اللہ تعالیٰ نے انسانی دماغ کی فطری ساخت کو سچائی کے ساتھ ہم آہنگ بنایا ہے، جہاں سچ بولنا اُس کی اصل اور طبعی کیفیت ہے: شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری
سچ بولنے میں دماغ کو کم محنت کرنا پڑتی ہے، اس لیے وہ فطری طور پر اُسے آسان محسوس کرتا ہے: شیخ الاسلام کا خطاب
انسانی دماغ کی فطری ساخت سچائی کے ساتھ ہم آہنگ رکھی گئی ہے، یہی وجہ ہے کہ سچ بولنا اس کی اصل اور طبعی کیفیت ہے۔ سائنسی تحقیق بھی اس حقیقت کی تائید کرتی ہے کہ سچ بولنے کے عمل میں دماغ کو نسبتًا کم محنت درکار ہوتی ہے، اسی لیے یہ عمل اس کے لیے زیادہ آسان اور فطری محسوس ہوتا ہے۔ اس کے برعکس جھوٹ نہ صرف ذہنی بوجھ میں اضافہ کرتا ہے بلکہ انسانی صلاحیتوں کو رفتہ رفتہ کمزور بھی کرتا ہے۔ یہی نکتہ ہمیں یہ سمجھنے میں مدد دیتا ہے کہ جھوٹ کس طرح انسان کی فکری، ذہنی اور عملی قوتوں کو متاثر کرتا ہے اور سچائی کیوں اس کی اصل طاقت اور توازن کی بنیاد ہے۔
انسانی دماغ کی فطری سچائی اور سائنسی حقیقت:
مجدّد المئۃ الحاضرۃ حضور شیخ الاسلام دامت برکاتہم العالیۃنے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ: جدید علم الاعصاب (Neuroscience) اور نفسیات (Psychology) کے مطابق ایک تسلیم شدہ نظریہ Cognitive Load Theory یعنی ’’ذہنی دباؤ کا نظریہ‘‘ یہ واضح کرتا ہے کہ انسانی دماغ اپنی فطری ساخت کے اعتبار سے سچائی کی طرف مائل ہوتا ہے۔ جدید تحقیقات سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کا دماغ اپنی اصل اور طبعی حالت (default setting) میں سچ بولنے کو زیادہ آسان اور کم مشقت طلب سمجھتا ہے۔ چاہے انسان کسی بھی مذہب، ماحول یا معاشرے سے تعلق رکھتا ہو، اس کے دماغ کی بنیادی ساخت سچائی کے ساتھ ہم آہنگ ہوتی ہے۔ اس کے برعکس جھوٹ بولنا اضافی ذہنی دباؤ اور پیچیدگی پیدا کرتا ہے، کیونکہ اس کے لیے دماغ کو غیر فطری طور پر زیادہ محنت کرنا پڑتی ہے۔
اَب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر ایسا کیوں ہے؟ سچ بولنے میں دماغ کو آسانی کیوں محسوس ہوتی ہے؟ آئیے اسے تدریج کے ساتھ سمجھتے ہیں۔ سادہ جواب یہ ہے کہ سچ بولنے میں دماغ کو کم محنت کرنا پڑتی ہے۔ اس پر بوجھ کم ہوتا ہے، اعصاب پُرسکون رہتے ہیں اور نفسیاتی توازن برقرار رکھنا آسان ہو جاتا ہے۔ یہی سچائی کی ایک بڑی سہولت ہے۔
اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ جھوٹ بولنے میں دماغ کو کیا دشواری پیش آتی ہے؟ مختصرًا یہ سمجھ لیجیے کہ جب انسان جھوٹ بولتا ہے تو اس کے دماغ پر کام کا بوجھ بڑھ جاتا ہے، جسے cognitive overload کہا جاتا ہے۔ سب سے پہلے دماغ کو اصل سچائی کو دبانا پڑتا ہے، کیونکہ سچ تو اُسے پہلے سے معلوم ہوتا ہے۔ اس کے بعد ایک فرضی کہانی گھڑنی پڑتی ہے۔ چونکہ یہ جھوٹ ہوتا ہے اور دماغ کے اصل حافظے میں موجود نہیں ہوتا، اس لیے اسے یاد رکھنے کے لیے اضافی محنت درکار ہوتی ہے۔ پھر یہ خوف بھی لاحق رہتا ہے کہ کہیں جھوٹ پکڑا نہ جائے، جس کے لیے مزید ذہنی تدابیر اختیار کرنا پڑتی ہیں۔ یوں جھوٹ کی خاطر دماغ کو غیر معمولی مشقت اٹھانی پڑتی ہے۔
اب ذرا اس معاملے کو کچھ تفصیل سے سمجھتے ہیں تاکہ اس کی نفسیاتی اور اعصابی گہرائی واضح ہو جائے اور بات ذہن نشین ہو جائے۔ یہاں صرف وہی نکات بیان کیے جا رہے ہیں جو سو فیصد سائنسی طور پر ثابت شدہ ہیں، ان میں کوئی مبالغہ شامل نہیں۔ جدید تحقیق میں ایک اہم طریقۂ کار fMRI (functional magnetic resonance imaging) ہے، جو دراصل دماغ کی کارکردگی کو جانچنے کی ایک خاص قسم کی اسکیننگ ہے۔ یہ عام MRI کی طرح ہی ہوتا ہے، مگر اس میں دماغ کی فعالیت (function) کو بھی دیکھا جاتا ہے۔
جھوٹ بولنے کے دماغ پر اثرات:
شیخ الاسلام نے مزید کہا کہ: سچ بولنے سے انسان کو ہمہ جہت راحت نصیب ہوتی ہے؛ روحانی، جسمانی، ذہنی اور نفسیاتی سطح پر۔ یہ سکون صرف ظاہری نہیں ہوتا بلکہ باطن میں ایک گہرا اطمینان پیدا کرتا ہے، جو انسان کی طبیعت اور ضمیر کو مطمئن رکھتا ہے۔ یہی اندرونی سکون انسان کو نیکی، خیر اور مثبت اعمال کی طرف مائل کرتا ہے۔ اس کے برعکس جھوٹ انسان کے اس پورے نظامِ سکون کو درہم برہم کر دیتا ہے۔ جھوٹ بولنے والا شخص بظاہر مطمئن نظر آ سکتا ہے، مگر وہ کبھی بھی اپنے باطن کے حقیقی سکون سے لطف اندوز نہیں ہو پاتا۔
یہ بات اپنی جگہ کہ بعض معاشرتی حالات ایسے ہو جاتے ہیں جہاں سچ اور جھوٹ کی تمیز دھندلا جاتی ہے، اور کبھی یوں محسوس ہوتا ہے جیسے سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ بنا دیا گیا ہو۔ مگر یہ ایک الگ پہلو ہے۔ سائنسی حقائق اپنی جگہ قائم ہیں۔ جدید تحقیقات، خصوصًا cognitive psychology کے میدان میں، واضح کرتی ہیں کہ جھوٹ بولنا دماغ کے ذہنی وسائل پر زیادہ بوجھ ڈالتا ہے۔ اس کے مقابلے میں سچ بولنا ایک سادہ اور کم توانائی طلب عمل ہے۔
تحقیقات سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ جھوٹ بولنے کے دوران دماغ کو کئی اضافی کام انجام دینے پڑتے ہیں، جس سے وہ غیر معمولی طور پر مصروف (engaged) اور بوجھل (overburdened) ہو جاتا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ وہ کون سے کام ہیں جو دماغ کو کرنے پڑتے ہیں؟ اس کی مختصر وضاحت پہلے کی جا چکی ہے، اب اسے cognitive psychology کی روشنی میں مزید واضح کیا جائے گا تاکہ بات پوری طرح ذہن نشین ہو جائے۔
جھوٹ بولنا بظاہر ایک سادہ عمل دکھائی دیتا ہے، مگر حقیقت میں یہ انسانی دماغ کے لیے نہایت پیچیدہ اور مشقت طلب مرحلہ ہوتا ہے۔ جب کوئی شخص جھوٹ بولتا ہے تو اس کے دماغ کو بیک وقت کئی اضافی کام انجام دینا پڑتے ہیں، جنہیں سائنسی اصطلاح میں executive control کہا جاتا ہے۔ یہ تمام عمل دماغ کے اگلے حصے، یعنی prefrontal cortex میں تیزی سے وقوع پذیر ہوتے ہیں، جس کے نتیجے میں ذہنی دباؤ اور محنت بڑھ جاتی ہے۔
سب سے پہلے دماغ کو اصل سچائی کو دبانا پڑتا ہے، کیونکہ وہ پہلے سے اس کے حافظے میں محفوظ ہوتی ہے۔ اس کے بعد دماغ کو اس سچ کو ذہن میں رکھتے ہوئے مسلسل قابو میں بھی رکھنا پڑتا ہے تاکہ کہیں وہ غیر ارادی طور پر ظاہر نہ ہو جائے۔ پھر جھوٹ کے لیے ایک نئی اور مصنوعی کہانی تخلیق کی جاتی ہے، جو ظاہر ہے کہ حقیقت پر مبنی نہیں ہوتی۔ چونکہ یہ کہانی دماغ کے بنیادی ذخیرے میں موجود نہیں ہوتی، اس لیے اسے یاد رکھنے کے لیے اضافی محنت درکار ہوتی ہے، تاکہ ہر بار بیان کرتے وقت وہی تسلسل برقرار رہے۔
مزید یہ کہ دماغ کو سامع کے ردِ عمل پر بھی گہری نظر رکھنی پڑتی ہے کہ کہیں اسے شک تو نہیں ہو رہا۔ اس کے ساتھ ساتھ مستقبل میں بھی اسی جھوٹ کو دہراتے وقت تضاد سے بچنے کے لیے ذہنی ہم آہنگی قائم رکھنا ضروری ہوتا ہے۔ یوں جھوٹ بولنے کا ایک عمل درحقیقت کئی پیچیدہ ذہنی سرگرمیوں کا مجموعہ بن جاتا ہے، جو دماغ پر غیر معمولی بوجھ ڈال دیتا ہے۔
سچ بولنے والا دماغ: ایک پرسکون نظام:
شیخ الاسلام نے آخر میں کہا کہ: اس کے برعکس اگر ہم سچ بولنے والے کی حالت دیکھیں تو تصویر بالکل مختلف نظر آتی ہے۔ جو شخص ہمیشہ سچائی اختیار کرتا ہے، اسے اُن اضافی ذہنی سرگرمیوں سے نجات مل جاتی ہے جو جھوٹ کے وقت دماغ پر بوجھ بن جاتی ہیں۔ یہی نجات دراصل ذہنی سکون اور راحت کا سبب بنتی ہے۔
سچ بولنے کے دوران دماغ کو صرف ایک سادہ سا کام کرنا ہوتا ہے: اصل واقعے کو اپنے حافظے (storage) سے نکالنا اور اُسی طرح بیان کر دینا۔ نہ کوئی نئی کہانی گھڑنی پڑتی ہے، نہ کسی سچ کو دبانا پڑتا ہے، نہ کسی مصنوعی تسلسل کو برقرار رکھنے کی فکر ہوتی ہے۔ اسی طرح نہ سامع کے ردِ عمل پر غیر معمولی نظر رکھنے کی ضرورت پیش آتی ہے اور نہ ہی آئندہ تضاد سے بچنے کی کوئی اضافی تدبیر کرنی پڑتی ہے۔
چونکہ سچ پہلے ہی دماغ میں محفوظ ہوتا ہے، اس لیے اسے بیان کرتے وقت نہ کوئی رکاوٹ پیش آتی ہے اور نہ ذہنی کشمکش پیدا ہوتی ہے۔ یوں دماغ کی مجموعی سرگرمی کم رہتی ہے اور پیچیدگی میں نمایاں کمی آ جاتی ہے۔ اسی کیفیت کو سائنسی اصطلاح میں cognitive load کا کم ہونا کہا جاتا ہے، جو انسان کے ذہنی سکون اور توازن کا باعث بنتا ہے۔
بلاگر: ڈاکٹر محمد اقبال چشتی (سینئر ریسرچ اسکالر)


















تبصرہ