منہاج القرآن انٹرنیشنل لندن کے زیر اہتمام بین المذاہب کانفرنس کا انعقاد

معاشرے میں لالچ عنصر دولت سے جنم لیتا ہے جو حسد، کینہ پروری اور عدم انصاف کو عام کرنے کا سبب بنتا ہے۔ دولت مند ہونا قابل جرم نہیں بلکہ اس کا ناجائز استعمال ہی خرابیوں کی جڑ ہے۔ معاشرے کے ہر شخص کو اپنی چادر کے مطابق پاؤں پھیلانے چاہیئے۔ اپنی خواہشوں کی عمارت ہمسایوں کو دیکھ کر تعمیر کرنے والے مایوسی کا شکار رہتے ہیں۔

ان خیالات کا اظہار منہاج پیس اینڈ انٹی گریشن کونسل (MPIC) لندن کے زیراہتمام مورخہ 20 جولائی 2011ء کو بین المذاہب کانفرنس کے دوران مختلف مذاہب کے پیروکاروں نے کیا۔ کانفرنس میں عیسائی، یہودی اور مسلم نمائندوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ کانفرنس کاباقاعدہ آغازاحمد رضا کی تلاوت سے ہوا۔ رفیق احمد نے نظامت کے فرائض سرانجام دیئے۔ کیتھولک مذہب کے راہنما فادر ڈینس ہال نے اپنے خطاب میں عیسائیت کے حوالہ سے لالچ کی کی بنیاد دولت کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہر مذہب کے مطابق لالچی انسان کی محبت دولت سے ہوتی ہے جو معاشرے میں عدم انصاف کا باعث بنتی ہے، دنیا کے ہر اس حصہ میں جہاں انصاف کی عدم فراوانی ہے وہاں کے عوام میں غربت کی انتہا اور وسائل کی غیر مساوی تقسیم ہے جس کی وجہ سے امیر امیر تر اور غریب غریب ترہوتا جارہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں اپنی خواہشات کے محل اپنی حیثیت کے مطابق بنانے چاہیئے نہ کہ دوسروں کی دولت کو دیکھ کر خوابوں کی دنیا میں رہنا شروع کر دیاجائے۔

یہودی مذہب کے راہنما رابی نسان ولسن نے کہا کہ دولت کا لفظ ہی پراگندہ اثر کا حامل ہے، دولت معاشرے میں غربت کی طرح چیلنج کی حیثیت رکھتی ہے جس کا ہونا ناجائز نہیں بلکہ یہ خدا کا وہ عطیہ ہے جس کو نیک کاموں کے لئے استعمال کر کے خدا کا مشکور ہونا چاہیئے۔ دولت کی بے حد فراوانی معاشروں کی تباہی کی بنیاد بھی ہے۔ منہاج القرآن لندن کے امام علامہ محمد صادق قریشی نے حاضرین کو بتایا کہ لفظ منی(Money) عربی زبان میں لفظ مال سے اخذ ہوا ہے جس کا مطلب ہے کہ جو چیزکسی کی ملکیت نہ ہو۔ اس لفظ ’’مال‘‘ کا ذکر قرآن میں 86 دفعہ آیا ہے اس حوالہ سے امام صادق قریشی نے دولت کی تعریف، اہمیت، اس کی ملکیت اور اس کے استعمال پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ تقریب کے آخر میں منہاج پیس اینڈ انٹی گریشن لندن کے صدر اشتیاق احمد قادری نے تمام شرکاء اور مختلف مذاہب کے راہنماؤں کا شکریہ ادا کیااور اس تقریب کو معاشرے میں ایک دوسرے کے قریب آنے اور مذہبی نقطہ نظر جاننے کے لئے اہم قدم قرار دیا انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ ایسے پروگرامز تسلسل سے جاری رہیں گے تاکہ دوریوں کو قربت کے رشتوں میں تبدیل کر کے معاشرے کو امن ومحبت کا گہوارہ بنایا جاسکے۔

رپورٹ: آفتاب بیگ

تبصرہ

تلاش

ویڈیو

Ijazat Chains of Authority
We Want to CHANGE the Worst System of Pakistan
Top