توفیقِ توبہ خود اِس بات کی علامت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بندے پر اپنی نظرِ رحمت فرما دی ہے: شیخ حماد مصطفی المدنی القادری

قربِ خدا انسان کے اپنے ارادے، ذکر اور عمل سے حاصل ہوتا ہے: خطاب

قبولیتِ توبہ محض ایک زبانی اعلان نہیں بلکہ باطن کی بیداری، ارادے کی پختگی اور عمل کی صداقت کا حسین امتزاج ہے۔ جب بندے کے دل میں توبہ کی خواہش جاگتی ہے تو یہ دراصل نظرِ رحمتِ الٰہی کی پہلی جھلک ہوتی ہے، جو اسے غفلت سے نکال کر شعور اور اصلاح کی طرف بلاتی ہے۔ یہی توفیق اس بات کا اعلان ہے کہ رب نے بندے کے دل کو اپنی طرف مائل فرمایا ہے۔ مگر یہ رحمت اسی وقت ثمر آور ہوتی ہے جب انسان اپنے ارادے کو ذکر سے جلا بخشے اور عمل سے اسے ثابت کرے۔ یوں قربِ خدا کا سفر دل کی ندامت سے شروع ہو کر عزم، ذکر اور مسلسل عملی جدوجہد کے ذریعے تکمیل پاتا ہے، اور یہی قبولیتِ توبہ کی اصل روح اور اس کا ادبی و روحانی حُسن ہے۔

توبہ کی اُمید اور رحمتِ الٰہی:

شیخ حماد مصطفی المدنی القادری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ: کسی شخص نے سیدہ رابعہ عدویہ بصریہؒ سے عرض کیا: مجھ سے بہت گناہ ہو چکے ہیں، میں نے کئی نافرمانیاں کی ہیں اور بار بار خطاؤں اور لغزشوں میں مبتلا رہا ہوں۔ اگر میں سچے دل سے اللہ تعالیٰ کے حضور توبہ کروں تو کیا وہ میری توبہ قبول فرمائے گا یا نہیں؟ سیّدہ رابعہ العدویہ نے فرمایا:

لَا، بَلْ لَوْ تَابَ عَلَيْكَ لَتُبْتَ

’’نہیں، بلکہ اگر تم توبہ کرنا چاہتے ہو تو وہ ضرور تمہاری توبہ قبول کرے گا (اور تمہیں توبہ کی توفیق دے گا)‘‘ (قشیری، الرسالۃ القشیریۃ، جلد1، ص 214)

یعنی محض انسان کا توبہ کا ارادہ کر لینا کافی نہیں؛ اصل حقیقت یہ ہے کہ توبہ کی توفیق بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا ہوتی ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ اپنے کرم اور شان کے مطابق بندے کی طرف متوجہ ہو جائے تو وہی توفیقِ توبہ نصیب ہوتی ہے۔ گویا توبہ بندے کے قدم سے پہلے رب کی رحمت کی جھلک کا نام ہے۔ جب خدا اپنی مہربانی سے بندے کو نوازنا چاہتا ہے تو اس کے دل میں رجوع، ندامت اور اصلاح کی خواہش پیدا فرما دیتا ہے۔ اس طرح انسان کی توبہ دراصل اس الٰہی توجہ کا نتیجہ ہوتی ہے جو اسے گناہوں سے ہٹا کر رحمت کے دروازے تک لے آتی ہے۔

تبدیلی کا آغاز بندے کے اپنے ارادے سے:

شیخ حماد مصطفیٰ المدنی القادری نے مزید کہا کہ: یہاں یہ سوال پیدا ہو سکتا ہے کہ اگر میں نے آج تک استغفار یا توبہ نہیں کی اور اللہ کی طرف رجوع نہیں کیا، تو شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ میری طرف متوجہ نہیں ہوا۔ لیکن اس مفہوم کو اس طرح سمجھنا درست نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ہر وقت بندے کو اپنی طرف بلاتی رہتی ہے؛ اصل کمی بندے کی توجہ، ارادے اور آمادگی میں ہوتی ہے۔ اس لیے توبہ سے غفلت کو خدا کی عدمِ توجہ پر محمول کرنا درست طرزِ فکر نہیں، بلکہ یہ بندے کے لیے خود احتسابی اور بیداری کی دعوت ہے۔ کیونکہ اللہ رب العزت سورۃ الرعد کی آیت نمبر 11 میں فرماتا ہے:

﴿إِنَّ اللَّهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يُغَيِّرُوا مَا بِأَنْفُسِهِمْ﴾

’’بے شک اللہ کسی قوم کی حالت کو نہیں بدلتا یہاں تک کہ وہ لوگ اپنے آپ میں خود تبدیلی پیدا کر ڈالیں‘‘ [الرعد : 11]

یعنی اللہ رب العزت کسی قوم یا فرد کی حالت اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی اصلاح اور تبدیلی کا ارادہ نہ کرے۔ جب انسان اپنے اندر بہتری لانے، توبہ کرنے اور اللہ کی طرف رجوع کا پختہ عزم کرتا ہے تو تب ہی الٰہی مدد اور توفیق اس کا ساتھ دیتی ہے۔ یہ سمجھنا درست نہیں کہ چونکہ اللہ نے ابھی تک اپنے کرم سے نہیں نوازا، اس لیے قربتِ الٰہی حاصل نہیں ہو سکی۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ بندے کے ارادے اور کوشش کو دیکھتا ہے۔ جب بندہ سچے دل سے ذکر و عبادت اور اصلاحِ نفس کا فیصلہ کرتا ہے تو اللہ اس کی طرف متوجہ ہوتا ہے، اسے توفیق عطا فرماتا ہے، اور یوں وہ صبح و شام اس کی یاد اور بندگی میں جُڑ جاتا ہے اور اس کی بارگاہ کی طرف رجوع کرنے لگتا ہے۔

خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا

عزیزانِ محترم! ہمیں پختہ عزم اور ارادہ کرنا چاہیے، اور اپنے آپ سے یہ وعدہ کرنا چاہیے کہ ہم اللہ تعالیٰ کی بارگاہ کی طرف رجوع کریں گے۔ ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ آج کے بعد ہم گناہ اور نافرمانی کے راستے کو چھوڑ دیں گے اور نیکی اور بھلائی کی راہ اختیار کریں گے۔ پھر اسی راستے پر ثابت قدم رہنے کی کوشش کریں گے، تاکہ ہماری زندگی اصلاح اور قربِ الٰہی کی طرف گامزن ہو جائے۔

بلاگر: ڈاکٹر محمد اِقبال چشتی (ریسرچ اسکالر)

تبصرہ

ویڈیو

Ijazat Chains of Authority
Top