شبِ برأت وہ مبارک رات ہے جس کی فضیلت پر احادیث و آثار کثرت سے وارد ہوئے ہیں: شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری
شبِ برأت محض ایک روایت نہیں بلکہ عبادت، خشیت اور قربِ الہی کی وہ روشن علامت ہے جس پر اہلِ علم کا اجماع رہا ہے: شیخ الاسلام کا خطاب
شبِ برأت، نصفِ شعبان کی وہ نورانی ساعت ہے جس میں رحمتِ الٰہی کے دروازے خصوصی طور پر کھلتے اور بندۂ مومن کو اپنے رب کی طرف رجوع کا نادر موقع میسر آتا ہے۔ یہ رات محض ایک انفرادی کیفیت کا نام نہیں بلکہ ایسی روحانی گھڑی ہے جس میں خلوت کی گریہ مناجات بھی اپنی تاثیر رکھتی ہے اور جماعت کی صورت میں ادا کی جانے والی عبادت بھی قلب و نظر کو جلا بخشتی ہے۔ اہلِ علم کے نزدیک اس رات کی فضیلت احادیث، آثار اور سلف صالحین کے عمل سے اس قدر مستحکم ہے کہ اس کی خصوصیت اور قبولیت پر کوئی علمی تردد باقی نہیں رہتا۔ سلفِ صالحین کا اس رات عبادت، توبہ، استغفار اور طلبِ مغفرت میں انہماک، اور پندرہ شعبان کے روزے کا اہتمام، اس حقیقت کا واضح اظہار ہے کہ یہ رات بندے کی انفرادی اصلاح کے ساتھ ساتھ امت کی اجتماعی روحانی تربیت کا بھی عظیم وسیلہ ہے، جہاں ہر اندازِ عبادت اللہ کے قرب اور اس کی رضا کا ذریعہ بن جاتا ہے۔
شب برأت پر انفرادی و اجتماعی عبادت:
شبِ برأت وہ بابرکت رات ہے جس میں بندۂ مومن کو انفرادی اور اجتماعی دونوں طرح کی عبادت کا حسین امتزاج نصیب ہوتا ہے۔ انفرادی عبادت میں خلوتِ شب، گریہ و زاری، توبہ و اِستغفار اور دل کی گہرائیوں سے کی گئی مناجات انسان کو اپنے رب کے حضور جُھکا دیتی ہے، جہاں ہر آنسو مغفرت کی سند اور ہر آہ رحمت کی صدا بن جاتی ہے۔ جبکہ اجتماعی عبادت میں مساجد کی رونق، ذکر و اذکار کی ہم آہنگ صدائیں، نوافل اور دعا کی مشترکہ کیفیات امت کے باہمی ربط، روحانی وحدت اور ایمانی یکجہتی کو تقویت دیتی ہیں۔ یوں شبِ برأت میں فرد کی اصلاح بھی ہوتی ہے اور معاشرے کی تطہیر بھی، کہ یہ رات بندے کو اپنے رب سے جوڑنے کے ساتھ ساتھ امت کو بھی ایک روح، ایک مقصد اور ایک دعا میں پرو دیتی ہے۔
مجدّد المئۃ الحاضرۃ حضور شیخ الاسلام دامت برکاتہم العالیۃنے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ: علامہ ابن تیمیہؒ کہتے ہیں کہ ماہِ شعبان کی پندرھویں کی رات، جسے شبِ برأت کہا جاتا ہے، اس کی فضیلت کے بارے میں کسی قسم کا شک نہیں۔ اس کے فضائل میں کثرت کے ساتھ احادیث مروی ہیں، صحابہ و تابعین کے آثار منقول ہیں، اور سلفِ صالحین کی ایک بڑی جماعت سے اس رات کی فضیلت ثابت ہے۔ وہ حضرات اس رات کو خاص اہتمام کے ساتھ نماز، ذکر اور دیگر عبادات میں مشغول رہتے تھے۔
شبِ برأت میں عبادت اور علامہ ابنِ تیمیہ کا موقف:
شیخ الاسلام پروفیسر ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے شبِ برأت کی فضیلت بیان کرتے ہوئے علامہ ابن تیمیہ کا قول نقل کیا اور کہا کہ: علامہ ابن تیمیہؒ نے ’’مجموع الفتاویٰ‘‘ میں یہ بات واضح کی ہے کہ ماہِ شعبان کی پندرھویں شب، یعنی شبِ برأت، اس میں اکیلے عبادت کرنا یا اجتماعی طور پر جمع ہو کر عبادت کرنا، دونوں طریقے معتبر ہیں۔ انہوں نے بیان کیا ہے کہ ان دونوں صورتوں پر سلفِ صالحین کے بہت سے حضرات کا عمل منقول ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس رات عبادت کا اہتمام انفرادی اور اجتماعی، دونوں انداز میں کیا جاتا رہا ہے۔
(ابن تیمیہ، مجموع الفتاویٰ، جلد 23، ص131- 132)
بہر حال یہ سب بہترین اور پسندیدہ اعمال ہیں، اور ان میں سے کسی ایک طریقے کو لازم یا واجب قرار نہیں دیا گیا۔ خواہ انسان تنہائی میں عبادت کرے، اللہ تعالیٰ کے حضور سجدہ ریز ہو، دعا مانگے، استغفار اور توبہ کرے، بخشش اور رحمت کا سوال کرے، یا یہ سب کچھ اجتماعی طور پر جمع ہو کر انجام دے، ہر طریقہ حُسن و خیر کا حامل ہے اور اللہ تعالیٰ کے قرب کا ذریعہ بنتا ہے۔
سلفِ صالحین کا شبِ برأت میں طرزِ عمل:
شیخ الاسلام پروفیسر ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے کہا کہ: علامہ ابن تیمیہ نے اپنی کتاب ’’اقتضاء الصراط المستقیم‘‘ میں یہ بھی بیان کیا ہے کہ: شبِ برأت، یعنی ماہِ شعبان کی پندرھویں کی رات سے متعلق کثرت سے احادیث مروی ہیں۔ ان میں مرفوع احادیث بھی شامل ہیں اور آثار بھی منقول ہیں۔ ان تمام احادیث، آثار اور روایات کا مجموعی مفہوم اس حقیقت کو واضح طور پر ثابت کرتا ہے کہ اس رات کی فضیلت اور اس میں دعا و عبادت کی خصوصی قبولیت میں کوئی شبہ نہیں۔ سلفِ صالحین اس مبارک رات کو خاص طور پر عبادات، طاعات، توبہ و استغفار اور طلبِ مغفرت کے لیے مختص کرتے تھے، اور اسی طرح پندرہ شعبان کے دن روزہ رکھنے کا بھی اہتمام کرتے تھے، جس کے بارے میں صحیح احادیث وارد ہوئی ہیں۔
(ابن تیمیہ، اقتضاء الصراط المستقیم، جلد1، ص 302)
علامہ ابن تیمیہؒ مزید فرماتے ہیں کہ یہ بات کثیر اہلِ علم سے مروی ہے، اور یہاں ’’ہمارے اصحاب‘‘ سے اُن کی مراد غالبًا فقہِ حنبلی کے علما ہیں۔ ان کے علاوہ دیگر فقہی مذاہب کے اکابر اہلِ علم بھی اس رات کی فضیلت پر متفق رہے ہیں۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ امام احمد بن حنبلؒ سے جو روایات منقول ہیں، اور اس موضوع پر جو متعدد احادیث وارد ہوئی ہیں، وہ سب اس رات کی فضیلت اور اس میں دعا و عبادت کی خصوصی قبولیت پر دلالت کرتی ہیں۔


















تبصرہ