جہاں معاشی محرومی کا خاتمہ ضروری ہے، وہاں احساسِ محرومی کا علاج روحانیت، توکل اور شکر گزاری میں پوشیدہ ہے: پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری
مطلق غربت کا علاج معاشی انصاف ہے، جبکہ نسبتی غربت کا علاج روحانی اطمینان اور تزکیۂ نفس ہے: صدر منہاج القرآن
رزق کی فراوانی کے باوجود دنیا میں غربت کا وجود ایک اہم سوال ہے۔ اسلام اس کا جواب یہ دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے رزق کا وعدہ ضرور فرمایا ہے، لیکن اس رزق کی منصفانہ تقسیم اور بنیادی ضروریاتِ زندگی کی فراہمی کو انسانوں، معاشروں اور ریاستوں کی ذمہ داری بھی قرار دیا ہے۔ چنانچہ جہاں کوئی شخص خوراک، رہائش، تعلیم اور روزگار جیسی بنیادی ضروریات سے محروم ہو، وہاں یہ محض ایک معاشی مسئلہ نہیں بلکہ اجتماعی ناانصافی کی علامت ہے۔ تاہم انسان کی محرومی صرف مادی نہیں ہوتی؛ بسا اوقات ضروریات پوری ہونے کے باوجود دوسروں سے موازنہ، احساسِ کمتری اور عدمِ اطمینان اسے بے چین رکھتے ہیں۔ اسی لیے اسلام نے مطلق غربت کے خاتمے کے لیے معاشی انصاف اور فلاحی نظام کا حکم دیا، جبکہ نسبتی غربت کے علاج کے لیے روحانیت، توکل، قناعت اور شکرگزاری کی تعلیم دی۔
بنیادی ضروریاتِ زندگی: ریاست کی ذمہ داری اور عوام کا حق:
پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ: لوگوں کی بنیادی ضروریاتِ زندگی کا پورا کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ اللہ رب العزت نے اپنے بندوں کے رزق اور زندگی کی بنیادی ضروریات کی کفالت کا وعدہ فرمایا ہے۔ یہ ایسا وعدہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے کسی حکومت، ادارے یا فرد کی صوابدید پر نہیں چھوڑا بلکہ اپنی ذمہ داری قرار دیا ہے۔ لہٰذا جو بھی شخص یا حکومت خود کو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی نیابت کا امین سمجھتی ہے، اس پر لازم ہے کہ وہ اس وعدے کی تکمیل کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرے۔
اسلامی ریاست میں خوراک، روزگار، رہائش، لباس، صحت اور تعلیم جیسی بنیادی ضروریات کی فراہمی کوئی احسان یا رعایت نہیں بلکہ عوام کا بنیادی حق اور ریاست کا فرض ہے۔ ان حقوق کی ادائیگی کے بعد جو اضافی سہولتیں اور مراعات ہیں، ان کا انحصار حکومت کے وسائل، ترجیحات اور انتظامی صلاحیت پر ہوتا ہے۔ تاہم بنیادی ضروریات کی فراہمی ہر حال میں یقینی بنائی جانی چاہیے۔
غربت کی دو بنیادی اقسام ہیں: مطلق غربت (Absolute Poverty) اور نسبتی غربت (Relative Poverty)۔ مطلق غربت وہ ہے جس میں انسان کو زندگی کی بنیادی ضروریات، جیسے خوراک، رہائش، تعلیم اور روزگار بھی میسر نہ ہوں۔ اگر کسی معاشرے میں ایسی غربت موجود ہو تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ وہاں ظلم، نا انصافی اور معاشی استحصال پایا جاتا ہے، اور اس کی ذمہ داری پورے معاشرے پر عائد ہوتی ہے۔
دوسری قسم (Relative Poverty) نسبتی غربت ہے، جس سے مراد دوسروں کے مقابلے میں خود کو محروم یا کم تر محسوس کرنا ہے۔ مطلق غربت کا علاج معاشی انصاف، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور فلاحی اقدامات کے ذریعے ممکن ہے، جبکہ نسبتی غربت کا علاج روحانی تربیت، اخلاقی بالیدگی اور قلبی اطمینان میں پوشیدہ ہے۔ اسی تناظر میں منہاج القرآن دونوں محاذوں پر کام کرتا ہے۔ مطلق غربت کے خاتمے کے لیے منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن کے ذریعے فلاحی اور سماجی خدمات انجام دی جاتی ہیں، جبکہ نسبتی غربت اور احساسِ محرومی کے علاج کے لیے اعتکاف، گوشۂ درود، تصوف سینٹر کی مجالس اور روحانی و تربیتی پروگراموں کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ کیونکہ جہاں معاشی محرومی ظلم کے خاتمے کا تقاضا کرتی ہے، وہاں قلبی محرومی روحانیت اور تزکیۂ نفس کی متقاضی ہوتی ہے۔
ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے مزید کہا کہ: آج منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن اور اس کے فلاحی پلیٹ فارمز کے ذریعے ایسے اقدامات کیے جاتے ہیں جن سے لوگ عزتِ نفس کے ساتھ اپنی بنیادی ضروریاتِ زندگی پوری کر سکیں۔ تاہم انسان کی محرومی صرف معاشی نہیں ہوتی؛ بعض اوقات فکری اور روحانی غربت بھی اسے بے چین رکھتی ہے۔ جب انسان ہر وقت اپنی مالی حالت کا دوسروں سے موازنہ کرتا رہتا ہے، تو وہ احساسِ محرومی اور بے اطمینانی کا شکار ہو جاتا ہے، تو وہاں صرف معاشی امداد کافی نہیں رہتی بلکہ روحانی اور اخلاقی تربیت کی ضرورت پیش آتی ہے۔ یہی کردار منہاج القرآن اپنی اصلاحی و تربیتی سرگرمیوں کے ذریعے ادا کرتا ہے۔
معیشت اور روحانیت کے باہمی تعلق کا یہ تصور اسلام کا ایک منفرد عطیہ ہے۔ دنیا کے معاشی نظریات، خواہ سوشلزم ہوں، کمیونزم یا سرمایہ داری، اس مسئلے کا مکمل حل پیش نہ کر سکے۔ اسلام نے مطلق غربت (Absolute Poverty) کا علاج معاشی انصاف اور وسائل کی فراہمی میں رکھا، جبکہ نسبتی غربت (Relative Poverty) کا علاج اخلاقی اور روحانی تعلیمات کے ذریعے کیا۔ اسلام نے یہ اصول دیا کہ معیشت کو اخلاقیات اور دین سے جدا نہ کیا جائے، تاکہ انسان دوسروں سے مسلسل موازنہ کرنے کی بیماری سے نجات پا سکے اور اپنی ضروریات پوری ہونے پر عزت، وقار اور اطمینان کے ساتھ زندگی گزار سکے۔
زندگی میں ایسے مواقع بارہا آئیں گے جب انسان اپنے حالات کا دوسروں سے تقابل کرے گا اور خود کو محروم محسوس کرے گا، حالانکہ وہ مطلق غربت کا شکار نہیں ہوگا۔ ایسے مواقع پر روحانی تربیت، اللہ تعالیٰ پر توکل، مسلسل محنت، خود احتسابی اور قناعت کی نعمت ہی انسان کو سکون عطا کرتی ہے۔ جو شخص اللہ تعالیٰ کی عطا پر راضی رہتے ہوئے شکر گزاری کی روش اختیار کرتا ہے، وہ حقیقی خوشحالی اور قلبی اطمینان حاصل کر لیتا ہے۔ اسلامی معاشی نظام کا خلاصہ یہ ہے کہ جہاں مطلق غربت ہو وہاں اس کا خاتمہ کرنا معاشرے اور ریاست کی ذمہ داری ہے، اور جہاں احساسِ محرومی اور نسبتی غربت کا مسئلہ ہو وہاں اخلاقی و روحانی تربیت کے ذریعے افراد کی فکر اور مزاج کی اصلاح کی جائے۔ یہی وہ متوازن راستہ ہے جو ایک پُر اَمن، باوقار اور متوازن معاشرے کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔
بلاگر: ڈاکٹر محمد اِقبال چشتی (ریسرچ اسکالر)


















تبصرہ