سب سے بہترین گھر وہ ہے جہاں یتیم کو محبت، عزت اور حُسن سلوک میسر ہو: پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری
یتیم کی کفالت محض مالی تعاون نہیں، بلکہ دل کی وسعت اور سنتِ نبوی ﷺ سے سچی وابستگی کا عملی اظہار ہے: صدر منہاج القرآن
جو شخص کسی یتیم کے سر پر دستِ شفقت رکھتا ہے، وہ درحقیقت اپنے لیے جنت میں قُربِ مصطفی ﷺ کی جگہ محفوظ کر لیتا ہے: صدر منہاج القرآن
کفالتِ یتیم کی فضیلت کا اَصل سبب یہ ہے کہ اسلام نے معاشرتی عظمت کا معیار کمزور اور بے سہارا افراد کے ساتھ حُسنِ سلوک کو قرار دیا ہے۔ اسی لیے سب سے بہترین گھر وہ ٹھہرا جہاں یتیم کو محبت، عزت اور شفقت میسر ہو۔ یتیم کی کفالت محض مالی معاونت کا نام نہیں، بلکہ یہ دل کی وسعت، اخلاقی ذمہ داری اور سنتِ نبوی ﷺ سے سچی وابستگی کا عملی اظہار ہے۔ جو شخص کسی یتیم کے سر پر دستِ شفقت رکھتا ہے، وہ دراصل اپنے کردار کو رحمتِ مصطفوی ﷺ کے رنگ میں رنگتا ہے اور اپنے لیے جنت میں قربِ مصطفی ﷺ کی سعادت محفوظ کر لیتا ہے۔ گویا یتیم نوازی ایک سماجی عمل ہی نہیں، بلکہ روحانی رفعت اور اُخروی کامیابی کا دروازہ ہے۔
کفالتِ یتیم اور قربِ مصطفی ﷺ کا وعدہ:
پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ: تاجدارِ کائنات ﷺ نے اپنی تعلیماتِ مبارکہ میں یتیموں کی کفالت کو غیر معمولی اہمیت عطا فرمائی۔ یہ محض ایک سماجی ہمدردی کا درس نہیں، بلکہ ایک عظیم روحانی پیغام ہے۔ اللہ ربّ العزت نے اپنے محبوب ﷺ کو یتیمی کی حالت میں دنیا میں بھیج کر اس نسبت کو ایسا شرف عطا فرمایا کہ یتیمی محرومی نہیں بلکہ رفعت کا استعارہ بن گئی۔ ’’دُرِّ یتیم‘‘ کا لقب خود اس بات کی دلیل ہے کہ جس حال کو دنیا کمزوری سمجھتی ہے، اللہ تعالیٰ اُسی کو اپنے محبوب ﷺ کے لیے عزت و عظمت کا وسیلہ بنا دیتا ہے۔
حضور نبی اکرم ﷺ نے اپنی حیاتِ طیبہ میں یتیموں کے ساتھ شفقت، محبت اور عملی کفالت کے ذریعے امت کو یہ تعلیم دی کہ معاشرے کی اصل قوت اس کے کمزور افراد کی نگہداشت میں پوشیدہ ہے۔ آپ ﷺ نے متعدد اعمالِ صالحہ کی فضیلت بیان فرمائی، مگر یتیم کی کفالت کرنے والے کے لیے خصوصی بشارت دیتے ہوئے فرمایا کہ وہ شخص جنت میں میرے اس قدر قریب ہوگا جیسے یہ دو انگلیاں ایک دوسرے کے ساتھ قریب ہیں۔ یہ قربِ مصطفی ﷺ دراصل اُس دل کی جزا ہے جو بے سہارا بچوں کے لیے سہارا بن جاتا ہے۔ گویا یتیم کی کفالت صرف صدقہ یا خیرات نہیں، بلکہ سنتِ نبوی ﷺ کی پیروی، قُربِ رسول ﷺ کا ذریعہ اور معاشرتی عدل و رحمت کی بنیاد ہے۔ حضرت سھلؓ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:
أَنَا وَكَافِلُ الْيَتِيمِ فِي الْجَنَّةِ هَكَذَا، وَقَالَ: بِإِصْبَعَيْهِ السَّبابةِ وَالْوُسْطَى۔
’’میں اور یتیم کی پرورش کرنے والا جنت میں اس طرح ہوں گے اور آپ نے شہادت اور درمیانی انگلیوں کے اشارہ سے (قُرب کو) بتایا‘‘ (بخاری، الصحیح، جلد5، ص 2032، رقم: 4998)
ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے توضیح کرتے ہوئے کہا کہ: اس حدیث کے پس منظر میں کئی حکمتیں پوشیدہ ہو سکتی ہیں۔ ان میں سے ایک اہم وجہ یہ بھی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے یتیمی کی کیفیت کو خود اپنی ذاتِ اقدس میں محسوس فرمایا تھا۔ آپ ﷺ کی ولادت سے پہلے ہی آپ کے والدِ گرامی علیہ السلام کا سایہ سر سے اُٹھ چکا تھا، اور پھر صرف چھ برس کی عمر میں آپ کی والدہ ماجدہ سلام اللہ علیہا بھی اِس دنیا سے رخصت ہو گئیں۔ یوں بچپن ہی میں آپ ﷺ نے جدائی اور تنہائی کو محسوس کیا۔ کبھی دادا کے گھر پرورش پائی، کبھی چچا کے آغوشِ شفقت میں زندگی کے دن گزارے۔
روایات میں آتا ہے کہ جب آپ ﷺ اپنی والدہ ماجدہ سلام اللہ علیہا کی قبرِ انور پر تشریف لے گئے تو شدتِ محبت اور یاد میں آپ ﷺ کی آنکھیں اشکبار ہو گئیں، یہاں تک کہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم بھی آبدیدہ ہو گئے۔ یہ منظر اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ یتیمی کا دکھ آپ ﷺ نے دل کی گہرائیوں سے محسوس کیا تھا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ آپ ﷺ نے یتیم کی کفالت کرنے والے کے لیے غیر معمولی بشارت دی اور فرمایا کہ جو شخص کسی یتیم کا سہارا بنے گا، میں اسے قیامت کے دن اپنے قریب کر لوں گا۔ گویا جس نے ایک یتیم کے دل کا درد بانٹا، وہ درحقیقت سنتِ مصطفی ﷺ کے قریب ہو گیا۔
پھر صرف یہ نہیں آقا علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ایک اور حدیثِ مبارکہ ہے، آقا علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا کہ:
خَيْرُ بَيْتٍ فِي الْمُسْلِمِينَ بَيْتٌ فِيهِ يَتِيمٌ يُحْسَنُ إِلَيْهِ، وَشَرُّ بَيْتٍ فِي الْمُسْلِمِينَ بَيْتٌ فِيهِ يَتِيمٌ يُسَاءُ إِلَيْهِ
’’مسلمانوں کا وہ گھر سب سے اچھا ہے جس میں کوئی یتیم ہو جس کے ساتھ حُسنِ سلوک کیا جاتا ہو اور مسلمانوں کا وہ گھر سب سے بُرا ہے جس میں یتیم ہو اور اس کے ساتھ بُرا سلوک روا رکھا گیا ہو۔‘‘
1 - ابن ماجہ، السنن، جلد2، ص 1213، رقم: 3679
2 – بخاری، الادب المفرد، جلد1، ص 161، رقم: 137
3- طبرانی، المعجم الأوسط، جلد5، ص 99، رقم: 4785
3 – قضاعی، مسند الشھاب، جلد2، ص 229، رقم: 1249
یعنی دنیا کا سب سے بہترین گھر وہ ہے جہاں یتیم کے ساتھ حسنِ سلوک کیا جاتا ہو، اُس کی عزت، دلجوئی اور ضروریات کا خیال رکھا جاتا ہو۔ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ جس گھر میں یتیم کے ساتھ اچھا برتاؤ کیا جائے، وہ گھر اللہ کے نزدیک سب سے بہتر ہے۔ اور جس گھر میں یتیم کے ساتھ سختی، بے رخی یا ناانصافی کی جائے، وہ سب سے بدترین گھر ہے۔ گویا آقا علیہ الصلوٰۃ والسلام نے کسی گھر کی عظمت کا معیار اُس کی عمارت یا مال و اسباب کو نہیں، بلکہ یتیم کے ساتھ اُس کے سلوک کو قرار دیا۔
گھر کا ماحول اور یتیم کے ساتھ ہمارا رویّہ:
ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے مزید کہا کہ حاضرینِ گرامی! اس امر کی طرف توجہ دلانا ضروری ہے کہ یتیم کا مفہوم صرف اُس بچے تک محدود نہیں جو کسی یتیم خانے میں رہتا ہو یا وہاں سے لا کر پرورش کیا گیا ہو۔ بسا اوقات ہمارے اپنے گھروں میں کم سن بچے یا بچیاں گھریلو معاون کے طور پر کام کر رہے ہوتے ہیں، اور ان میں سے کئی حقیقتاً یتیم ہوتے ہیں۔ مگر ہم ان کے ساتھ محض ایک ملازم کا سا برتاؤ کرتے ہیں، حالانکہ وہ ہمارے گھر کی فضا میں پرورش پا رہے ہوتے ہیں اور ہمارے رویّے ہی ان کی شخصیت کی تشکیل کرتے ہیں۔
سوچنے کی بات یہ ہے کہ اگر ہم ان کے ساتھ سختی، بے رخی یا ناانصافی کا سلوک کریں تو کہیں ایسا نہ ہو کہ ہمارے ہی گھر کو رسولِ اکرم ﷺ کی تعلیمات کی روشنی میں بدترین گھر قرار دے دیا جائے۔ یتیم، یتیم ہوتا ہے چاہے وہ کسی ادارے میں ہو یا ہمارے اپنے گھر میں۔ اگر باپ کی سرپرستی سے محروم ہے تو وہ خصوصی شفقت اور توجہ کا مستحق ہے، نہ کہ تحقیر اور سختی کا۔
اسلام نے اپنے نظامِ حیات میں یتیم کے حقوق کو غیر معمولی اہمیت دی ہے۔ قرآنِ مجید میں جا بجا یتیم کا ذکر ملتا ہے چاہے زکوٰۃ کے مصارف بیان ہوں، صدقات کی تقسیم کا ذکر ہو، یا دروازے پر آنے والے سائل کو نہ جھڑکنے کی ہدایت۔ یہ سب اس بات کی دلیل ہے کہ اسلام ایک ایسے معاشرے کی بنیاد رکھنا چاہتا ہے جہاں کمزور اور بے سہارا افراد کو عزت، تحفظ اور محبت میسر ہو۔ قرآن مجید میں ارشاد ہوا ہے:
﴿أَرَأَيْتَ الَّذِي يُكَذِّبُ بِالدِّينِ o فَذَلِكَ الَّذِي يَدُعُّ الْيَتِيمَ﴾
’’کیا آپ نے اس شخص کو دیکھا جو دین کو جھٹلاتا ہےo تو یہ وہ شخص ہے جو یتیم کو دھکے دیتا ہے (یعنی یتیموں کی حاجات کو ردّ کرتا اور انہیں حق سے محروم رکھتا ہے)‘‘ [الماعون،1-2]
یقیناً اسلام نے یتیم کو غیر معمولی اہمیت عطا کی ہے، مگر میں خصوصًا بچوں سے کہنا چاہتا ہوں کہ اس اہمیت کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ آپ لاپرواہ یا خود سر ہو جائیں۔ یہ اعزاز اس لیے نہیں دیا گیا کہ آپ اپنے آپ کو دوسروں سے برتر سمجھنے لگیں، بلکہ اس کا اصل مقصد آپ کے اندر احساسِ ذمہ داری کو بیدار کرنا ہے۔
جب اللہ کے رسول ﷺ آپ کے ساتھ اتنی شفقت اور محبت کا اظہار فرما رہے ہیں اور پوری انسانیت کو آپ کے حقوق ادا کرنے کی تلقین فرما رہے ہیں تو اس کے ساتھ آپ کی ذمہ داری بھی بڑھ جاتی ہے۔ جتنی زیادہ محبت اور توجہ ملتی ہے، اتنا ہی زیادہ کردار، محنت اور اچھے اخلاق کا تقاضا کیا جاتا ہے۔ لہٰذا آپ کو بھی اس شفقت کا جواب مثبت طرزِ عمل سے دینا ہے، اپنے آپ کو باکردار، بااخلاق اور ذمہ دار فرد ثابت کرنا ہے، تاکہ آپ ایک بہترین شہری اور حضور نبی اکرم ﷺ کے سچے امتی بن کر معاشرے میں اپنی پہچان قائم کر سکیں۔
بلاگر: ڈاکٹر محمد اِقبال چشتی (ریسرچ اسکالر)


















تبصرہ