اللہ ربّ العزت بندے کی سچی توبہ پر بے حد خوشی اور مسرّت کا اظہار فرماتا ہے: شیخ حماد مصطفی المدنی القادری
اللہ تعالیٰ کو کسی بندے کی توبہ کرنا اتنا محبوب ہے کہ وہ اُس پر اپنی رحمتوں کے دروازے کھول دیتا ہے: خطاب
جو بندہ گناہ چھوڑ کر حق کی طرف قدم بڑھا دے، ربِّ کریم اسے مایوس نہیں کرتا: خطاب
بندے کی توبہ دراصل اللہ تعالیٰ کی رحمت، محبت اور قربت کا وہ بابرکت لمحہ ہے جس میں گناہوں کی سیاہی امید کے نور میں بدل جاتی ہے۔ ربّ ذوالجلال اپنے بندے کی سچی توبہ کو اس قدر پسند فرماتا ہے کہ اس پر خوشی اور مسرّت کا اظہار کرتے ہوئے اپنی رحمتوں کے دروازے وا کر دیتا ہے، گویا آسمانِ کرم سے مغفرت کی بارش ہونے لگتی ہے۔ توبہ محض گناہ چھوڑنے کا نام نہیں بلکہ باطن کی ایسی بیداری ہے جو انسان کو معصیت سے نکال کر حق کے راستے پر گامزن کر دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جو بندہ صدقِ دل سے گناہ ترک کر کے ربّ کی طرف بڑھتا ہے، وہ کبھی محرومی اور نا اُمیدی کا شکار نہیں ہوتا، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی رحمت توبہ کرنے والوں کو اپنی آغوش میں لے لیتی ہے۔
اللہ تعالیٰ کے ہاں توبہ کی قدر و منزلت:
شیخ حماد مصطفی المدنی القادری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ: حضور نبی اکرم ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے ہاں بندے کی توبہ کی قبولیت کو بیان کیا کہ اللہ تعالیٰ کس قدر انسان کے توبہ کرنے پر خوش ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کس قدر مسرت کا اظہار فرماتا ہے۔ حضرت براء بن عازب اور حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:
لَلَّهُ أَشَدُّ فَرَحًا بِتَوْبَةِ عَبْدِهِ حِينَ يَتُوبُ إِلَيْهِ مِنْ أَحَدِكُمْ كَانَ عَلَى رَاحِلَتِهِ بِأَرْضِ فَلَاةٍ فَانْفَلَتَتْ مِنْهُ وَعَلَيْهَا طَعَامُهُ وَشَرَابُهُ فَأَيِسَ مِنْهَا فَأَتَى شَجَرَةً فَاضْطَجَعَ فِي ظِلِّهَا قَدْ أَيِسَ مِنْ رَاحِلَتِهِ فَبَيْنَا هُوَ كَذَلِكَ إِذَا هُوَ بِهَا قَائِمَةً عِنْدَهُ فَأَخَذَ بِخِطَامِهَا ثُمَّ قَالَ مِنْ شِدَّةِ الْفَرَحِ: اَللَّهُمَّ أَنْتَ عَبْدِي وَأَنَا رَبُّكَ۔ أَخْطَأَ مِنْ شِدَّةِ الْفَرَحِ.
1 - بخاری، الصحیح، جلد5، ص 2325، رقم: 5950
2 - مسلم، الصحیح، جلد 4، ص 2104، رقم: 2746
’’اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ پر، جب وہ (بندہ) اس کی طرف توبہ کرتا ہے، تم میں سے کسی ایسے شخص کی نسبت کہیں زیادہ خوش ہوتا ہے جو ایک بے آب و گیاہ صحرا میں اپنی سواری پر (سفر کر رہا) تھا، تو وہ سواری اُس کے ہاتھ سے نکل (کر گُم ہو) گئی، اس کا کھانا اور پانی اسی (سواری) پر موجود تھا۔ جب وہ اس (سواری کے ملنے) سے مایوس ہو گیا تو ایک درخت کے پاس آیا اور اس کے سائے میں لیٹ گیا۔ وہ اپنی سواری (ملنے) سے نا اُمید ہو چکا تھا۔ وہ اسی عالم میں ہے کہ اچانک وہ (آدمی) اس کے پاس ہے، یعنی وہ (اونٹنی) اس کے پاس کھڑی ہے، اس آدمی نے اُس سواری کو اُس کی نکیل/ رسی سے پکڑ لیا، پھر بے پناہ خوشی کی شدت میں کہہ بیٹھا: اَللَّهُمَّ أَنْتَ عَبْدِي وَأَنَا رَبُّكَ۔ اے اللہ! تو میرا بندہ ہے اور میں تیرا رب ہوں۔ خوشی کی شدت کی وجہ سے وہ آدمی غلطی کر گیا۔‘‘
شیخ حماد مصطفی القادری نے اس حدیث کی توضیح کرتے ہوئے کہا کہ: رسولِ اکرم ﷺ نے توبہ کی قبولیت کو ایک نہایت بلیغ مثال سے واضح فرمایا کہ: ایک انسان جنگل میں سفر کر رہا ہو، اس کی اونٹنی جس پر اس کا سارا زادِ سفر ہو، گم ہو جائے، وہ ڈھونڈتے ڈھونڈتے مایوس ہو کر ایک درخت کے نیچے بیٹھ جائے، پھر اچانک آنکھ کھلے تو اونٹنی اپنے پاس پائے اور فورًا اس کی لگام تھام لے۔ اس لمحے اس کی خوشی کی کوئی حد نہیں ہوتی۔ اللہ رب العزت بندے کی سچی توبہ پر مسرت کا اظہار فرماتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کو کسی بندے کی توبہ کرنا اتنا محبوب ہے کہ وہ اُس پر اپنی رحمتوں کے دروازے کھول دیتا ہے
جب انسان معصیت کو ترک کر کے خدا کی چوکھٹ پر سچے دل سے رجوع کرتا اور توبہ کے ساتھ اس کی بارگاہ میں حاضر ہوتا ہے، تو اللہ ربّ العزت کو اس بندے کی خوشی سے بڑھ کر خوشی اور اس کی مسرت سے بڑھ کر مسرت حاصل ہوتی ہے۔
اللہ ربّ العزت کی بخشش، مغفرت اور رحمت کے دروازے کھلے ہوئے ہیں، اور اس کی بارگاہ میں توبہ کا راستہ بھی ہر وقت موجود ہے، مگر افسوس کہ ہم خود ان دروازوں میں داخل ہونا نہیں چاہتے۔ یہ دراصل انسان کی اپنی کمزوری اور کوتاہی ہے کہ پروردگارِ عالم نے توبہ، مغفرت اور رحمت کی راہیں وا کر رکھی ہیں، لیکن ہم ان سے فائدہ نہیں اٹھاتے۔ اللہ تعالیٰ معاف فرمانا چاہتا ہے، مگر ہم معافی مانگنے میں تساہل کرتے ہیں؛ وہ توبہ قبول کرنے کے لیے تیار ہے، مگر ہم اس کی بارگاہ میں سچے دل سے رجوع ہی نہیں کرتے۔
توبہ کی اُمید اور رحمتِ الٰہی کا فیصلہ:
شیخ حماد مصطفی المدنی نے مزید کہا کہ: صحیح بخاری میں ایک حدیث نقل ہوئی ہے کہ بنی اسرائیل میں ایک شخص تھا جس نے ننانوے قتل کیے تھے۔ اس کے دل میں خیال آیا کہ کیا اتنے بڑے گناہوں کے بعد بھی اللہ تعالیٰ میری توبہ قبول فرمائے گا؟ اس سوال کے ساتھ وہ ایک راہب کے پاس گیا اور اپنا حال بیان کیا۔ راہب نے مایوس کُن جواب دیا کہ تمہاری توبہ قبول نہیں ہو سکتی۔ یہ سُن کر اس شخص نے غصّے میں آ کر اسے بھی قتل کر دیا، یوں 100 قتل پورے ہو گئے۔ بعد ازاں لوگوں نے اسے بتایا کہ فلاں بستی میں نیک اور صاحبِ علم لوگ رہتے ہیں، وہاں چلے جاؤ، شاید تمہیں درست رہنمائی مل جائے۔ وہ اس نیک بستی کی طرف روانہ ہوا، مگر راستے ہی میں اس کا انتقال ہو گیا۔ رحمت اور عذاب کے فرشتے آ گئے؛ رحمت کے فرشتوں نے کہا کہ یہ حق کی تلاش میں نکلا تھا، جبکہ عذاب کے فرشتوں نے کہا کہ اس نے ابھی توبہ نہیں کی تھی۔ تب اللہ ربّ العزت نے حکم دیا کہ دونوں بستیوں کے فاصلے ناپے جائیں، اور جس بستی کے وہ زیادہ قریب ہو، اسی کے مطابق فیصلہ کیا جائے۔
قِيسُوا مَا بَيْنَهُمَا، فَوُجِدَ إِلَى هَذِهِ أَقْرَبَ بِشِبْرٍ، فَغُفِرَ لَهُ۔
’’پھر اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے فرمایا کہ اب دونوں کا فاصلہ دیکھو اور (جب ناپا تو) اس بستی کو (جہاں وہ توبہ کے لیے جا رہا تھا) ایک بالشت نزدیک پایا گیا، اس لیے وہ بخش دیا گیا۔‘‘
1 - بخاری، الصحیح، جلد3، ص 1280، رقم: 3283
2 - مسلم، الصحیح، جلد4، ص 2119، رقم: 2766
آخر میں شیخ حماد مصطفی المدنی القادری نے کہا کہ: عزیزانِ محترم! اللہ ربّ العزت، کس قدر توّاب و رحیم ہے، وہ کس قدر ہمیں معاف فرمانا اور ہماری توبہ قبول کرنا چاہتا ہے۔ اس کی رحمت کے دروازے ہر وقت کھلے ہیں، اس کے خزانے بے کنار اور اس کے سمندر بے حد و حساب وسیع ہیں، جنہیں وہ اپنے بندوں پر لٹانا چاہتا ہے۔ مگر افسوس کہ ہم خود توبہ کی طرف قدم نہیں بڑھاتے اور اس کی بارگاہ سے مغفرت حاصل کرنے میں کوتاہی کرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جو بندہ گناہ چھوڑ کر حق کی طرف رُخ کر لے، ربّ کریم اسے کبھی مایوس نہیں کرتا۔
بلاگر: ڈاکٹر محمد اِقبال چشتی (ریسرچ اسکالر)


















تبصرہ