جس دل میں حضور نبی اکرم ﷺ کی سچی محبت جاگزیں ہو، اُس کی لغزشیں بھی اُسے رحمتِ مصطفی ﷺ سے محروم نہیں کر سکتیں: شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری
جس شخص کے ایمان کی گواہی خود رسولِ خدا ﷺ دے دیں، اُس سے بڑی سعادت کائنات میں کوئی نہیں: شیخ الاسلام کا خطاب
محبتِ رسول ﷺ محض ایک دعویٰ نہیں بلکہ دل کی وہ کیفیت ہے جو انسان کو بارگاہِ مصطفی ﷺ سے وابستہ کر دیتی ہے۔ صحابۂ کرامؓ کی زندگیاں اس حقیقت کی روشن مثال ہیں کہ اگر دل میں آقا علیہ السلام کی سچی محبت موجود ہو تو انسان کی بشری کمزوریاں بھی رحمتِ مصطفی ﷺ کے دروازے بند نہیں کر سکتیں۔ ایک صحابیؓ، جن سے بعض لغزشیں سرزد ہوئیں، مگر اُن کے دل میں عشقِ رسول ﷺ کی ایسی سوز بھری کیفیت تھی کہ خود حضور نبی اکرم ﷺ نے اُن کے ایمان اور محبت کی گواہی عطا فرمائی۔ یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ محبتِ رسول ﷺ انسان کے باطن کو اللہ کی رحمت سے جوڑ دیتی ہے، اور جس خوش نصیب کے ایمان کی تصدیق خود رسولِ خدا ﷺ فرما دیں، اُس سے بڑھ کر کائنات میں کوئی سعادت، کوئی عظمت اور کوئی کامیابی نہیں۔
بارگاہِ مصطفی ﷺ میں خوش طبعی کی انوکھی خدمت:
مجدّد المئۃ الحاضرۃ حضور شیخ الاسلام دامت برکاتہم العالیۃنے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ: سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ ایک آدمی کے متعلق فرماتے ہیں کہ:
أَنَّ رَجُلًا عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ اسْمُهُ عَبْدَ اللَّهِ وَكَانَ يُلَقَّبُ حِمَارًا وَكَانَ يُضْحِكُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وآلہ وَسَلَّمَ وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وآلہ وَسَلَّمَ قَدْ جَلَدَهُ فِي الشَّرَابِ فَأُتِيَ بِهِ يَوْمًا فَأَمَرَ بِهِ فَجُلِدَ فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ اللَّهُمَّ الْعَنْهُ مَا أَكْثَرَ مَا يُؤْتَى بِهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وآلہ وَسَلَّمَ: لَا تَلْعَنُوهُ، فَوَاللَّهِ، مَا عَلِمْتُ إِنَّهُ يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ
’’نبی کریم صلی اللہ علیہ آلہ وسلم کے زمانہ میں ایک شخص، جس کا نام عبداللہ تھا اور وہ ’حمار‘ کے لقب سے پکارے جاتے تھے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ہنساتے تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اُن کو شراب پینے پر سزا بھی دی تھی، تو اُن کو ایک دن نبی اکرم ﷺ کی بارگاہ میں لایا گیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اُن کے لیے حکم دیا اور اُنہیں سزا دی گئی۔ وہاں بیٹھے حاضرین میں سے ایک شخص نے کہا: اللہ اس پر لعنت کرے! کتنی بار یہ اِسی معاملے میں یہاں لایا جا چکا ہے۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ: اِس پر لعنت نہ کرو، اللہ کی قسم، میں نے اس کے متعلق یہی جانا ہے کہ یہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے۔‘‘ (بخاری، الصحیح، جلد 6، ص 2489، رقم: 6398)
شیخ الاسلام نے اس حدیث کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ حضور نبی اکرم ﷺ کے عہدِ مبارک میں ایک صحابی تھے جن کا خاص معمول یہ تھا کہ وہ بارگاہِ رسالت ﷺ میں حاضر رہتے اور صحابۂ کرامؓ کے ساتھ مجلس میں بیٹھتے۔ تھوڑی تھوڑی دیر بعد وہ کوئی لطیف مزاحیہ بات یا خوش طبعی کا جملہ عرض کر دیتے جسے سُن کر حضور نبی اکرم ﷺ مسکرا دیتے یا ہنس پڑتے۔ اُن کے بارے میں کسی بڑے عبادت گزار، عظیم عالم، مجاہد یا کثرتِ صدقہ و خیرات والے ہونے کا خصوصی تذکرہ منقول نہیں۔ اگر اُن کی کوئی اور نمایاں صفت ہوتی تو سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ ضرور اس کا ذکر فرماتے۔ مگر آپؓ نے صرف یہی بیان کیا کہ وہ ایک ایسے شخص تھے جو حضور ﷺ کو خوش کر دیا کرتے تھے۔
حضور نبی اکرم ﷺ کی مجلس سراسر تعلیم، تربیت، نصیحت اور اصلاح کی مجلس ہوتی تھی۔ لوگ اپنے دینی و دنیاوی مسائل لے کر حاضر ہوتے؛ کوئی قرض کے بوجھ تلے دبا ہوتا، کوئی بیماری اور تکلیف میں مبتلا ہوتا، کسی کے گھریلو مسائل ہوتے اور کوئی اپنے غم و آلام لے کر بارگاہِ مصطفی ﷺ میں حاضر ہوتا۔ حضور ﷺ ہر ایک کی دلجوئی فرماتے، اس کی مشکل سنتے اور اس کی مشکل حل فرماتے۔
دوسری طرف کفار و مشرکین کی سازشیں، امت کی فکری و عملی رہنمائی، جہاد کی تیاری اور اسلامی معاشرے کی تعمیر جیسے عظیم اُمور بھی حضور ﷺ کی ذمہ داریوں میں شامل تھے۔ اس وجہ سے آپ ﷺ کی روزمرہ زندگی نہایت مصروف اور سنجیدہ ہوتی تھی۔
وہ صحابی یہ محسوس کرتے تھے کہ سارا دن لوگ اپنے غم اور پریشانیاں لے کر آتے ہیں، مگر کوئی ایسا نہیں جو حضور ﷺ کے قلبِ مبارک کو کچھ دیر کے لیے راحت اور تازگی فراہم کرے۔ چنانچہ وہ موقع دیکھ کر کوئی لطیف مزاحیہ بات عرض کر دیتے تاکہ حضور نبی اکرم ﷺ مسکرا دیں۔ وہ سمجھتے تھے کہ اگر آقا ﷺ کے لبوں پر مسکراہٹ آ گئی ہے تو شاید امت کے غموں کا کچھ بوجھ بھی ہلکا ہو گیا ہوگا۔ گویا ان کی خوش طبعی کا مقصد صرف یہ تھا کہ وہ اپنے محبوب آقا ﷺ کے قلبِ اطہر کو کچھ دیر کے لیے راحت اور فرحت پہنچا سکیں۔
شیخ الاسلام نے مزید کہا کہ کسی شخص کو صرف اس نیت سے خوش رکھنے کی کوشش کرنا کہ اُس کی تھکن کم ہو جائے، اُس کے ذہنی بوجھ میں کمی آ جائے اور اُسے کچھ راحت و سکون ملے، یہ معمولی بات نہیں۔ انسان کسی کے لیے ایسا اُس وقت تک نہیں سوچ سکتا جب تک اُس کے دل میں حقیقی محبت، گہرا تعلق اور درد مندانہ concern موجود نہ ہو۔ وہ صحابی حضور نبی اکرم ﷺ کے ساتھ بے پناہ محبت اور قلبی اُلفت رکھتے تھے۔ اُن کے دل میں یہ احساس تھا کہ آقا علیہ السلام سارا دن امت کے غم اور پریشانیاں اٹھاتے ہیں، اس لیے وہ چاہتے تھے کہ کسی نہ کسی طرح حضور نبی اکرم ﷺ کے قلبِ مبارک کو کچھ دیر کے لیے راحت اور فرحت پہنچے۔
سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ وہی شخص شراب نوشی کے جرم میں حضور نبی اکرم ﷺ کی بارگاہ میں لایا گیا۔ اس پر حد جاری کی گئی اور اسے کوڑوں کی سزا دی گئی۔ یہ واقعہ ایک سے زیادہ مرتبہ پیش آیا۔
ایک دن صحابۂ کرامؓ کی مجلس میں اس کا ذکر ہو رہا تھا تو ایک شخص نے غصے میں کہا: اے اللہ! اس پر لعنت فرما، یہ بار بار سزا پانے کے باوجود باز نہیں آتا۔ حضور نبی اکرم ﷺ نے جب یہ بات سنی تو فورًا منع فرما دیا اور ارشاد فرمایا: خبردار! اس پر لعنت نہ کرو، اللہ کی قسم! میں جانتا ہوں کہ یہ شخص اللہ اور اُس کے رسول ﷺ سے محبت کرتا ہے۔
یوں آقا علیہ السلام نے امت کو یہ درس دیا کہ کسی انسان کی لغزش دیکھ کر اُسے رحمتِ الٰہی سے محروم نہ سمجھو، کیونکہ محبتِ رسول ﷺ انسان کے باطن کی ایک عظیم حقیقت ہوتی ہے۔
محبتِ رسول ﷺ؛ ایمان کی سب سے بڑی دلیل:
شیخ الاسلام نے مزید کہا کہ: حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ یہ شخص اللہ اور اُس کے رسول ﷺ سے محبت کرتا ہے۔ اس کے گناہ اپنی جگہ اور اُن کی سزا اپنی جگہ، مگر صرف گناہوں کی بنا پر کسی شخص پر لعنت کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، خصوصًا اُس شخص پر جس کے دل میں محبتِ رسول ﷺ موجود ہو۔
پھر غور کیجیے کہ حضور علیہ السلام نے اس شخص کے بارے میں قسم کھا کر گواہی دی کہ وہ اللہ اور اُس کے رسول ﷺ سے محبت کرتا ہے۔ درحقیقت اللہ تعالیٰ کا نام حضور نبی اکرم ﷺ کے نامِ مبارک کے ساتھ اس لیے ذکر کیا جاتا ہے تاکہ لوگوں کے دلوں میں مقامِ مصطفی ﷺ کی عظمت اور زیادہ نمایاں ہو جائے۔
قرآن و حدیث میں جب بھی ایمان، محبت، ادب، تعظیم یا اطاعتِ رسول ﷺ کا ذکر آتا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنے محبوب ﷺ کا ذکر اپنے ذکر کے ساتھ فرماتا ہے۔ اس کا مقصد یہ بتانا ہے کہ رسول ﷺ کی محبت دراصل اللہ کی محبت ہے، رسول ﷺ کا ادب حقیقت میں اللہ ہی کا ادب ہے، اور رسول ﷺ کی عزت و حرمت دراصل اللہ کی عزت و حرمت سے وابستہ ہے۔
اسی طرح رسول اکرم ﷺ کی بے ادبی، مخالفت یا اذیت صرف حضور ﷺ کی گستاخی نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا سبب بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ رب العزت نے اپنے محبوب ﷺ کے مقام و مرتبے کو بلند کرنے کے لیے اپنے ذکر کے ساتھ ذکرِ مصطفی ﷺ کو ملا دیا۔ یہی مفہوم قرآن مجید کی اس آیت میں بیان ہوا:
وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ
اور ہم نے آپ کے ذکر کو بلند کر دیا۔
یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب ﷺ کے ذکر کو اس قدر بلند فرما دیا کہ جہاں اللہ کا ذکر ہوتا ہے وہاں رسول ﷺ کا ذکر بھی ساتھ ہوتا ہے، اور جہاں رسول ﷺ کا ذکر ہوتا ہے وہاں اللہ کا نام بھی جگمگاتا ہے۔ پس جس بلندی سے ذکرِ الٰہی سرفراز ہے، اُسی رفعت سے ذکرِ مصطفی ﷺ بھی سرفراز ہے۔
حضور نبی اکرم ﷺ کا مقصود یہ تھا کہ لوگوں کو یہ حقیقت سمجھا دی جائے کہ اگر کسی انسان کے اعمال میں کمزوریاں موجود ہوں، لیکن اُس کے دل میں سچی محبتِ رسول ﷺ ہو تو یہ محبت اُس کے ایمان کی عظیم دلیل ہے۔ چنانچہ آقا علیہ السلام نے قسم کھا کر اُس شخص کے ایمان کی گواہی دی، اور جس کے ایمان کی گواہی خود رسولِ خدا ﷺ دے دیں، اُس سے بڑی شہادت اور کیا ہو سکتی ہے۔
بلاگر: ڈاکٹر محمد اقبال چشتی (سینئر ریسرچ اسکالر)


















تبصرہ