شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری دامت برکاتہم العالیہ کا ’’حضور نبی اکرم ﷺ کے اخلاقِ کریمانہ‘‘ کے عنوان پر چوتھی روحانی و تربیتی نشست سے خطاب

لاہور: شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری دامت برکاتہم العالیہ نے مرکزی سیکرٹریٹ پر منعقدہ چوتھی اخلاقی و روحانی تربیتی نشست سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح قرآن مجید کے معانی و معارف کی کوئی حد نہیں اسی طرح حدیثِ نبوی بھی ایک بحرِ بیکراں ہے۔ اس سے فائدہ اٹھانے کا دار و مدار اس بات پر ہے کہ انسان کس قدر گہرائی کے ساتھ اس کے اندر اترتا ہے۔
انہوں نے حدیثِ سیدہ خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا کی روشنی میں سیرت النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صلہ رحمی کرتے ہیں۔ صلۂ رحمی کے لسانی، سماجی، اخلاقی، نفسیاتی اور عملی پہلوؤں کے علاوہ اس کے روحانی اور باطنی معانی بھی ہیں۔ صلۂ رحمی کا مطلب یہ ہے کہ انسان نہ صرف خونی رشتوں کو مضبوط کرے بلکہ معاشرے میں محبت اور تعلقات کو بھی مضبوط بنائے، رحم کا بنیادی معنی ماں کا رحم ہے جہاں سے انسان کی تخلیق کا آغاز ہوتا ہے۔ اسی طرح انسان کے اندر بھی مختلف قوتیں اور صلاحیتیں موجود ہوتی ہیں جیسے سماعت، بصارت، حافظہ، جذبات اور مختلف میلانات۔ یہ سب ایک ہی اصل سے پیدا ہوتے ہیں لیکن زندگی کے مختلف مراحل میں بکھر جاتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حضور نبی اکرم ﷺ کی ذاتِ اقدس کا کمال یہ ہے کہ آپ نہ صرف لوگوں کے درمیان ظاہری تعلقات کو جوڑتے ہیں بلکہ انسان کے باطن اور اندرونی دنیا کو بھی یکجا کر دیتے ہیں۔ آپ ﷺ کی نگاہِ نبوت انسان کے بکھرے ہوئے باطن کو بھی ایک مرکز پر جمع کر دیتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ آج کے انسان کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ وہ ظاہر میں تو ایک نظر آتا ہے مگر باطن میں منتشر ہے۔ آنکھ کچھ اور دیکھنا چاہتی ہے، کان کچھ اور سننا چاہتے ہیں، دل کسی اور طرف مائل ہوتا ہے اور ذہن کسی اور سمت میں بھٹک رہا ہوتا ہے۔ یہ باطنی انتشار دراصل روحانی کمزوری کی علامت ہے۔ حقیقی صلۂ رحمی یہ ہے کہ انسان کے اندر موجود تمام قوتیں، رجحانات اور خواہشات ایک مرکز پر جمع ہو جائیں اور وہ مرکز اللہ تعالیٰ کی رضا ہو۔ جب انسان کا دل اللہ کی طرف متوجہ ہو جائے اور عقل، دل اور نفس سب اسی مقصد کے تابع ہو جائیں تو انسان کے اندر وحدت پیدا ہو جاتی ہے، حضور نبی اکرم ﷺ کی حیاتِ مبارکہ اس وحدتِ باطن کی کامل مثال ہے۔ آپ ﷺ کی خواہشات، ترجیحات، محبت، خوف اور امید سب کا مرکز صرف اللہ تعالیٰ کی ذات تھی۔ اسی لیے آپ ﷺ کی ذات مبارکہ ظاہر اور باطن دونوں اعتبار سے کامل ہم آہنگی کا نمونہ ہے۔
شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری دامت برکاتہم العالیہ نے مزید کہا کہ جب انسان کے دل و دماغ میں یہ وحدت پیدا ہو جائے تو اس کی سماعت، بصارت، عقل اور نفس سب اللہ کی اطاعت کے تابع ہو جاتے ہیں اور اس کی پوری باطنی دنیا اللہ کی عبادت اور اطاعت کی گواہی دینے لگتی ہے۔






























تبصرہ