صحابہ کرامؓ اہلِ بیت علیہم السلام کا احترام کرنا ایمان کا حصہ سمجھتے تھے: شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری

حضرت عمر بن خطابؓ کا طرزِ عمل بتاتا ہے کہ اہلِ بیت کی تعظیم دراصل رسولِ اکرم ﷺ سے محبت کا عملی اظہار ہے: شیخ الاسلام کا خطاب
حضرت ابو ہریرہ کا امام حسین علیہ السلام کے قدموں کی گرد اپنے کپڑے سے صاف کرنا اِس بات کی روشن دلیل ہے کہ صحابہ اہلِ بیت کی تعظیم کو سعادت سمجھتے تھے: شیخ الاسلام کا خطاب

اہلِ بیتِ اطہار علیہم السلام کا احترام صحابہ کرام کے نزدیک محض ایک سماجی روایت نہیں بلکہ ایمان کا تقاضا تھا، اور ان کا طرزِ عمل اس عقیدت کا زندہ و روشن نمونہ پیش کرتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اہلِ بیت کی تعظیم کو رسولِ اکرم ﷺ سے محبت کا عملی اظہار قرار دیا، جبکہ حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ عنہ کا امام حسین بن علی علیہما السلام کے قدموں کی گرد جھاڑنا اس والہانہ ادب کی ایسی مثال ہے جس میں محبت، عقیدت اور روحانی شعور یکجا نظر آتے ہیں۔ یوں صحابہ کا طرزِ فکر ہمیں یہ درس دیتا ہے کہ اہلِ بیت کا احترام دل کی کیفیت بھی ہے اور ایمان کی علامت بھی۔ صحابہ کرام کا اہلِ بیت علیہم السلام کے ساتھ محبت و احترام کرنا ایک ایسا رویہ ہے جو محبتِ رسول ﷺ کو عمل کی صورت میں زندہ رکھتا ہے۔

صحابہ کرامؓ کا اہلِ بیتؑ سے محبت و احترام:

مجدّد المئۃ الحاضرۃ حضور شیخ الاسلام دامت برکاتہم العالیۃنے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ: سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں جب عراق کی فتوحات سے کثیر مالِ غنیمت مدینہ منورہ پہنچا تو آپ نے اسے تقسیم سے پہلے مسجد نبوی میں رکھوایا۔ تقسیم کے وقت سب سے پہلے آپ نے امام حسن علیہ السلام کو بلایا اور انہیں ایک ہزار درہم عطا کیے، پھر امام حسین علیہ السلام کو بلایا اور انہیں بھی ایک ہزار درہم عطا کیے۔ اس کے بعد اپنے بیٹے حضرت عبد اللہ بن عمر کو بلایا اور انہیں پانچ سو درہم دیے۔ حضرت عبد اللہ نے عرض کیا کہ سیدنا حسن و حسین تو ابھی کم عمر ہیں، اور گلیوں میں کھیلتے ہیں، جبکہ میں جہاد میں شریک رہا ہوں، پھر مجھے کم کیوں دیا گیا؟ اس پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے نہایت حکیمانہ جواب دیا: اے عبد اللہ! اگر تم امام حسن و حسین علیہما السلام جیسے نسب والے بن سکتے ہو تو بن کر دکھاؤ۔ اُن کے والد علی المرتضیٰ ہیں، والدہ فاطمۃ الزہراء ہیں، نانا رسولِ اکرم ﷺ ہیں، نانی سیدہ خدیجہ ہیں، اور ان کا پورا گھرانہ فضیلت و شرف کا پیکر ہے۔ خدا کی قسم! تم ساری زندگی کوشش کرو تو بھی اُن جیسا ایک رشتہ نہیں لا سکتے۔ یوں حضرت فاروقِ اعظمؓ نے واضح کر دیا کہ اہلِ بیت کا مقام محض عمر یا شرکتِ جنگ سے نہیں، بلکہ اُن کے عظیم نسب اور رسولِ خدا ﷺ سے قرب کی وجہ سے بھی ممتاز ہے۔

فَسَمِعَ بِذَلِكَ عَليُّ بن أبي طَالِبٍ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ يَقُوْلُ: عُمَرُ بْنُ الْخَطَّاب سِرَاجُ أَهْلِ الْجَنَّةِ.

’’جب سیدنا علی المرتضی علیہ السلام نے یہ تمام گفتگو سُنی تو آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے سچ فرمایا؛ عمر اہلِ جنت کا چراغ ہے۔‘‘

1 - زمخشری، المختصر من کتاب الموافقۃ بین أھل البیت والصحابۃ، ص 130-131
2 - محب الطبری، الریاض النضرۃ فی مناقب العشرۃ، جلد1، ص 161

صحابہ کرامؓ کا اہلِ بیتِ اطہارؑ سے والہانہ اَدب:

شیخ الاسلام پروفیسر ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے صحابہ کرامؓ کا اہلِ بیت علیہم السلام کے ساتھ اَدب کرنے سے متعلق مزید کہا کہ حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ امام حسین علیہ السلام راستے میں تھکاوٹ کی وجہ سے بیٹھے تھے:

فَجَعَلَ أَبُو هُرَيْرَةَ يَنْفُضُ التُّرَابَ عَنْ قَدَمَيْهِ بِطَرَفِ ثَوْبِهِ، فَقَالَ الْحُسَيْنُ: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ وَأَنْتَ تَفْعَلُ هٰذَا؟ فَقَالَ: فَوَاللّٰهِ لَوْ يَعْلَمُ النَّاسُ مِثْلَ مَا أَعْلَمُ لَحَمَلُوكَ عَلَى رِقَابِهِمْ.

’’حضرت ابو ہریرہ اپنے کپڑے کے کنارے سے امام حسین علیہ السلام کے قدموں کی گرد جھاڑنے لگے۔ اس پر حضرت امام حسین علیہ السلام نے کہا: اے ابو ہریرہ! آپ یہ کر رہے ہیں؟ تو انہوں نے جواب دیا: اللہ کی قسم! اگر لوگ وہ مقام جان لیں جو میں جانتا ہوں، تو وہ آپ کو اپنے کندھوں پر اٹھا لیں (اور آپ کو زمین پر نہ چلنے دیں)‘‘ (ذھبی، تاریخ الاسلام، جلد5، ص 101-102)

حضرت زید بن ثابتؓ اونٹ پر سوار ہوئے تو حضرت عبد اللہ بن عباسؓ نے اُن کی رکاب (جس پر پاؤں رکھ کر اونٹ پر سوار ہوتے ہیں) پکڑ لی، آپ نے فرمایا: اے رسول اللہ ﷺ کے چچا کے بیٹے ایسا نہ کرو، میری سواری کی رکاب پکڑ رہے ہو، اُنہوں نے کہا:

ھَکَذَا أُمِرْنَا أَنْ نَفْعَلَ بِعُلَمَاءِنَا وَکُبَرَائِنَا۔

’’ہمیں اِسی طرح حکم دیا گیا ہے کہ اپنے بڑوں اور علماء کی اِسی طرح تکریم کیا کرو۔‘‘ (ابن عساکر، تاریخ مدینہ دمشق، جلد19، ص 326)

حضرت زید بن ثابتؓ آگے بڑھے اور آپ نے حضرت عبد اللہ بن عباسؓ کے ہاتھ چوم لیے، تو حضرت عبد اللہ بن عباسؓ نے کہا: آپ یہ کیا کر رہے ہیں؟ تو انہوں نے فرمایا:

ھَکَذَا أُمِرْنَا أَنْ نَفْعَلَ بِأَھْلِ بَیْتِ نَبِیِّنَا

’’ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ ہم اہلِ بیت نبوت کے ساتھ اِسی طرح کریں‘‘ (یعنی اُن کا ادب و احترام کریں)۔ (ابن عساکر، تاریخ مدینہ دمشق، جلد19، ص 326)

بلاگر: ڈاکٹر محمد اقبال چشتی (ریسرچ اسکالر)

تبصرہ

ویڈیو

Ijazat Chains of Authority
Top