شبِ برأت وہ مبارک رات ہے جس میں رحمتِ الٰہی کا سمندر موجزن ہوتا ہے اور بے شمار گناہگار بخش دیئے جاتے ہیں: شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری

شبِ نصفِ شعبان میں رحمتِ الٰہی کے دروازے سب کے لیے کھول دیے جاتے ہیں، مگر مشرک اور دل میں بغض و عناد رکھنے والے اس عظیم رحمت سے محروم رہتے ہیں: شیخ الاسلام کا خطاب

شبِ برأت امتِ مسلمہ کے لیے رحمت، مغفرت اور تجلیاتِ الٰہیہ کی عظیم رات ہے، جس میں آسمانی فیوضات و برکات کے دروازے خاص طور پر کھول دیے جاتے ہیں۔ احادیثِ نبویہ میں اس رات کی عظمت کو مؤثر تمثیلات کے ذریعے بیان فرمایا گیا، خصوصًا بنو کلب کی بکریوں کے بالوں سے تشبیہ دے کر مغفرت کی کثرت کو عرب معاشرے کے فہم کے مطابق واضح کیا گیا۔ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کے مطابق یہ رات رحمتِ الٰہی کے سمندر کی مانند ہے جس میں بے شمار گناہ گار بندے بخشش کی دولت سے سرفراز ہوتے ہیں، تاہم شرک اور دلوں میں بغض و عناد رکھنے والوں کو اس عمومی مغفرت سے محروم قرار دیا گیا ہے۔ اس حقیقت سے معلوم ہوتا ہے کہ شبِ برأت نہ صرف مغفرت کی رات ہے بلکہ دلوں کی تطہیر، ایمان کی تجدید اور باہمی محبت و اخوت کی تجدید کا عظیم موقع بھی ہے۔

شبِ برأت؛ رحمت و مغفرت کی رات:

مجدّد المئۃ الحاضرۃ حضور شیخ الاسلام دامت برکاتہم العالیۃنے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ: سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ ایک رات میں نے رسول اللہ ﷺ کو اپنی خوابگاہ میں نہ پایا تو میں آپ کی تلاش میں نکل پڑی۔ تلاش کرتے کرتے میں جنت البقیع پہنچ گئی، جہاں دیکھا کہ حضور نبی اکرم ﷺ جنت البقیع میں تشریف فرما ہیں۔ جب آپ ﷺ نے مجھے دیکھا تو فرمایا:

اے عائشہ! کیا تمہیں اس بات کا خوف تھا کہ اللہ اور اس کا رسول تمہارے ساتھ ناانصافی کریں گے؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ، ایسی بات نہیں میں نے سوچا شاید آپ کسی دوسری زوجہ مطہرہ کے ہاں تشریف لے گئے، تو میں آپ کی تلاش میں نکل پڑی، جب کہیں نہیں پایا تو ڈھونڈتے ڈھونڈتے جنت البقیع میں آ گئی۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا کہ:

إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَنْزِلُ لَيْلَةَ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا فَيَغْفِرُ لِأَكْثَرَ مِنْ عَدَدِ شَعَرِ غَنَمِ كَلْبٍ.

1 - أحمد بن حنبل، المسند، جلد6، ص 238، رقم: 26060
2 - ترمذی، السنن، جلد1، ص 116، رقم: 739
3 - ابن ماجہ، السنن، جلد1، ص 444، رقم: 1389

’’بے شک اللہ رب العزت شعبان کی پندرہویں شب اپنی شانِ الوہیت اور شانِ قدرت اور شانِ رحمت کے لائق آسمان دنیا پر اپنا نزولِ اِجلال فرماتا ہے، (اور آج کی رات) قبیلہ ’’بنو کلب‘‘ کی بکریوں کے بالوں کی تعداد سے بھی زیادہ لوگوں کو بخشش اور مغفرت سے نواز دیتا ہے۔‘‘

شرک اور بغض رکھنے والوں کے علاوہ بخشش کی نوید:

شیخ الاسلام نے کہا کہ: حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث مروی ہے جس کے الفاظ یہ ہیں:

قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم: إذا كانت ليلة النصف من شعبان ينزل الله تبارك وتعالى إلى السماء الدنيا فيغفر لعبادہ إلا ما کان من مشرك أو مشاحن لأخیہ۔

1 - بزار، المسند، جلد1، ص 207-208، رقم: 80
2 - بیہقی، شعب الإیمان، جلد3، ص 381، رقم: 3829

’’حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کہ ماہ شعبان کی پندرہویں شب اللہ تبارک وتعالیٰ آسمانِ دنیا پر اپنی شان کے مطابق نزولِ اِجلال فرماتا ہے، مشرک اور اپنے مسلمان بھائی کے ساتھ بغض اور عناد رکھنے والے شخص کے سوا سب بندوں کی (یعنی جو اُس سے بخشش طلب کرتے ہیں) بخشش فرما دیتا ہے۔‘‘

اِس حدیث میں بخشش و مغفرت کا دائرہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اور زیادہ وسیع فرما دیا۔ پہلی حدیث میں بنو کلب کی بہت بکریاں تھیں، اُن بکریوں کے بالوں سے بھی زیادہ یہ تمثیلًا فرمایا تاکہ عرب لوگ اس معاشرے کے رہنے والے لوگ اچھی طرح سمجھ جائیں کہ بخشش بے حساب فرماتا ہے۔ مگر دوسری حدیث میں تمثیل بھی نہیں دی صرف دو استثناء کیے، ایک وہ شخص جو اللہ کے ساتھ شرک کرتا ہے اور ایک وہ شخص جو اپنے بھائیوں کے لیے دل میں بغض اور عناد اور عداوت رکھتا ہے، کینہ پرور ہے، اِن کے سوا سب کی بخشش فرما دیتا ہے۔

اس حدیث کو امام بزار نے روایت کیا ہے اپنی مسند میں اور امام بیہقیؒ نے روایت کیا ہے یہ کہتے ہوئے کہ اِس کی اسناد میں یعنی اس کی ثقاہت و قبولیت میں کوئی حرج اور کوئی سقم نہیں ہے۔

شیخ الاسلام نے مزید کہا کہ: حضرت عبداللہ بن عمروؓ سے بھی مروی ہے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا:

يَطَّلِعُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَى خَلْقِهِ لَيْلَةَ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ فَيَغْفِرُ لِعِبَادِهِ إِلَّا لِاثْنَيْنِ مُشَاحِنٍ وَقَاتِلِ نَفْسٍ.

أحمد بن حنبل، المسند، جلد2، ص 176، رقم: 6642

15 شعبان کی اس رات کو یعنی نصف شعبان کی شب کو اللہ رب العزت آسمان دنیا پر اپنی شان جلالت کے مطابق اظہار فرماتا ہے اور 2 افراد کے سوا یعنی جو چغل خور ہیں جو اپنے بھائی کی پشت کے پیچھے اس کی چغلی کرتے ہیں، غیبت کرتے ہیں، برائی بیان کرتے ہیں، اس کے علاوہ جو قاتل ہے، یعنی بے گناہوں کا قتل کرنے والا، اِن کے سوا اللہ پاک سب طالبان بخشش و مغفرت کی مغفرت فرما دیتا ہے۔

اس حدیث کو امام احمد بن حنبل نے اپنی مسند میں روایت کیا اور امام ہیثمی نے ’’مجمع الزوائد‘‘ میں روایت کیا ہے اور احمد شاکر نے مسند امام احمد بن حنبل کی تحقیق میں اس حدیث کو صحیح قرار دیا اور امام جلال الدین سیوطی اور دیگر ائمہ نے نے بھی اس کی توثیق کی ہے۔

بلاگر: ڈاکٹر محمد اقبال چشتی (ریسرچ اسکالر)

تبصرہ

ویڈیو

Ijazat Chains of Authority
Top