تمام قدیم مذاہب اِس اَمر پر متفق رہے ہیں کہ اللہ ربّ العزّت کی ذاتِ اقدس موجود ہے:پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری
بدھ مت اور ہندو مت میں خدا کا تصور موجود ہے، مگر خدا کی ذات اور صفات کے متعلق اُن میں واضحیت نہیں ملتی: صدر منہاج القرآن
تمام قدیم مذاہب اور اَفکار اِس حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ خالق ایک ہے اور اقتدار اسی کا ہے: صدر منہاج القرآن
دنیا کے مختلف مذاہب میں خدا کے تصور کی نوعیت مختلف ہے، لیکن ایک جامع جائزے سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ قدیم مذاہب اور فکری روایتیں کسی نہ کسی صورت میں ایک اعلیٰ خالق اور نظامِ کائنات کے حاکم کی موجودگی کو تسلیم کرتی ہیں۔ تمام قدیم مذاہب اس امر پر متفق ہیں کہ اللہ ربّ العزّت کی ذاتِ اقدس موجود ہے اور ہر شے اس کے اقتدار کے تابع ہے۔ تاہم غیر ابراہیمی مذاہب، جیسے بدھ مت اور ہندو مت، میں خدا یا اعلیٰ روحانی حقیقت کا تصور موجود ہونے کے باوجود اس کے تشخص، ذات اور صفات کے بارے میں واضح رہنمائی نہیں ملتی، جس کی وجہ سے ان مذاہب میں الوہیت کا تصور کچھ حد تک مبہم اور متنوع انداز میں ظاہر ہوتا ہے۔ اس طرح یہ کہا جا سکتا ہے کہ خدا کے وجود کا شعور ہر مذہبی اور فکری روایت میں موجود رہا، اگرچہ وضاحت اور تشخص کے پہلو میں فرق پایا جاتا ہے۔
قدیم مذاہب میں تصوّرِ خدا:
پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ: دنیا کے تمام مذاہب کو مجموعی طور پر دو یا تین بڑی کیٹیگریز میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ ایک کیٹیگری میں بدھ مت، ہندو مت اور جین مت جیسے مذاہب شامل ہیں، جبکہ دوسری کیٹیگری ابراہیمی مذاہب پر مشتمل ہے، یعنی وہ مذاہب جن کا تعلق سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی ذاتِ مبارکہ سے جا ملتا ہے۔ بعض اہلِ علم ان کے علاوہ ایک تیسری قسم کا بھی ذکر کرتے ہیں، مگر بنیادی تقسیم یہی سمجھی جاتی ہے۔
جب بدھ مت میں خدا کے تصور کا مطالعہ کیا جائے تو یہ بات نمایاں ہوتی ہے کہ وہاں کسی نہ کسی اعلیٰ اور برتر حقیقت کا تصور ضرور موجود ہے، ایک ایسی روحانی یا ماورائی حقیقت جو کائنات کی بنیاد اور اس کے نظام کی کار فرما ہے، مگر یہ واضح نہیں کیا جاتا کہ وہ حقیقت کون ہے، اس کی ذات کیا ہے اور کیا اسے پہچانا جا سکتا ہے یا نہیں۔ اسی ابہام کی وجہ سے بدھ مت کو عمومًا ایک ’’اگناسٹک‘‘ مذہب کہا جاتا ہے، کیونکہ اس میں الوہیت کا تصور تو ہے مگر خدا کی ذات، صفات اور تشخص پر واضح رہنمائی نہیں ملتی۔
اسی طرح ہندو مت میں بھی ایک اعلیٰ اور آخری روحانی حقیقت، یعنی ultimate divine reality، کا تصور پایا جاتا ہے جو کائنات کی خالق سمجھی جاتی ہے، لیکن اس تصور کا دوسرا رخ یہ ہے کہ اس حقیقت کو مختلف صورتوں، علامتوں اور مظاہر میں تقسیم کر دیا جاتا ہے۔ یوں الوہیت کا تصور موجود رہتا ہے، مگر اس کا تشخص پھیل جاتا ہے اور وحدانی وضاحت باقی نہیں رہتی، اگرچہ یہ بات تسلیم کی جاتی ہے کہ کوئی ایک برتر روحانی قوت ضرور ہے جو ہر شے کی اصل اور محرّک ہے۔
ابراہیمی مذاہب میں تصورِ خدا:
پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے مزید کہا کہ: یہ دونوں مذاہب قدیم ترین مذاہب میں شمار ہوتے ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ کے تصور کو ابراہیمی مذاہب میں پوری وضاحت اور جامعیت کے ساتھ بیان کر دیا گیا ہے۔ ابراہیمی مذاہب میں یہودیت، مسیحیت اور بالآخر اسلام شامل ہیں۔ ان تینوں مذاہب، اور بالخصوص اسلام میں، اللہ ربّ العزّت کی ذات، اس کے علم، اس کی صفات اور اس کی قدرت کے بارے میں واضح اور مکمل رہنمائی عطا کی گئی ہے۔ یہ بیان کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی ہر چیز کو جاننے والا، پیدا کرنے والا اور کائنات کے نظام کو چلانے والا ہے، اور اس کی صفات کامل اور بے مثال ہیں۔
یہاں تک کہ اسلام نے اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات کو انتہائی جامع انداز میں واضح کیا اور انسان کو یہ تعلیم دی کہ وہ اللہ کے وجود پر اس کی تمام شانوں اور صفات کے ساتھ کامل ایمان رکھے۔ درحقیقت اللہ تعالیٰ کے وجود پر غیر متزلزل اعتقاد ہی وہ بنیادی تصور ہے جس پر تینوں ابراہیمی مذاہب کی فکری اور اعتقادی عمارت قائم ہے۔
قدیم مذاہب میں (Divine Reality) کا مشترکہ تصور:
ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے کہا کہ مذاہب کو عمومی طور پر دو بڑی کیٹیگریز میں رکھا جا سکتا ہے، لیکن اس تقسیم کے باوجود ایک حقیقت ایسی ہے جس پر تمام مذاہب کسی نہ کسی درجے میں متفق نظر آتے ہیں۔ وہ یہ کہ ایک ایسی برتر اور ماورائی حقیقت ضرور موجود ہے جس نے اس پوری کائنات کو تخلیق کیا اور جو اس کے نظام کو چلا رہی ہے۔ حتیٰ کہ مشرکانہ معاشروں میں بھی، جہاں توحید کا واضح تصور موجود نہیں تھا، وہاں بھی اس بات سے انکار نہیں ملتا کہ انسان سے بالا تر کوئی ایک اعلیٰ اور طاقت ور ہستی موجود ہے جو خالق اور مدبرِ کائنات ہے۔
اگر اسی نکتے کو آگے بڑھا کر قدیم فلسفوں، مذاہب اور فکری روایتوں کا مجموعی مطالعہ کیا جائے تو یہ حقیقت مزید واضح ہو جاتی ہے کہ کسی ایک نے بھی کسی ایسی بلند اور اعلیٰ ذات کے وجود کا انکار نہیں کیا جس نے سب کو پیدا کیا ہو اور جو اس کائنات کے نظام کو چلا رہی ہو۔ یوں یہ کہنا بجا ہے کہ divine reality یا spiritual truth کا تصور ہر مذہبی اور فکری دستاویز میں کسی نہ کسی صورت میں ضرور موجود رہا ہے۔
بلاگر: ڈاکٹر محمد اِقبال چشتی (ریسرچ اسکالر)


















تبصرہ