انسان کے مادی وجود میں ایک ایسی فطری جستجو رکھی گئی ہے جو اُسے بار بار اپنے خالق کی یاد اور تلاش کی طرف متوجہ کرتی رہتی ہے:پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری

جب تک انسان کسی اعلیٰ اور ماورائی حقیقت پر ایمان نہیں لاتا، اُس کے باطن میں ایک انجانا خلا باقی رہتا ہے: صدر منہاج القرآن
جینز انسانی وجود کا وہ بنیادی نقشہ ہیں جن میں جسمانی اور حیاتیاتی خصوصیات کے آثار محفوظ ہوتے ہیں: صدر منہاج القرآن

سائنس اور مذہب کے تعلق پر گفتگو کرتے ہوئے ایک بنیادی حقیقت سامنے آتی ہے کہ یہ دونوں انسانی تجربے کے مختلف مگر تکمیلی پہلوؤں سے تعلق رکھتے ہیں۔ سائنس انسان کے مادی وجود، اس کے جینیاتی نقشے اور کائناتی نظم کو سمجھنے کا ذریعہ فراہم کرتی ہے، جبکہ مذہب اس وجود کے مقصد، معنویت اور ماورائی حقیقت سے تعلق کو واضح کرتا ہے۔ انسان کے اندر رکھی گئی فطری جستجو اُسے بار بار اپنے خالق کی یاد اور تلاش کی طرف متوجہ کرتی ہے، اور یہی باطنی پیاس اُسے محض مادی ترقی پر اکتفا کرنے نہیں دیتی۔ جینز جہاں جسمانی اور حیاتیاتی خصوصیات کا خاکہ محفوظ رکھتے ہیں، وہیں انسانی شعور ایک ایسے سوال کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے جو سائنس کی حدوں سے آگے بڑھ کر معنی، مقصد اور ایمان کی تلاش کرتا ہے۔ یوں انسان کی مکمل تفہیم اسی وقت ممکن ہوتی ہے جب مادی علم اور روحانی بصیرت کو باہم مربوط تناظر میں دیکھا جائے۔

سائنس اور مذہب: ایک فکری مکالمہ:

پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ: اگر کوئی یہ دعویٰ کرے کہ سائنس نے مذہب کی ضرورت ختم کر دی ہے، تو اس کا جواب بھی سائنسی زبان ہی میں دیا جا سکتا ہے۔ حاضرینِ گرامی! جدید دور کی نمایاں سائنسی تحقیقات میں ڈی این اے اور جینیٹکس کو مرکزی حیثیت حاصل ہے، جن پر وسیع پیمانے پر تحقیق ہو چکی ہے۔ ہر انسان کے جسم کے ہر حصے میں حتیٰ کہ ایک بال میں بھی اُس کا منفرد ڈی این اے موجود ہوتا ہے۔ یہی ڈی این اے کسی جرم کی تفتیش میں شناخت کے لیے استعمال ہوتا ہے اور نسب کی تصدیق میں بھی مدد دیتا ہے۔ درحقیقت اس میں انسان کی خاندانی تاریخ، جینیاتی خصوصیات اور ممکنہ صحت کے رجحانات تک کی معلومات پوشیدہ ہوتی ہیں۔ گویا ڈی این اے انسان کے وجود کا ایک نہایت جامع اور منظم ریکارڈ رکھتا ہے، جو یہ بتاتا ہے کہ وہ کہاں سے آیا، اس کی حیاتیاتی ساخت کیا ہے، اور کِن جسمانی امکانات سے دوچار ہو سکتا ہے۔ اس طرح جدید سائنس خود انسانی تخلیق کے حیرت انگیز نظم اور گہرے شعور کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ یہ ایک ایسا نظام ہے جو انسان کو سوچنے، سمجھنے اور اپنے وجود کے معنی تلاش کرنے کی دعوت دیتا ہے۔

ڈی این اے اور انسانی وجود:

ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے مزید کہا کہ: اب سائنس بتدریج ڈی این اے کے اَسرار کو سمجھنے کی کوشش کر رہی ہے، سائنس اس کو کتنا جان پاتی ہے، کتنی معلومات حاصل کر سکتی ہے، یہ تحقیق کا مسلسل سفر ہے۔ اب میں اس کو مزید سمجھاتا ہوں کہ ڈی این اے کام کیسے کرتا ہے؟ اسے آسان انداز میں یوں سمجھیں کہ جیسے کمپیوٹر ایک مخصوص زبان اور کوڈنگ کے ذریعے کام کرتا ہے۔ کمپیوٹر کی بنیاد بائنری کوڈ پر ہوتی ہے، جن سے اس کا پورا نظام تشکیل پاتا ہے۔ اسی طرح ڈی این اے بھی ایک حیاتیاتی زبان رکھتا ہے، اور اس زبان کے بنیادی ’’حروف‘‘ جینز کہلاتے ہیں۔ ہر جین اپنے اندر مخصوص خصوصیات اور معلومات محفوظ رکھتا ہے، جو انسان کی جسمانی ساخت، عادات، رجحانات اور کئی حیاتیاتی کیفیات پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ جینز انسانی وجود کا بنیادی نقشہ ہیں۔ جدید جینیاتی تحقیق میں بعض سائنس دانوں نے یہ رائے بھی پیش کی کہ انسان کے اندر وراثتی سطح پر ایسے رجحانات پائے جاتے ہیں جو اس کے روحانی یا معنوی میلانات سے تعلق رکھتے ہیں۔ مثال کے طور پر ایک مشہور سائنس دان ’’ڈین ہیمر‘‘ نے 2004 میں اپنی کتاب میں ایک ایسے جینیاتی رجحان پر بحث کی جسے اُس نے ’’god gene‘‘ کا نام دیا؛ یعنی ایسا وراثتی عنصر جو انسان میں روحانی میلان سے وابستہ ہو سکتا ہے۔ اگرچہ یہ نظریہ سائنسی حلقوں میں بحث کا موضوع رہا، مگر اس سے یہ ضرور ظاہر ہوتا ہے کہ سائنس انسانی وجود کے مادی اور معنوی پہلوؤں کو سمجھنے کی کوشش جاری رکھے ہوئے ہے۔

ڈاکٹر حسین محی الدین نے کہا کہ ڈین ہیمر ’’گاڈ جین‘‘ کے متعلق لکھتا ہے کہ: میرے مطالعے کے مطابق بعض محققین یہ رائے پیش کرتے ہیں کہ انسان کے ڈی این اے میں ایک ایسا وراثتی رجحان موجود ہوتا ہے جو اسے روحانیت اور ماورائی حقیقت کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ یعنی انسان کے اندر فطری طور پر ایک جستجو رکھی گئی ہے جو اسے اپنے وجود کے معنی اور اپنے خالق کی تلاش پر آمادہ کرتی ہے۔ اس خیال کو بعض لوگوں نے ایک مخصوص جینیاتی رجحان کے استعارے سے بیان کیا ہے، گویا انسان کے اندر ایک ایسی داخلی پکار موجود ہے جو اسے محسوس کراتی رہتی ہے کہ محض مادی زندگی کافی نہیں۔ جب تک وہ کسی اعلیٰ حقیقت یا روحانی مقصد سے اپنا تعلق قائم نہ کرے، اسے ایک خلا اور بے چینی محسوس ہو سکتی ہے۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ انسان کی ساخت میں معنویت کی تلاش اور ماورائی شعور کی خواہش ایک فطری میلان کے طور پر موجود ہے، جو اُسے غور و فکر، ایمان اور روحانی سمت کی طرف بلاتی رہتی ہے۔

یوں سمجھیں کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کی رہنمائی کے کئی واضح ذرائع رکھے ہیں۔ ہدایت کے لیے قرآن مجید اور حضورِ اکرم ﷺ کی تعلیمات موجود ہیں، انسان کے باطن میں روح ہے جو اسے خیر و شر کا شعور دیتی ہے، اور انسانی فطرت میں بھی ایک ایسا میلان پایا جاتا ہے جو اسے معنویت اور مقصد کی تلاش کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ اس تناظر میں اگر کوئی شخص خدا یا مذہب کے تصور سے انکار کرتا ہے تو وہ دراصل ایک فکری اختلاف کا اظہار کر رہا ہوتا ہے، جسے سمجھنے اور مکالمے کے ذریعے پرکھنے کی ضرورت ہے، نہ کہ اسے محض طعن یا بیماری قرار دینے کی۔ نوجوان نسل کے لیے ضروری ہے کہ جدید خیالات کو اندھی تقلید کے بجائے شعور، تحقیق اور توازن کے ساتھ دیکھے۔ دنیا کی بہت سی چیزیں بظاہر دلکش ہو سکتی ہیں، مگر اصل کامیابی اسی میں ہے کہ انسان دلیل، اخلاق اور باطنی بصیرت کے ساتھ اپنے راستے کا انتخاب کرے۔

بلاگر: ڈاکٹر محمد اِقبال چشتی (ریسرچ اسکالر)

تبصرہ

ویڈیو

Ijazat Chains of Authority
Top