توبہ ایسا سفر ہے جو انسان کو بتدریج قربِ الٰہی اور باطنی اصلاح تک پہنچاتا ہے: شیخ حماد مصطفی المدنی القادری
اللہ رب العزت کے حضور ہر کوئی توبہ کرتا ہے مگر ہر کسی کی توبہ برابر نہیں ہوتی: خطاب
استغفار اور توبہ کے مفہوم کو سمجھنا دراصل انسان کے باطنی سفر کو سمجھنے کے مترادف ہے۔ استغفار زبان سے معافی طلب کرنے کا عمل ہے، مگر توبہ اس سے کہیں وسیع حقیقت رکھتی ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف مسلسل رجوع اور زندگی کی اصلاح کا نام ہے۔ ہر شخص توبہ کرتا ہے، لیکن ہر ایک کی توبہ اس کے شعور، نیت اور روحانی مقام کے مطابق مختلف ہوتی ہے۔ یوں توبہ ایک ایسا جاری سفر بن جاتی ہے جو انسان کو بتدریج غفلت سے بیداری، اور بیداری سے قربِ الٰہی اور باطنی پاکیزگی کی طرف لے جاتا ہے۔ یہی سفر انسان کی شخصیت کو سنوارتا ہے اور اسے محض معافی مانگنے سے آگے بڑھا کر حقیقی تبدیلی اور روحانی ارتقا کی منزل تک پہنچاتا ہے۔
استغفار اور توبہ میں فرق:
شیخ حماد مصطفی المدنی القادری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ: بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ صرف زبان سے استغفار کر لینا ہی توبہ ہے، یعنی چند الفاظ میں معافی مانگ لی تو گویا معاملہ ختم ہوگیا۔ حقیقت میں زبان سے معذرت کرنا استغفار کہلاتا ہے۔ بندہ اپنے رب کے حضور اپنی غلطی کا اعتراف کرتا ہے اور بخشش طلب کرتا ہے۔ لیکن حقیقی توبہ اس سے آگے کا مرحلہ ہے۔ توبہ یہ ہے کہ انسان معافی مانگنے کے بعد سچے دل سے اللہ کی طرف رجوع کرے، اپنی زندگی کا رخ بدلے، بگڑے ہوئے اخلاق کو سنوارے، اور اپنے اعمال و آداب کی اصلاح کرے۔ جب یہ عملی تبدیلی پیدا ہوتی ہے تو تب بندہ واقعی تائب بنتا ہے۔ ہماری الجھن یہی ہے کہ ہم استغفار کو توبہ سمجھ بیٹھتے ہیں، حالانکہ زبان سے معافی مانگنا آغاز ہے، اور کردار کی اصلاح ہی توبہ کی اصل روح ہے۔
عزیزانِ محترم! استغفار ایک وقتی عمل ہے، جبکہ توبہ ایک مستقل اور جاری رہنے والا سفر ہے۔ استغفار میں بندہ زبان سے اللہ تعالیٰ سے معافی طلب کرتا ہے، مگر توبہ اس سے کہیں بڑھ کر ہے، یہ انسان کے دل، نیت اور کردار کی مسلسل اصلاح کا نام ہے۔ توبہ صرف گناہ کے بعد کی جانے والی معذرت نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف مستقل رجوع اور اپنی زندگی کو بہتر بنانے کا عمل ہے۔
یہ سفر ہر شخص اپنی اپنی استعداد اور روحانی درجے کے مطابق طے کرتا ہے۔ عام انسان ہو یا مؤمن، نیک لوگ ہوں یا اہلِ معرفت، سب اس سفر میں شریک ہوتے ہیں، بلکہ انبیاء و رسل بھی اللہ کی طرف رجوع کو اپنی زندگی کا حصہ بناتے ہیں۔ فرق صرف انداز اور درجے کا ہوتا ہے، جیسے ایک ہی منزل کی طرف سفر کرنے والے مختلف سواریوں کا استعمال کرتے ہیں۔ کسی کا سفر سادہ ہوتا ہے، کسی کا بلند تر، مگر مقصد سب کا ایک ہی رہتا ہے یعنی اللہ تعالیٰ کی قربت حاصل کرنا۔
اسی طرح توبہ بھی سب کے لیے ایک ہی حقیقت رکھتی ہے، مگر اس کی کیفیت، گہرائی اور شعور ہر شخص کے مقام کے مطابق بدل جاتا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ رجوع کا سفر جاری رہے، کیونکہ یہی انسان کو روحانی ترقی اور حقیقی اصلاح کی طرف لے جاتا ہے۔
اللہ تعالیٰ کے ہاں ہر کسی کی توبہ برابر نہیں ہوتی:
شیخ حماد مصطفی المدنی القادری نے مزید کہا کہ: توبہ کے معاملے میں ایک اہم حقیقت یہ ہے کہ ہر شخص اللہ تعالیٰ کے حضور توبہ کرتا ہے، مگر سب کی توبہ ایک جیسی نہیں ہوتی۔ ایک عام مسلمان جب توبہ کرتا ہے تو وہ اپنے گناہوں سے، چاہے چھوٹے ہوں یا بڑے معافی مانگتا ہے۔ اہلِ ایمان کی توبہ اس سے آگے بڑھتی ہے؛ وہ اُن لمحوں پر نادم ہوتے ہیں جب اُن کا دل اللہ کی یاد سے غافل ہو گیا۔ پھر جب روحانی درجے بلند ہوتے ہیں تو صالحین اور محسنین توبہ کو اللہ کی رضا اور خوشنودی کے حصول کا ذریعہ بناتے ہیں۔
مزید آگے بڑھیں تو اولیائے کرام کی توبہ اللہ کی قربت کی جستجو ہوتی ہے۔ جیسے جیسے مقام بلند ہوتا جاتا ہے، کاملین کی توبہ روحانی بلندی اور اعلیٰ مراتب کی طرف ہوتی ہے۔ یہاں تک کہ انبیاء و رسل کی توبہ بھی اللہ تعالیٰ کی بارگاہ کی طرف مسلسل رجوع، اُس کی رضا، قرب اور حضوری کے شوق کا اظہار ہوتی ہے۔ گویا توبہ ہر درجے پر ایک ہی حقیقت رکھتی ہے یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف پلٹنا، مگر اس کی کیفیت، شعور اور مقصد انسان کے روحانی مقام کے مطابق بدلتے رہتے ہیں۔
بلاگر: ڈاکٹر محمد اِقبال چشتی (ریسرچ اسکالر)


















تبصرہ