دینِ اسلام کی بنیاد سلامتی پر، اِس کی تکمیل رحمت سے اور اِس کا انتخاب رضائے الٰہی سے وابستہ ہے: شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری

مورخہ: 13 جون 2026ء

اللہ رب العزت نے تکمیلِ دین کے اِعلان کو اپنی نعمت کے اِتمام اور رحمت کے اِظہار کے ساتھ جوڑ کر واضح فرما دیا کہ اسلام سراپا لُطفِ خداوندی ہے: شیخ الاسلام کا خطاب

آیتِ تکمیلِ دین محض شریعت کے مکمل ہونے کا اعلان نہیں بلکہ رحمتِ الٰہی، نعمتِ خداوندی اور رضائے ربانی کی عظیم بشارت بھی ہے۔ قرآنِ مجید میں جب اللہ تعالیٰ نے دین کی تکمیل کا ذکر فرمایا تو اس کے ساتھ اپنی نعمت کے اِتمام اور اسلام پر اپنی رضا کا اعلان بھی فرما دیا۔ اسلام امن، محبت، رحمت اور شفقتِ الٰہی کا ایسا جامع پیغام ہے جس کی بنیاد سلامتی پر رکھی گئی، جس کی تکمیل نعمت و رحمت سے مزیّن ہوئی اور جسے اللہ تعالیٰ نے اپنی رضا کے ساتھ انسانیت کے لیے منتخب فرمایا۔ یہی وجہ ہے کہ دینِ اسلام کا ہر پہلو انسان کو اَمن، سکون، خیر خواہی اور رحمتِ الٰہی سے جوڑتا ہے۔

دینِ اسلام: سلامتی، رحمت اور رضائے الٰہی کا دین:

مجدّد المئۃ الحاضرۃ حضور شیخ الاسلام دامت برکاتہم العالیۃنے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ: یہ حقیقت کبھی فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ دینِ اسلام کے تین درجے ہیں: اسلام، ایمان اور احسان۔ چنانچہ جہاں بھی اسلام کا ذکر آتا ہے، وہاں کسی نہ کسی پہلو سے امن، رحمت، نعمت، شفقتِ الٰہی اور عنایتِ ربانی کا تصور ضرور موجود ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿إِنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللَّهِ الْإِسْلَامُ﴾ [آل عمران : 19] ’’بے شک اللہ کے ہاں دین اسلام ہے‘‘۔ لفظ ’’اسلام‘‘ کی بنیاد ’’سِلْمٌ‘‘ سے ہے، جس کے معنی سلامتی اور اَمن کے ہیں۔ گویا اللہ تعالیٰ نے واضح فرما دیا کہ اس کے پسندیدہ دین کی اساس ہی سلامتی، خیر خواہی اور امن پر قائم ہے۔ قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ نے مزید فرمایا:

﴿الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ﴾ [المائدة : 3]

’’آج کے دن میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کر دیا‘‘

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے دین کی تکمیل کے اعلان کے ساتھ ہی اپنی نعمت کے اِتمام کا ذکر فرمایا۔ یہ اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ دینِ اسلام کی تکمیل در اصل اللہ تعالیٰ کی نعمت اور رحمت کے کمال کا اظہار ہے۔ نعمت، رحمت کے بغیر مکمل نہیں ہوتی، اور رحمت خود اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت ہے۔ اس طرح تکمیلِ دین کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے اپنی نعمت اور رحمت کے تصور کو یکجا کر دیا۔

اس کے بعد فرمایا: ﴿وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا﴾ یعنی ’’میں نے تمہارے لیے اسلام کو بطورِ دین پسند کر لیا۔‘‘ یہاں اللہ تعالیٰ نے صرف اسلام کے انتخاب کا اعلان نہیں فرمایا بلکہ اپنی رضا کا بھی اظہار کیا۔ رضا میں محبت، شفقت اور رحمت کا مفہوم پوشیدہ ہے۔ گویا اللہ تعالیٰ نے اسلام کو انسانیت کے لیے منتخب کرتے ہوئے اپنی خوشنودی کی بشارت بھی عطا فرمائی کہ وہ اس بات سے راضی ہے کہ اس کے بندے اسلام کو اپنا دین اور نظامِ زندگی بنائیں۔

یوں اسلام کا تعارف ابتداء سے انتہاء تک سلامتی، رحمت، نعمت اور رضائے الٰہی کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ دینِ اسلام کی بنیاد سلامتی ہے، اس کی تکمیل رحمت ہے اور اس کا انتخاب رضائے الٰہی کا مظہر ہے۔

دینِ اسلام کے تین مدارج:

شیخ الاسلام نے مزید کہا کہ: اسلام سراسر سلامتی کا پیغام ہے، بلکہ اسلام خود سلامتی کا نام ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جب اسلام کو انسانیت کے لیے پسند فرمایا تو اس انتخاب میں بھی اپنی رحمت، شفقت اور سلامتی کو شامل فرما دیا۔ پھر جب دین کی تکمیل کا اعلان کیا تو اس کے ساتھ اپنی نعمت اور رحمت کے اِتمام کا ذکر کیا۔ گویا اسلام کی ابتداء سلامتی سے، اس کی تکمیل رحمت سے اور اس کا انتخاب رضائے الٰہی سے وابستہ ہے۔

اسی لیے جہاں بھی دینِ اسلام کا ذکر آتا ہے، وہاں کسی نہ کسی انداز میں امن، رحمت، نعمت، شفقتِ الٰہی، عنایتِ ربانی اور احسانِ خداوندی کا تصور ضرور موجود ہوتا ہے۔

یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ دینِ اسلام کے تین درجے یا تین دائرے ہیں: اسلام، ایمان اور احسان۔ پہلا درجہ اسلام کا ہے۔ جب کوئی شخص اسلام قبول کرتا ہے تو وہ اس دائرہ دین میں داخل ہو جاتا ہے۔ اس سفر کی ابتداء ہی سلامتی اور امن کے پیغام سے ہوتی ہے۔

اس کے بعد جب عبادات، اعمالِ صالحہ اور اسلامی تعلیمات کا نور دل میں راسخ ہو جاتا ہے اور باطن میں یقین و تصدیق کی کیفیت پیدا ہوتی ہے تو انسان ایمان کے درجے پر فائز ہوتا ہے۔ اس مقام پر وہ مؤمن کہلاتا ہے۔ مؤمن بھی امن ہی سے نسبت رکھتا ہے، کیونکہ سچا مؤمن امن، خیر خواہی اور سلامتی کا پیامبر ہوتا ہے۔

پھر انسان روحانی ارتقا کے اعلیٰ ترین مقام، یعنی احسان تک پہنچتا ہے۔ اس درجے پر وہ مُحسن کہلاتا ہے۔ احسان دراصل حُسن کے کمال کا نام ہے، اور حُسن کا کمال امن، سلامتی، رحمت، شفقت اور محبت کے کمال میں ظاہر ہوتا ہے۔ مُحسن کا وجود ایسا پُرسکون اور دل آویز ہوتا ہے کہ اسے دیکھ کر دلوں کو اطمینان اور طبیعت کو سکون حاصل ہوتا ہے۔ گویا اسلام سے ایمان اور ایمان سے اِحسان تک کا پورا سفر انسان کو امن، رحمت، محبت اور حُسنِ کردار کی معراج تک پہنچانے کا نام ہے۔

بلاگر: ڈاکٹر محمد اقبال چشتی (سینئر ریسرچ اسکالر)

تبصرہ

ویڈیو

Ijazat Chains of Authority
Top