حُسنِ اَدب اور اعتدال وہ اوصاف ہیں جو انسان کو صرف مہذّب نہیں بلکہ نبوی اَخلاق کا وارث بناتے ہیں: شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری
جب انسان اَدب سے خالی ہو جاتا ہے تو درحقیقت وہ دین کی روح سے بھی خالی ہو جاتا ہے: شیخ الاسلام کا خطاب
دینِ اسلام کی تعلیمات میں علم کے ساتھ ادب کو بنیادی حیثیت حاصل ہے، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ علم کی حقیقی تأثیر اسی وقت ظاہر ہوتی ہے جب وہ حُسنِ ادب اور پاکیزہ اخلاق کے ساتھ آراستہ ہو۔ اسی لیے اکابرِ امت اور سلفِ صالحین ہمیشہ اس بات پر زور دیتے رہے کہ علم حاصل کرنے سے پہلے انسان اپنے ظاہر و باطن کو سنوارے اور اپنے کردار کو مکارمِ اخلاق سے مزین کرے۔ دراصل حُسنِ ادب اور اعتدال وہ اوصاف ہیں جو انسان کو صرف مہذّب نہیں بناتے بلکہ اسے نبوی اخلاق کا وارث بنا دیتے ہیں۔ جب انسان کے اندر ادب، وقار اور اخلاق کی روشنی ہوتی ہے تو اس کا علم بھی لوگوں کے لیے ہدایت اور خیر کا سبب بن جاتا ہے؛ لیکن اگر علم ادب سے خالی ہو تو وہ اپنی برکت کھو بیٹھتا ہے۔ اسی لیے کہا گیا ہے کہ جب انسان ادب سے محروم ہو جاتا ہے تو درحقیقت وہ دین کی روح سے بھی خالی ہو جاتا ہے۔ لہٰذا علم کی حقیقی بنیاد ادب، حیا اور حُسنِ سیرت پر قائم ہے، اور یہی وہ راستہ ہے جو انسان کو علم کے نور اور دین کی حقیقی روح تک پہنچاتا ہے۔
اسلام میں اَدب اور میانہ روی کی اہمیت:
مجدّد المئۃ الحاضرۃ حضور شیخ الاسلام دامت برکاتہم العالیۃنے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ: آقا علیہ السلام نے اپنی تعلیمات کے ذریعے واضح فرمایا کہ دینِ اسلام کی بنیاد محض ظاہری اعمال پر نہیں بلکہ حُسنِ ادب، عمدہ اخلاق اور متوازن طرزِ زندگی پر قائم ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:
إِنَّ الْهَدْيَ الصَّالِحَ، وَالسَّمْتَ الصَّالِحَ، وَالِاقْتِصَادَ، جُزْءٌ مِنْ خَمْسَةٍ وَعِشْرِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ.
’’راست روی، خوش خلقی اور میانہ روی نبوت کا پچیسواں حصہ ہے۔‘‘
1 - بخاری، الادب المفرد، ص 276، رقم: 791
2 - مالک، الموطأ، جلد2، ص 955، رقم: 1712
3 - أحمد بن حنبل، المسند، جلد 1، ص 296، رقم: 2698
4 - أبو داود، السنن، جلد4، ص 247، رقم: 4776
اس فرمانِ نبوی کی توضیح کرتے ہوئے شیخ الاسلام بیان کرتے ہیں کہ یہاں اَلْهَدْيُ الصالح اور السَّمْت الصالح دونوں الفاظ حُسنِ ادب اور پاکیزہ سیرت کی طرف اشارہ کرتے ہیں، جبکہ الاقتصاد سے مراد گفتگو، فکر، دعوت اور طرزِ عمل میں اعتدال قائم رکھنا ہے؛ یعنی نہ افراط میں پڑنا اور نہ تفریط کا شکار ہونا۔ دراصل یہ اوصاف اُن بنیادی خصائل میں سے ہیں جو انبیاء علیہم السلام کی شان اور نبوت کے لازمی تقاضوں میں شامل ہیں۔ گویا دین کی اصل روح ہی حُسنِ ادب اور اعتدال پر قائم ہے۔ جب انسان ادب اور اخلاق سے خالی ہو جاتا ہے تو حقیقت میں وہ دین کی روح سے بھی خالی ہو جاتا ہے۔ اسی لیے اسلام نے نہ صرف عام انسانوں بلکہ اہلِ علم اور اہلِ دعوت کے لیے بھی مخصوص آداب مقرر کیے ہیں تاکہ علم، دعوت اور کردار ہر سطح پر نبوی اخلاق کی خوشبو سے معطر رہیں۔
علم سے پہلے اَدب: سلف صالحین کا مَنہج:
شیخ الاسلام نے مزید کہا کہ: علم اُس وقت تک حقیقی معنوں میں علمِ نافع نہیں بنتا جب تک وہ مکارمِ اخلاق اور حُسنِ ادب کے لباس سے آراستہ نہ ہو۔ اگر علم رکھنے والے کے ظاہر و باطن میں اچھے آداب نہ ہوں تو اس کا علم اپنی اصل تاثیر کھو دیتا ہے۔ اہلِ علم کے لیے ضروری ہے کہ اُن کے چہرے پر خوش اخلاقی، مسکراہٹ اور طلاقت ہو، نہ کہ خشکی اور سختی۔ ان کی طبیعت دوسروں کے لیے راحت اور سلامتی کا سبب بنے، وہ اپنے غصے پر قابو رکھیں اور کسی کی دل آزاری کا باعث نہ بنیں۔ جب وہ گفتگو کریں یا لوگوں کو دین کی دعوت دیں تو اعتدال، نرمی اور حکمت کے ساتھ کریں۔ اگر کوئی زیادتی کرے تو صبر اور برداشت سے کام لیں، انصاف کو ہمیشہ مقدّم رکھیں اور لوگوں کے لیے آسانی اور محبت پیدا کریں۔ اُن کے دل حسد، بغض اور کینہ سے پاک ہوں اور ان کے اندر تکبر، ریاکاری، خود پسندی اور بخل نہ ہو۔ اسی طرح طمع، لالچ، دنیا کی حرص اور اپنی تعریف کی خواہش بھی ان کے مزاج کا حصہ نہ بنے۔ ان کی گفتگو سچائی، شائستگی اور پاکیزگی سے مزین ہو، نہ کہ جھوٹ، فحش کلامی یا گالی گلوچ سے۔ علماء، اولیاء اور سلفِ صالحین کا کہنا ہے کہ جب تک انسان کے اندر یہ ظاہری و باطنی آداب اور اخلاق پیدا نہ ہوں، اسے دین کی دعوت دینے کے لیے آگے نہیں بڑھنا چاہیے۔ اسی لیے پہلے زمانوں میں سلفِ صالحین علم حاصل کرنے سے پہلے اپنے ادب اور کردار کو سنوارنے میں طویل عرصہ صرف کرتے تھے، کیونکہ ان کے نزدیک علم سے پہلے ادب اور کردار کی اصلاح ضروری تھی۔
تابعین کے عظیم امام حضرت امام حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ سے منقول ہے کہ وہ فرمایا کرتے تھے: ہمارے زمانے میں لوگ علم حاصل کرنے سے پہلے برسوں تک ادب سیکھتے تھے، حیا کو اپناتے تھے اور اپنی سیرت و کردار کو سنوارتے تھے۔ یعنی اس دور میں علم سے زیادہ اہمیت انسان کے اخلاق، وقار اور باطنی تربیت کو دی جاتی تھی، کیونکہ یہی چیز علم کو نفع بخش بناتی ہے۔ اسی طرح امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے کہ مجھے فقہی مسائل کی مجلس سے بھی زیادہ وہ مجلس محبوب ہے جس میں اولیاء، صلحاء اور نیک لوگوں کے واقعات اور حکایات بیان کی جائیں، کیونکہ ان حکایات سے انسان کو زندگی گزارنے کا ادب اور سلیقہ سیکھنے کو ملتا ہے، اور حقیقت یہ ہے کہ ادب ہی دین کی روح اور جان ہے۔
اسی طرح امام مالک رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ میری والدہ مجھے نصیحت کیا کرتی تھیں کہ بیٹے! حضرت ربیعہ کی مجلس میں جایا کرو، ان کے پاس بیٹھا کرو اور ان سے علم حاصل کرنے سے پہلے ادب سیکھو۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اکابرِ امت کے نزدیک علم سے پہلے کردار کی تربیت ضروری تھی۔ کیونکہ جس شخص کے پاس ادب نہ ہو، اس کا علم اس کے لیے فائدہ کے بجائے نقصان کا سبب بن جاتا ہے۔ گویا ادب کے بغیر علم ایسے سانپ کی مانند ہو جاتا ہے جو اپنے ہی مالک کو ڈس لیتا ہے، جبکہ ادب کے ساتھ علم انسان کے لیے ہدایت، نور اور خیر کا ذریعہ بن جاتا ہے۔
حضرت عبد الرحمن بن قاسم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ مجھے تقریباً بیس سال تک حضرت امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کی صحبت میں رہنے کا شرف حاصل ہوا۔ ان بیس برسوں میں سے اٹھارہ سال میں نے صرف اُن سے ادب، اخلاق اور طرزِ زندگی سیکھنے میں صرف کیے جبکہ محض دو سال علم، کتب اور روایات کے حصول میں لگائے۔ جب زندگی کے آخری لمحات قریب آئے تو وہ رقتِ قلب سے رو پڑے اور فرمایا کرتے تھے: آج دل چاہتا ہے کہ کاش وہ آخری دو سال بھی علم کے بجائے ادب سیکھنے میں لگا دیتا، کیونکہ جو فائدہ ادب سیکھنے سے حاصل ہوتا ہے وہ محض علم حاصل کرنے سے نہیں ملتا۔
درحقیقت اگر علم ہو مگر ادب نہ ہو تو وہ انسان کے لیے زہر اور سانپ کی مانند ہو جاتا ہے جو خود اپنے مالک کو ڈس لیتا ہے، لیکن اگر ادب موجود ہو اور علم کم بھی ہو تو اس کے باوجود فائدہ ہی فائدہ ہے، کیونکہ ادب کے ساتھ حُسنِ سیرت، اعلیٰ اخلاق، حیا اور پاکیزہ عادات پیدا ہوتی ہیں، اور یہی دراصل دین کی اصل روح ہیں۔ اسی حقیقت کو بیان کرتے ہوئے حضرت عبد اللہ بن مبارک رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: لوگو! حقیقت یہ ہے کہ دین کا دو تہائی حصہ ادب پر مشتمل ہے۔ اسی لیے سلف صالحین کہا کرتے تھے کہ ادب کا ایک باب سیکھ لینا ہمیں علم کے ستر ابواب سیکھنے سے بھی زیادہ محبوب ہے، کیونکہ ادب ہی وہ بنیاد ہے جو علم کو نافع، مؤثر اور بابرکت بناتی ہے۔
بلاگر: ڈاکٹر محمد اقبال چشتی (سینئر ریسرچ اسکالر)


















تبصرہ