سیرتِ نبوی ہمیں سکھاتی ہے کہ اعتدال اور وسعت ہی کامل شخصیت کی پہچان ہے: شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری
حضور نبی اکرم ﷺ لوگوں کے مزاج اور ضرورت کے مطابق گفتگو فرما کر محبت اور قربت پیدا کرتے تھے: شیخ الاسلام کا خطاب حضور نبی اکرم ﷺ کی مجلس میں دین اور دنیا کے درمیان ایک حَسین توازن نظر آتا تھا: شیخ الاسلام کا خطاب
سیرتِ نبوی میں وسعتِ قلبی کا پہلو ہمیں ایک ایسی متوازن اور ہمہ گیر شخصیت کا تصور دیتا ہے جس میں محبت، اعتدال اور انسان فہمی اپنی بلند ترین صورت میں جلوہ گر نظر آتے ہیں۔ حضور نبی اکرم ﷺ کی حیاتِ مبارکہ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ کامل شخصیت وہ ہے جو لوگوں کے مزاج، ضرورت اور حالات کو سمجھتے ہوئے گفتگو اور رویّے میں توازن قائم رکھے۔ آپ ﷺ کی مجلس میں دین اور دنیا کے درمیان ایک حَسین ہم آہنگی دکھائی دیتی تھی، جہاں ہر شخص خود کو قریب، مطمئن اور قابلِ قدر محسوس کرتا تھا۔ یہی وسعتِ قلبی دراصل سیرتِ نبوی کا وہ روشن پہلو ہے جو ہمیں سکھاتا ہے کہ اعتدال، شفقت اور سماجی موافقت ہی انسانی تعلقات کو مضبوط اور بامعنی بناتے ہیں۔
مجلسِ رسول ﷺ کا حَسین توازن:
مجدّد المئۃ الحاضرۃ حضور شیخ الاسلام دامت برکاتہم العالیۃنے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ: حضور نبی اکرم ﷺ کی پوری سیرت مبارکہ عبادت سے عبارت ہے، مگر اس عبادت کے ساتھ آپ ﷺ کے مزاج میں ایسی وسعت اور توازن تھا جس کی مثال کم ہی ملتی ہے۔ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب ہم حضور نبی اکرم ﷺ کی مجلس میں بیٹھتے تو آپ ہمارے ساتھ نہایت محبت اور ہم آہنگی سے گفتگو فرماتے۔ اگر ہم آخرت کی بات کرتے تو آپ ﷺ بھی آخرت کا ذکر فرماتے، اور اگر ہم دنیا، تجارت یا روزمرہ معاملات کی گفتگو شروع کرتے تو آپ ﷺ بھی اسی موضوع پر بات کرتے۔ اسی طرح اگر کھانے پینے کا ذکر ہوتا تو آپ ﷺ بھی اس موضوع میں شریکِ گفتگو ہو جاتے۔ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ:
وَکُلُّ ھَذَا أُحَدِّثُکُمْ عَنْ رَسُوْلِ اللہِ ﷺ
’’یہ جو کچھ بھی میں بیان کر رہا ہوں، یہ سب ہمارے رسول ﷺ کے مبارک طرزِ عمل کا حصہ تھا۔‘‘ (أبو الشیخ الأصبہانی، أخلاق النبی وآدابہ، جلد1، ص 79، رقم: 4)
یعنی مجلس میں جب لوگ آخرت یا جنت کا ذکر کرتے تو حضور نبی اکرم ﷺ بھی انہی موضوعات پر گفتگو فرماتے۔ اگر حاضرین دنیاوی کاروبار یا روزمرہ معاملات کی بات کرتے تو آپ ﷺ اسی گفتگو میں شامل ہو جاتے، اور جب کھانے پینے کا ذکر ہوتا تو آپ ﷺ بھی اس میں شریک رہتے۔ گویا آپ ﷺ اہلِ مجلس کے مزاج اور دلچسپی کو ملحوظ رکھتے ہوئے انہی موضوعات پر بات کرتے جن میں وہ خوشگواری محسوس کرتے، تاکہ حضور نبی اکرم ﷺ کی مجلس میں بیٹھنے والا ہر شخص خود کو آپ ﷺ کے قریب، مطمئن اور باادب ماحول میں محسوس کرے۔
ایسا نہیں ہے کہ کوئی مختلف ذوق رکھنے والا شخص آپ ﷺ کی مجلس میں بیٹھنا پسند ہی نہ کرے، کیونکہ یہ اُس کا ذوق ہے، ہاں حلال اور حرام کی حدود ہیں، جائز اور ناجائز کی حدود ہیں، اَمر و نہی کی حدود ہیں۔ اہلِ مجلس کے ساتھ موافقت رکھنا، سوچ میں، گفتگو میں، عمل میں یہ دین کی روح ہے اور سیرتِ نبوی ﷺ کا خاص حصہ ہے۔
حضور نبی اکرم ﷺ کی شفقت ورحمت کا عالَم:
شیخ الاسلام پروفیسر ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے مزید کہا کہ: آقا ﷺ کی شفقت اور رحمت کا عالم یہ تھا کہ مدینہ منورہ میں وہ باندیاں جو مختلف جنگوں سے قید ہو کر آگئیں، چونکہ اُن کا کوئی دیکھ بھال کرنے والا نہیں ہوتا تھا، وہ تمام باندیاں آپ ﷺ کی ذات سے سہارا پاتی تھیں۔ جب کسی باندی کو ضرورت پیش آتی تو وہ بلا جھجھک حضور نبی اکرم ﷺ کے پاس آ کر آپ کا ہاتھ پکڑتی اور آپ ﷺ نہایت شفقت سے اس کی بات سنتے اور اس کی حاجت پوری فرماتے۔ اس طرزِ عمل سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپ ﷺ کمزور اور محتاج لوگوں کے لیے سراپا رحمت اور سہارا تھے۔
حضرت انس بن مالک سے روایت ہےکہ:
كَانَتِ الْأَمَةُ مِنْ إِمَاءِ أَهْلِ الْمَدِينَةِ لَتَأْخُذُ بِيَدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وآلہ وَسَلَّمَ فَتَنْطَلِقُ بِهِ حَيْثُ شَاءَتْ
’’(رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اخلاقِ کریمانہ کا یہ حال تھا کہ) مدینہ منورہ کی باندیوں میں سے کوئی باندی بھی آپ ﷺ کا ہاتھ پکڑ لیتی اور اپنے کسی بھی کام کے لیے جہاں چاہتی آپ ﷺ کو لے جاتی تھی (اور جو چاہتی تھی آپ ﷺ اُس کے تمام کام کاج کر دیتے تھے)۔‘‘ (بخاری، الصحیح، جلد 5، ص 2255، رقم: 5724)
حضور نبی اکرم ﷺ کی شفقت کا یہ عالَم تھا کہ باندی کو بھی آپ ﷺ کا ہاتھ پکڑنے میں خوف محسوس نہیں ہوتا تھا۔
بلاگر: ڈاکٹر محمد اقبال چشتی (ریسرچ اسکالر)


















تبصرہ