سیدنا ابراہیم علیہ السلام کا دسترخوان صرف کھانے کی جگہ نہیں تھا، بلکہ محبت، سخاوت اور انسان دوستی کا عملی درس گاہ تھا: شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری

مورخہ: 03 جون 2026ء

جو رب اپنے منکروں کو بھی عمر بھر رزق دیتا ہے، اُس کی رحمت کے دروازے کسی پر بند نہیں ہوتے:شیخ الاسلام کا خطاب

حضرت ابراہیم علیہ السلام کی مہمان نوازی اس قدر مشہور تھی کہ جب تک کوئی مہمان آپ کے دسترخوان پر شریک نہ ہوتا، آپ کھانا تناول نہ فرماتے۔ ایک روز ایک مجوسی کے ساتھ پیش آنے والے واقعے میں اللہ تعالیٰ نے اپنے خلیل کو یہ سبق عطا فرمایا کہ جس رب کی رحمت اپنے منکروں اور نافرمانوں کو رزق، مہلت اور نعمتوں سے محروم نہیں کرتی، اس کی بندہ نوازی کا دائرہ کتنا وسیع ہوگا۔ یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ حُسنِ اخلاق، وسعتِ قلب اور رحمت و شفقت سے پیش آنا دلوں کو فتح کرنے کا وہ ذریعہ ہے جو کبھی کبھی طویل وعظ و نصیحت سے بھی زیادہ مؤثر ثابت ہوتا ہے۔

سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی مہمان نوازی:

مجدّد المئۃ الحاضرۃ حضور شیخ الاسلام دامت برکاتہم العالیۃنے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ: سیدنا ابراہیم علیہ السلام کا یہ معمول تھا کہ:

كَانَ لَا يَأْكُلُ وَحْدَهُ، فَإِذَا حَضَرَ طَعَامُهُ أَرْسَلَ يَطْلُبُ مَنْ يَأْكُلُ مَعَهُ

’’حضرت ابراہیم علیہ السلام کی عادتِ کریمانہ یہ تھی کہ کبھی اکیلے کھانا تناول نہ فرماتے۔ جب دسترخوان پر کھانا لگ جاتا تو کسی ہم نشین اور مہمان کی تلاش میں آدمی روانہ کرتے تاکہ وہ اُن کے ساتھ کھانے میں شریک ہو۔‘‘ (قرطبی، الجامع لأحکام القرآن، جلد9، ص 68)

یعنی سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی عادتِ مبارکہ یہ تھی کہ وہ کبھی تنہا کھانا نہیں کھاتے تھے۔ جب تک کوئی مہمان دسترخوان پر ان کے ساتھ شریک نہ ہوتا، وہ کھانے کے لیے ہاتھ نہ بڑھاتے۔ گویا آپ اپنے کھانے کا ہر لقمہ دوسروں کے ساتھ بانٹنے کا اہتمام فرماتے تھے۔ ایک مرتبہ ایسا ہوا کہ مسلسل تین دن گزر گئے، مگر کوئی مہمان آپ کے ہاں نہ آیا۔ اس پر آپ کو بڑی تشویش ہوئی۔ چنانچہ آپ خود گھر سے نکلے تاکہ کسی مسافر یا مہمان کو تلاش کرکے اپنے ساتھ لے آئیں۔ راستے میں آپ کی نظر ایک شخص پر پڑی، آپ اسے محبت اور اکرام کے ساتھ اپنے گھر لے آئے تاکہ وہ آپ کے ساتھ کھانے میں شریک ہو سکے۔

فَلَمَّا جَلَسَ مَعَهُ عَلَى الطَّعَامِ، قَالَ لَهُ إِبْرَاهِيمُ: سَمِّ اللَّهَ. قَالَ الرَّجُلُ: لَا أَدْرِي مَا اللَّهُ. فَقَالَ لَهُ: فَاخْرُجْ عَنْ طَعَامِي. فَلَمَّا خَرَجَ نَزَلَ إِلَيْهِ جِبْرِيلُ، فَقَالَ لَهُ: يَقُولُ اللَّهُ: إِنَّهُ يَرْزُقُهُ عَلَى كُفْرِهِ مَدَى عُمُرِهِ، وَأَنْتَ بَخِلْتَ عَلَيْهِ بِلُقْمَةٍ. فَخَرَجَ إِبْرَاهِيمُ فَزِعًا يَجُرُّ رِدَاءَهُ، وَقَالَ: ارْجِعْ. فَقَالَ: لَا أَرْجِعُ حَتَّى تُخْبِرَنِي لِمَ رَدَدْتَنِي لِغَيْرِ مَعْنًى. فَأَخْبَرَهُ بِالْأَمْرِ، فَقَالَ: هَذَا رَبٌّ كَرِيمٌ، آمَنْتُ. وَدَخَلَ وَسَمَّى اللَّهَ وَأَكَلَ مُؤْمِنًا.

’’پھر جب وہ شخص حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ دسترخوان پر بیٹھا تو آپ نے فرمایا: اللہ کا نام لے کر کھانا شروع کرو۔ اس نے جواب دیا: میں نہیں جانتا کہ اللہ کون ہے۔ یہ سن کر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا: تو پھر میرے کھانے سے اٹھ جاؤ۔ (قرطبی، الجامع لأحکام القرآن، جلد9، ص 68)

جب وہ شخص وہاں سے چلا گیا تو حضرت جبریل علیہ السلام حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس حاضر ہوئے اور عرض کیا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: یہ شخص اپنی پوری عمر میرے ساتھ کفر کرنے کے باوجود میری رزق رسانی سے محروم نہیں ہوا، میں اسے مسلسل رزق دیتا رہا، اور تم ایک لقمہ کھلانے میں اس سے اجتناب کر گئے۔

یہ سن کر حضرت ابراہیم علیہ السلام گھبرا کر فورًا اُٹھے، اس قدر عجلت میں کہ اپنی چادر گھسیٹتے ہوئے اس شخص کے پیچھے نکل پڑے، اسے پا کر فرمایا:

واپس آ جاؤ۔ اس شخص نے کہا: میں اس وقت تک واپس نہیں آؤں گا جب تک آپ مجھے یہ نہ بتا دیں کہ ابھی آپ نے مجھے کیوں لوٹا دیا تھا اور اب کس وجہ سے واپس بلا رہے ہیں۔ چنانچہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اسے سارا واقعہ سنا دیا۔

یہ بات اس مجوسی کے دل پر گہرا اثر کر گئی۔ وہ حیرت سے کہنے لگا: تمہارا رب کتنا کریم اور مہربان ہے! وہ اپنے بندوں ہی کے ساتھ نہیں بلکہ اپنے دشمنوں کے ساتھ بھی ایسا حُسنِ سلوک کرتا ہے۔ جو لوگ اس کے ساتھ شرک کرتے ہیں، اس کی عبادت کے بجائے آگ کی پرستش کرتے ہیں اور اسے مانتے تک نہیں، وہ بھی اس کے رزق اور رحمت سے محروم نہیں ہوتے۔

پھر اس نے کہا: اگر تمہارا رب اتنا رحیم و کریم ہے کہ اپنے نافرمان بندوں پر بھی مہربانی فرماتا ہے، تو مجھے اسی رب کا کلمہ پڑھا دو۔

چنانچہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اسے کلمۂ توحید پڑھایا، اور وہ فورًا اسلام قبول کرکے دائرۂ ایمان میں داخل ہو گیا، اللہ کا نام لیا اور ایک مؤمن کی حیثیت سے کھانا تناول کیا۔

بلاگر: ڈاکٹر محمد اقبال چشتی (سینئر ریسرچ اسکالر)

تبصرہ

ویڈیو

Ijazat Chains of Authority
Top