صحابہ کرامؓ رسولِ اکرم ﷺ کی ہر عادت، ہر عمل اور ہر معاملے کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لیا کرتے تھے: شیخ حماد مصطفی المدنی القادری
صحابہ کرامؓ نے کبھی بھی اپنی خواہش کو سنّتِ رسول ﷺ پر مقدّم نہیں کیا: خطاب
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی پوری زندگی محبتِ رسول ﷺ اور کامل اتباع کا عملی نمونہ تھی، جہاں ایمان صرف زبان کا اقرار نہیں بلکہ عمل کی صورت میں جلوہ گر نظر آتا تھا۔ وہ رسولِ اکرم ﷺ کی ہر عادت، ہر عمل اور ہر معاملے کو اپنی زندگی کا لازمی حصہ سمجھتے تھے اور سنتِ نبوی ﷺ کو محض ایک رہنما اصول نہیں بلکہ اپنی روزمرہ زندگی کا معیار بناتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرامؓ نے کبھی اپنی خواہشات یا ذاتی رائے کو سنتِ رسول ﷺ پر مقدّم نہیں کیا، بلکہ محبت کے اس اعلیٰ مقام پر فائز ہوئے جہاں اطاعت ہی محبت کا سب سے روشن اظہار بن جاتی ہے۔
صحابہ کرامؓ کی محبت اور اتباعِ رسول ﷺ کی عملی صورتیں
شیخ حماد مصطفی المدنی القادری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ: جو باتیں قرآن، سنت اور احادیثِ مطہرہ سے واضح طور پر ثابت ہیں اور متعدد اسناد کے ساتھ ہم تک پہنچی ہیں، افسوس کہ ہمارا حال یہ ہے کہ ہم اُن سے بھی غفلت برتنے لگے ہیں اور عملًا اُن سے کنارہ کش ہو چکے ہیں۔ اس کے برعکس اصحابِ رسول علیہم الرضوان کا مقام و مرتبہ یہ تھا کہ وہ نہ صرف قرآن و سنت کے احکام کی پوری پابندی کرتے تھے بلکہ حضور نبی اکرم ﷺ کی زندگی کے ہر پہلو پر عمل کیا کرتے تھے۔
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم حضور نبی اکرم ﷺ کے اُٹھنے بیٹھنے کے انداز، قیام و قعود اور معمولات تک کی پیروی کرتے تھے۔ جہاں جہاں حضور ﷺ نے قیام فرمایا یا نوافل ادا کیے، وہ اُن مقامات کی تلاش کرتے اور وہاں نماز پڑھتے۔ جہاں آقا ﷺ نے کچھ دیر ٹھہرنا پسند فرمایا، صحابہ کرامؓ بھی وہاں قیام کو سعادت سمجھتے تھے۔ آج ہم شریعت اور قرآن و سنت کے بنیادی احکام سے بھی دور ہوتے جا رہے ہیں، جبکہ صحابہ کرام کا حال یہ تھا کہ وہ رسولِ اکرم ﷺ کی ہر عادت، ہر عمل اور ہر معاملے کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لیا کرتے تھے۔
صحابہ کرامؓ کی اتباعِ رسول میں عملی مثالیں:
شیخ حماد مصطفی المدنی القادری نے مزید کہا کہ: آپ کے سامنے میں اُن خاص چیزوں میں سے کچھ ذکر کرنا چاہتا ہوں۔ یہ حدیث مفتق علیہ ہے کہ آقا ﷺ نے کچھ عرصہ کے لیے سونے کی انگوٹھی پہنی۔ حضرت نافع حضرت عبد اللہ بن عمرؓ سے حدیث بیان کرتے ہیں کہ:
أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اتَّخَذَ خَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ وَجَعَلَ فَصَّهُ مِمَّا يَلِي كَفَّهُ فَاتَّخَذَهُ النَّاسُ فَرَمَى بِهِ وَاتَّخَذَ خَاتَمًا مِنْ وَرِقٍ أَوْ فِضَّةٍ
1 - بخاری، الصحیح، جلد5، ص2205، رقم: 5538
2 - مسلم، الصحیح، جلد3، ص 1655، رقم: 2091
’’بے شک رسول اللہ ﷺ نے سونے کی ایک انگوٹھی بنوائی اور اس کا نگینہ ہتھیلی کی جانب رکھا، پھر کچھ دوسرے لوگوں نے بھی اسی طرح کی انگوٹھیاں بنوا لیں۔ آخر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پھینک دیا اور چاندی کی انگوٹھی بنوا لی۔‘‘
جب یہ حکم نازل ہوا کہ مَردوں کے لیے سونا پہننا جائز نہیں تو حضور نبی اکرم ﷺ نے فورًا اپنی سونے کی انگوٹھی اُتار کر پھینک دی۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے جب آقا ﷺ کا یہ عمل دیکھا تو انہوں نے بھی بلا کسی تردّد کے اپنی سونے کی انگوٹھیاں اُتار کر پھینک دیں۔ حالانکہ اس بات کی گنجائش موجود تھی کہ وہ انگوٹھیاں گھروں میں لے جا کر اپنی ازواج یا اہلِ خانہ کو دے دیتے، یا واپس کر کے ان کی قیمت وصول کر لیتے، مگر چونکہ رسولِ اکرم ﷺ نے اسے ترک فرمایا تھا، اس لیے صحابہ کرام نے بھی اسی لمحے اس سے مکمل طور پر دستبرداری اختیار کر لی۔ یہ واقعہ اس بات کی روشن دلیل ہے کہ عشقِ رسول ﷺ میں صحابہ کرام نے اپنی خواہشات کو کبھی سنت پر مقدم نہیں کیا۔
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے ایک صحابی کو دیکھا جنہوں نے سونے کی انگوٹھی پہن رکھی تھی، غالبًا اُن تک ابھی مَردوں کے لیے سونا حرام ہونے کا حکم نہیں پہنچا تھا۔ حضور نبی اکرم ﷺ نے اُن کے ہاتھ سے وہ انگوٹھی لی اور فورًا پھینک دی۔ جب وہ صحابی گھر واپس آئے تو کسی نے اُن سے پوچھا کہ آپ کی سونے کی انگوٹھی کہاں گئی؟ انہوں نے جواب دیا: رسولِ اکرم ﷺ نے اسے پھینک دیا ہے اور میں نے وہیں چھوڑ دی ہے۔ پھر ایک شخص نے اُن سے کہا کہ:
خُذْ خَاتِمَكَ انْتَفِعْ بِهِ. قَالَ: لَا، وَاللَّهِ، لَا آخُذُهُ أَبَدًا، وَقَدْ طَرَحَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
مسلم، الصحیح، جلد3، ص 1655، رقم: 2090
’’اپنی انگوٹھی لے لو اور اُس سے کوئی فائدہ اٹھا لو۔ اس نے کہا: اللہ کی قسم! میں اسے کبھی نہیں اٹھاؤں گا جبکہ رسول اللہ ﷺ نے اسے پھینک دیا ہے‘‘
اس حدیث سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی وارفتگی، عشق اور رسول اللہ ﷺ سے گہری محبت واضح طور پر ظاہر ہوتی ہے۔ وہ آقا ﷺ کی اطاعت اور پیروی میں اس قدر ڈوبے ہوئے تھے کہ حضور ﷺ کی ہر ادا اور ہر عمل کو فورًا اپنی عملی زندگی کا حصہ بنا لیا کرتے تھے۔
عزیزانِ محترم! اگر کچھ لوگ مَرد ہونے کے باوجود ایسے زیورات استعمال کرتے ہیں جن کی شریعت میں اجازت نہیں، جیسے سونے کی انگوٹھی، کڑا، ہار یا چین وغیرہ، تو وہ اسی وقت یہ عہد کر لیں کہ انہیں اُتار دیں گے اور آئندہ کبھی نہیں پہنیں گے۔ حضور نبی اکرم ﷺ سے سچی محبت کا یہی تقاضا ہے کہ جس چیز کو آپ ﷺ نے ناپسند فرمایا، اسے ہمیشہ کے لیے چھوڑ دیا جائے۔
سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص نے ایک روز ایک زرد رنگ کی چادر پہنی ہوئی تھی، تو آقا ﷺ کی طبیعت پر ناگوار گزرا تو آقا ﷺ نے پوچھا کہ: اے عبد اللہ! یہ کس قسم کی چادر پہنی ہوئی ہے؟ تو حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص حضور نبی اکرم ﷺ کی منشأ سمجھ جاتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ:
فَأَتَيْتُ أَهْلِي وَهُمْ يَسْجُرُونَ تَنُّورًا لَهُمْ فَقَذَفْتُهَا فِيهِ ثُمَّ أَتَيْتُهُ مِنَ الْغَدِ فَقَالَ يَا عَبْدَ اللَّهِ، مَا فَعَلَتْ الرَّيْطَةُ؟ فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ: أَلَا كَسَوْتَهَا بَعْضَ أَهْلِكَ فَإِنَّهُ لَا بَأْسَ بِهِ لِلنِّسَاءِ
أبو داود، السنن، جلد4، ص 52، رقم: 4066
’’میں اپنے اہل خانہ کے پاس آیا وہ اپنا ایک تنور سلگا رہے تھے تو میں نے اُس انگوٹھی کو اُس میں تنور ڈال دیا۔ پھر میں دوسرے دن آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: اے عبداللہ! وہ چادر کا کیا کیا؟ تو میں نے آپ ﷺ کو عرض کیا (کہ میں نے اسے تنور میں ڈال دیا) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے اسے اپنے گھر کی کسی عورت کو کیوں نہیں پہنا دیا کیونکہ عورتوں کو اس کے پہننے میں کوئی حرج نہیں۔‘‘
حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاصؓ کی محبتِ رسول ﷺ اس قدر کامل تھی کہ جس چادر کو حضور نبی اکرم ﷺ نے ناپسند فرمایا، انہوں نے اسے جَلا دیا۔ آپؓ نے یہ بھی برداشت نہ کیا کہ وہ چادر اپنے اہل و عیال کو دے دیں، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ حضور ﷺ کی ناپسندیدگی کا احترام سب سے مقدّم ہے۔
بلاگر: ڈاکٹر محمد اِقبال چشتی (ریسرچ اسکالر)


















تبصرہ