اللہ رب العزت کے ہاں ترقی کا دارومدار دنیاوی مال و اَسباب نہیں ہے بلکہ صاحبِ قناعت ہونا ہے: پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری
جو شخص قناعت کرنا سیکھ لیتا ہے، اُس کے لیے دل کا سکون اور قربِ الٰہی کے دروازے کُھل جاتے ہیں: صدر منہاج القرآن
ذہنی سکون کی تلاش میں بھٹکتے انسان کے لیے اصل راز یہ ہے کہ وہ اپنی زندگی کا معیار صرف دنیاوی مال و اسباب کو نہ بنائے، بلکہ قناعت کو اپنا سرمایہ بنا لے۔ جب انسان یہ سمجھ لیتا ہے کہ حقیقی ترقی ظاہری جمع و کثرت میں نہیں بلکہ دل کے اطمینان میں ہے، تو اس کی دوڑ بے چینی سے نکل کر توازن میں بدل جاتی ہے۔ قناعت انسان کو یہ شعور دیتی ہے کہ جو میسر ہے اُس میں خوش رہنا بھی ایک نعمت ہے، اور یہی کیفیت دل کو سکون، فکر کو ٹھہراؤ اور روح کو قربِ الٰہی کی طرف لے جاتی ہے۔ یوں خوف کم ہونے لگتا ہے، بے جا خواہشات کی شدت ٹوٹتی ہے، اور انسانی زندگی میں ایک پختہ اطمینان پیدا ہوتا ہے، وہ اطمینان جو انسان کو اندر سے مضبوط اور مطمئن بنا دیتا ہے۔
قناعت: سکون اور رضائے الہی کا راستہ:
پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ: قناعت کرنے والے لوگ وہ ہوتے ہیں جو زندگی کی بنیادی ضروریات یعنی کھانا، پینا، رہائش، لباس اور دیگر اسباب میں اعتدال اختیار کرتے ہیں اور جو کچھ اللہ تعالیٰ اُنہیں عطا فرمائے، اُس پر دل سے راضی رہتے ہیں۔ وہ دنیاوی اضافے کی بے پایان دوڑ میں نہیں پڑتے بلکہ ضرورت کے مطابق جینا سیکھ لیتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ رب العزت نے انسانوں کو مختلف حالات اور مراتب میں پیدا کیا ہے۔ کوئی مالی آسودگی میں ہے، کوئی تنگ دستی میں؛ کوئی صحت مند ہے، کوئی آزمائش میں۔ یہ تنوّع محض اتفاق نہیں بلکہ حکمتِ الٰہی کا حصہ ہے۔ انسان کا اصل سفر یہ ہے کہ وہ اپنے مقررہ حال میں صبر، شکر اور رضا کے ساتھ جینا سیکھے، کیونکہ کامیابی کا معیار دولت یا ظاہری ترقی نہیں بلکہ یہ ہے کہ بندہ اپنے حال میں اللہ کی رضا کو کیسے اختیار کرتا ہے۔ رزقِ حلال کے لیے کوشش ضروری ہے، مگر زندگی کا مقصد صرف مالی برتری حاصل کرنا نہیں۔ جس شخص نے قناعت اور رضا کو اپنا شعار بنا لیا، اُس کے لیے دل کا سکون اور روحانی ترقی کے دروازے کھل جاتے ہیں، چاہے وہ ظاہری طور پر سادہ زندگی گزار رہا ہو یا اقتدار و وسعت کے ماحول میں ہو۔ اصل کمال یہی ہے کہ انسان اپنے حالات کو اللہ کی امانت سمجھ کر اُن پر راضی رہے اور اسی میں اپنی کامیابی تلاش کرے۔ یہی اِس زندگی کا مقصد ہے۔
ترقی اور قناعت کا متوازن راستہ:
ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے مزید کہا کہ: زندگی کا اصل مقصد یہ ہے کہ انسان کو جس حال میں اللہ تعالیٰ نے رکھا ہے، اُس میں جائز اور حلال طریقے سے بہتری کی کوشش کرے، کیونکہ ترقی کی جدوجہد ہر شخص کی ذمہ داری ہے۔ مگر یہ کوشش ایسی جنونی دوڑ میں تبدیل نہ ہو جائے کہ انسان اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو بُھلا بیٹھے، اپنی روحانی ترجیحات، نیتوں اور اقدار سے غافل ہو جائے۔ حضور نبی اکرم ﷺ کی مبارک زندگی میں ہمیں دونوں طرح کے حالات نظر آتے ہیں؛ فقر اور تنگی کے اَدوار بھی، اور وسعت و استحکام کے لمحات بھی۔ مگر آپ ﷺ کی حیاتِ مبارکہ کا بڑا حصہ آزمائش اور سادگی میں گزرا۔ گویا امت کی دلجوئی اور رہنمائی کے لیے ایک عملی پیغام ہے کہ اللہ کے ہاں اصل معیار دنیاوی مال و اسباب نہیں بلکہ قناعت اور رضا ہے۔ قناعت کا مطلب غربت اختیار کرنا نہیں، بلکہ جس حال میں اللہ رکھے اُس پر راضی رہتے ہوئے حلال کوشش جاری رکھنا ہے۔ یہی وہ متوازن راستہ ہے جو انسان کو دنیا میں اعتدال اور آخرت میں کامیابی عطا کرتا ہے۔
حضرت سفیان ثوری فرماتے ہیں کہ جو شخص اپنے زمانے میں میسر سادہ رزق یعنی جَو کی روٹی پر قناعت نہیں کرتا، وہ آخرکار ذلت اور رسوائی میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ اس بات کا مطلب یہ نہیں کہ انسان ترقی یا بہتری کی کوشش چھوڑ دے، بلکہ یہ مطلب ہے کہ جو نعمت حلال طریقے سے حاصل ہو جائے اُس پر دل سے راضی رہنا سیکھے۔ اگر انسان ضرورت سے بڑھ کر مال، عزت یا منصب کے پیچھے اس طرح دوڑنے لگے کہ باقی اقدار کو نظر انداز کر دے، تو یہی بے اعتدالی اسے نقصان پہنچاتی ہے۔ اصل خوبصورت محنت وہ ہے جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی رضا کے لیے ہو، اور رزقِ حلال کے حصول کے لیے ہو تاکہ انسان باعزت زندگی گزار سکے۔ قناعت انسان کو اعتدال سکھاتی ہے۔ یعنی انسان اپنی کوشش بھی جاری رکھے اور اُس کا دل بھی حرص و بے چینی سے محفوظ رہے۔
آخر میں پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے کہا کہ حضرت سفیان ثوری فرماتے ہیں: مال کے پیچھے اندھا دھند دوڑ انسان کے اندر ایسی خرابیاں پیدا کر دیتی ہے جو آخرکار اسے ذلت کی طرف لے جاتی ہیں۔ جب آدمی ضرورت سے بڑھ کر دولت حاصل کرنے کی فکر میں ڈوب جاتا ہے تو وہ لمبی اور فریب دینے والی امیدوں میں اُلجھ جاتا ہے، حرص اور لالچ اس پر غالب آ جاتی ہے، کنجوسی پیدا ہو جاتی ہے، آخرت کی فکر کمزور پڑ جاتی ہے، اور تقویٰ و نیکی کے معاملات میں سستی آ جاتی ہے۔ عملی زندگی میں ہم اکثر قناعت کو نظرانداز کر دیتے ہیں، حالانکہ اصل راستہ یہ ہے کہ انسان اللہ کی دی ہوئی حالت میں بہتر تدبیر کرے، اپنے رب سے مانگے مگر دنیا سے جھگڑا نہ کرے، اور دل سے راضی رہنا سیکھے۔ قناعت صرف کمی پر صبر کرنے کا نام نہیں، بلکہ جو میسر ہو اُس میں خوش رہنے اور اگر زیادہ ہو تو اعتدال کے ساتھ استعمال کر کے دوسروں کے ساتھ بانٹ دینے کا نام ہے۔ جب قناعت زندگی کا حصہ بن جاتی ہے تو خوف اور غم کم ہو جاتے ہیں، دل مضبوط ہوتا ہے، اور انسان سکون و پختگی کے ساتھ زندگی گزارنے لگتا ہے۔
بلاگر: ڈاکٹر محمد اِقبال چشتی (ریسرچ اسکالر)


















تبصرہ