رہتا ہے کہ کہیں اس کی کوئی محبوب چیز چھن نہ جائے، کوئی نعمت ضائع نہ ہو جائے؛ اور یہی خوف اسے اضطراب اور ذہنی دباؤ میں مبتلا کر دیتا ہے۔ پھر جب کوئی نقصان یا تکلیف حقیقت بن کر سامنے آتی ہے تو غم اُس کے دل کو بے سکون کر دیتا ہے۔
مگر جو لوگ صحیح معنوں میں اللہ تعالیٰ پر ایمان لاتے ہیں، اعمالِ صالحہ اختیار کرتے ہیں، اپنی توجہ مکمل طور پر اللہ کی طرف موڑ لیتے ہیں، اُس کے حضور جھک جاتے ہیں اور اُس کی محبت کو اپنی زندگی کا مرکز بنا لیتے ہیں، اللہ تعالیٰ اُنہیں یہ اطمینان عطا فرماتا ہے کہ جب وہ اُن سے راضی ہو جائے گا تو اُنہیں ایسی عظیم نعمت عطا کرے گا جس میں نہ خوف باقی رہے گا اور نہ غم۔
ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے مزید کہا کہ: اس دنیا میں ’’نعمتِ عظیم‘‘ درحقیقت خوف اور غم سے نجات کا نام ہے، جبکہ آخرت کی نعمتیں جنت، جنت الفردوس، دیدارِ الٰہی، حور و قصور، باغاتِ جنت، جنت کی نہریں، دلکش مناظر اور اللہ ربّ العزّت کی قربت ہیں۔ آخرت کی سب سے بڑی سعادت یہ ہوگی کہ بندہ حضور نبی اکرم ﷺ کی بارگاہ میں بیٹھ کر دیدارِ مصطفوی ﷺ سے اپنی روح کو سیراب کرے۔
لیکن اگر یہ سوال کیا جائے کہ دنیا میں اللہ تعالیٰ جب کسی بندے پر خاص احسان فرمانا چاہے تو اُسے کون سی عظیم نعمت عطا کرتا ہے؟ تو اس کا جواب قرآن کے ان الفاظ میں پوشیدہ ہے: لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَلَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ۔ یعنی اللہ تعالیٰ اپنے محبوب بندوں کو دنیا ہی میں خوف اور غم سے آزادی عطا فرما دیتا ہے۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ اُن کی زندگی میں آزمائشیں نہیں آئیں گی، یا اُنہیں خوفناک حالات اور غمگین واقعات پیش نہیں آئیں گے۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ خوف بھی آئے گا، غم بھی آئے گا، مگر اللہ کی رضا اور قربت اُن کے دل کو ایسا مضبوط کر دے گی کہ خوف اور غم اُن کے باطن پر غلبہ حاصل نہیں کر سکیں گے۔ وہ حالات کا سامنا کریں گے، مگر ٹوٹیں گے نہیں؛ آزمائشوں سے گزریں گے، مگر اندر سے بکھریں گے نہیں۔
ذہنی دباؤ؛ دوزخ کی ایک جھلک:
ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے کہا کہ: حضراتِ گرامی قدر! اس حقیقت کو اچھی طرح سمجھ لیجیے کہ دنیا میں انسان پر طاری ہونے والا شدید ذہنی دباؤ، ڈپریشن، بے چینی، فریسٹریشن اور روحانی اذیت دراصل دوزخ کے عذاب کی ایک جزوی جھلک ہے، جسے انسان اسی دنیا میں محسوس کرتا ہے۔ یہ وہ باطنی آگ ہے جو انسان کے سکون کو جلا دیتی اور اُس کے دل و دماغ کو اضطراب میں مبتلا رکھتی ہے۔
مگر جس طرح اللہ تعالیٰ نے آخرت میں جنت کو راحت اور سکون کا مقام بنایا ہے، اسی طرح اُس نے دنیا میں بھی اپنے خاص بندوں کے لیے ایک روحانی جنت رکھی ہے، اور وہ ہے: لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَلَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ۔ جب خوف، غم اور سٹریس انسان کو گھیرنے آتے ہیں تو اللہ تعالیٰ اپنے محبوب بندوں کو اس آیت کی ایک ایسی روحانی ڈھال عطا فرما دیتا ہے جو اُن کے دل کو ٹوٹنے نہیں دیتی۔
جن لوگوں پر اللہ ربّ العزّت اپنا خاص احسان فرماتا ہے، اُنہیں خوف اور غم سے آزادی کی یہ نعمت عطا کر دیتا ہے۔ پھر وہ حالات کے ہجوم میں بھی سکونِ قلب سے جیتے ہیں۔ لیکن یہ مقام محض خواہش سے حاصل نہیں ہوتا؛ اس کے لیے نماز، دعا، ایمان، توکل علی اللہ اور اللہ و رسول ﷺ کی عطا کردہ ہدایات پر استقامت کے ساتھ عمل پیرا ہونا ضروری ہے۔ جب بندہ مسلسل وفاداری اور ثابت قدمی کے ساتھ اس راستے پر چلتا رہتا ہے تو اللہ تعالیٰ اُسے ’’لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَلَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ‘‘ کا عظیم تحفہ عطا فرما دیتا ہے، اور پھر وہ دنیا میں رہتے ہوئے بھی اندر سے بے نیاز اور غموں سے آزاد ہو جاتا ہے۔
بلاگر: ڈاکٹر محمد اِقبال چشتی (ریسرچ اسکالر)


















تبصرہ