سیدنا حسین علیہ السلام کی شہادت سیرتِ مصطفیٰ ﷺ کی تکمیل ہے، کیونکہ سیرتِ مصطفیٰ ﷺ کا ایک بابِ شہادت باقی تھا جو 10 محرم کو سیدنا حسینؑ نے مکمل کر دیا: شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری
حسینؑ حق اور باطل پہ سمجھوتہ نہ کرنے کا نام ہے، اور حسینؑ انسانی اَقدار کو زندہ کر جانے کا نام ہے: شیخ الاسلام کا خطاب
سیدنا امام حسین علیہ السلام کی ذاتِ مبارکہ اور آپ کی عظیم قربانی صرف مسلمانوں کے لیے نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے مشعلِ راہ ہے. معرکہ کربلا محض دو گروہوں کی جنگ نہیں تھی، بلکہ یہ دو نظریات کا ٹکراؤ تھا۔ ایک طرف وہ نظام تھا جو انسانی حقوق، عدل و انصاف اور آزادی پر مبنی تھا، اور دوسری طرف یزیدی آمریت تھی جس نے دین کی شکل بگاڑنے اور انسانیت کو غلام بنانے کی کوشش کی۔ سیدنا امام حسین علیہ السلام نے اپنی شہادت کے ذریعے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ جب انسانی اَقدار خطرے میں ہوں، تو خاموش رہنا جرم ہے۔
نبوی نظامِ عدل اور یزیدی فساد کا فرق:
مجدّد المئۃ الحاضرۃ حضور شیخ الاسلام دامت برکاتہم العالیۃنے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ: حضور نبی اکرم ﷺ نے دنیا میں جو نظام متعارف کروایا وہ معاشی انصاف، سماجی مساوات اور سیاسی آزادی پر مبنی تھا، جہاں اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری تھی۔ لیکن یزید ملعون کی آمد تاریخِ اسلام کا وہ موڑ تھا جس نے جمہوریت کو آمریت میں بدل دیا، جس نے اَمانت اور دیانت کے نظام پر کرپشن کا آرا چلایا تھا۔ یزید چاہتا تھا کہ امام حسین علیہ السلام مسجد کے منبر تک محدود رہیں اور اس کے سیاسی مظالم پر خاموشی اختیار کر لیں، مگر امام عالی مقام سیدنا حسین علیہ السلام نے اس تقسیم کو مسترد کر کے واضح کر دیا کہ ایسا مذہب جو ظلم کے خلاف آواز نہ اٹھائے، اس کا قرآن سے کوئی تعلق نہیں۔
حق اور باطل کا حقیقی قرآنی تصور:
قرآن مجید نے حق اور باطل کا جو تصور دیا ہے، اس کی بنیاد انسانی حقوق پر ہے۔ حق وہ ہے جو انسانیت کو آزادئ معاش اور سیاسی آزادی (متاع اور مستقر) فراہم کرے اور لوگوں کو خوف سے بے نیاز کر کے ایک پُر اَمن زندگی بسر کرنے کا موقع دے۔ اس کے برعکس، وہ لوگ جو انسانوں سے اُن کے جینے کا حق، آزادئ رائے اور مذہب کا حق چھینتے ہیں، وہ باطل کے علمبردار ہیں۔ سیدنا امام حسین علیہ السلام نے انسانیت کی بقاء اور حقوق کے تحفظ کے لیے جنگ لڑی، اسی لیے وہ ابدی طور پر ’’اہلِ حق‘‘ کے امام قرار پائے۔
حسینیت: ظلم کے خلاف ابدی مزاحمت:
سیدنا امام حسین علیہ السلام صرف ایک شخصیت کا نہیں بلکہ ایک سوچ اور فکر کا نام ہے۔ حسینیت کا تقاضا ہے کہ معاشرے سے کرپشن، لوٹ مار اور لاقانونیت کا خاتمہ کیا جائے اور لٹیروں کا بلا امتیاز احتساب ہو۔ حسینیت کی روح آج بھی عدل کی بحالی اور غریب کے خون چوسنے والے نظام کے خاتمے کا مطالبہ کرتی ہے۔ آپ علیہ السلام کی شہادت نے امت کو یہ سکھایا کہ اسلام کسی ظالم یا آمر کے سامنے سر جھکانے کی اجازت نہیں دیتا۔
شہادتِ حسین علیہ السلام حقیقت میں تکمیلِ شہادتِ مصطفیٰﷺ ہے:
آخر میں شیخ الاسلام نے کہا کہ: سیدنا امام حسین علیہ السلام کی شہادت دراصل تکمیلِ شہادتِ مصطفیٰ ﷺ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کو ہر کمال اور فضیلت سے نوازا تھا، لیکن شہادت کی نعمت ظاہر میں آپ کے دامن میں نظر نہیں آتی تھی کیونکہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ تھا کہ کوئی کافر آپ کو قتل نہیں کر سکے گا۔ اس نعمتِ شہادت کو مکمل کرنے کے لیے سیدنا امام حسین علیہ السلام کو پیدا کیا گیا جو ظاہر و باطن میں شبیہِ مصطفیٰ ﷺ تھے۔ کربلا کے میدان میں سیدنا حسین علیہ السلام کی شہادت کے ذریعے درحقیقت روحِ مصطفیٰ ﷺ نے شہادت کا وہ آخری مرحلہ مکمل کیا جو کائنات کی تمام شہادتوں کے لیے فخر بن گیا۔
حاصلِ کلام:
سیدنا امام حسین علیہ السلام کی قربانی نے کائنات کے اندھیروں کو دور کرنے کے لیے چراغ روشن کیے ہیں۔ آپ علیہ السلام کی شہادت یہ پیغام دیتی ہے کہ سچی زندگی صرف سانس لینے کا نام نہیں، بلکہ اُصولوں پر قائم رہنے اور انسانیت کی خدمت کا نام ہے۔ آج اگر ہم اَمنِ عالم کے خواہاں ہیں، تو ہمیں حسینیت کے راستے کو اپنانا ہوگا، جہاں عدل و انصاف کی حکمرانی ہو اور جہاں ہر انسان کو وقار کے ساتھ جینے کا حق حاصل ہو۔
بلاگر: ڈاکٹر محمد اقبال چشتی (سینئر ریسرچ اسکالر)


















تبصرہ