حقیقی مؤمن وہی ہے جو مولا علیؑ سے محبت کرے: پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری

مولا علی علیہ السلام سے محبت حقیقت میں نبی اکرم ﷺ سے محبت ہے: صدر منہاج القرآن

احادیثِ نبوی ﷺ کی روشنی میں مولا علی علیہ السلام کی محبت محض ایک جذباتی وابستگی نہیں بلکہ ایمان کی حقیقی کسوٹی ہے، کیونکہ رسولِ اکرم ﷺ نے واضح فرمایا کہ مولا علیؑ سے محبت مؤمن کی علامت اور اُن سے بغض نفاق کی نشانی ہے۔ اسی لیے حقیقی مؤمن وہی ہے جو مولا علی علیہ السلام سے قلبی، فکری اور عملی محبت رکھے، کیونکہ یہ محبت دراصل اطاعتِ رسول ﷺ، وفاداریٔ دین اور صداقتِ ایمان کا مظہر بنتی ہے۔ مولا علی علیہ السلام سے محبت حقیقت میں نبی اکرم ﷺ سے محبت ہی کا تسلسل ہے، اس لیے جو دل مولا علیؑ کے لیے محبت سے معمور ہو وہ دراصل سنتِ نبوی ﷺ اور روحِ اسلام سے وابستگی کا اعلان کر رہا ہوتا ہے۔ احادیثِ رسول میں جتنے مناقب، فضائل، کمالات، خصائل مولا علی علیہ السلام کی شان سے متعلق وارد ہوئے ہیں کسی اور صحابی کے متعلق وارد نہیں ہوئے۔

محبتِ مولا علیؑ میزانِ ایمان اور معیارِ اخلاص ہے

پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ: مولا علی شیر خدا رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں آقا علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک مرتبہ ارشاد فرمایا، حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

النَّاسُ مِنْ شَجَرٍ شَتَّى، وَأَنَا وَعَلِيٌّ مِنْ شَجَرَةٍ وَاحِدَةٍ۔

’’تمام لوگ الگ الگ درختوں سے ہیں مگر میں اور علی ایک درخت سے ہیں۔‘‘(طبرانی، المعجم الأوسط، جلد4، ص 263، رقم: 4150)

اس حدیث کی توضیح میں ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے کہا کہ: تاجدار کائنات ﷺ فرما رہے ہیں کہ دنیا میں لوگ الگ الگ درختوں سے ہیں، مگر میری نسبت مولا علیؓ سے ایسی ہے کہ ہم دونوں ایک ہی درخت سے ہیں۔ تو قربان جائیں ایسی عظیم نسبت پر کہ اِس جیسی نسبت کسی کو کبھی میسر نہ آئی۔ مولا علی علیہ السلام ارشاد فرماتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عہد کیا کہ:

أَنَّهُ لَا يُحِبُّكَ إِلَّا مُؤْمِنٌ وَلَا يَبْغَضُكَ إِلَّا مُنَافِقٌ.

’’بے شک مجھ سے محبت صرف مومن کرے گا، اور مجھ سے بغض و نفرت صرف منافق کرے گا‘‘ترمذی، السنن، جلد5، ص 643، رقم: 3736

یوں سمجھ لیجیے کہ تاجدارِ کائنات حضرت محمد مصطفی ﷺ گویا یہ فرما رہے ہیں: اے علیؓ! جو شخص حقیقی مؤمن ہے اُس کے لیے تم سے محبت محض ایک اختیار نہیں بلکہ ایمان کی ناگزیر ضرورت ہے۔ جس طرح مچھلی پانی کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتی، اسی طرح سچا مؤمن تمہاری محبت کے بغیر باقی نہیں رہ سکتا۔ اور جس کے دل میں نفاق ہو، جو تم سے یا اہلِ بیتِ اطہارؓ سے بغض رکھتا ہو، اُس کے دل میں تمہاری محبت کبھی جگہ نہیں پا سکتی۔ اسی لیے حضور نبی اکرم ﷺ نے ایمان کی ایک واضح نشانی بیان فرما دی کہ جو علیؓ سے محبت کرے وہ مؤمن ہے اور جو علیؓ سے بغض رکھے وہ منافق ہے۔ بعد ازاں صحابہ کرامؓ بیان فرماتے ہیں کہ ہم اس معیار کو لوگوں پر آزمایا کرتے تھے؛ اگر کسی کے سامنے مولا علی شیرِ خداؓ کا ذکر کیا جاتا اور اُس کے چہرے پر خوشی آ جاتی تو ہم جان لیتے کہ یہ سچا مؤمن اور غلامِ مصطفی ﷺ ہے، اور اگر کسی کے چہرے پر ناگواری یا بیزاری کے آثار ظاہر ہو جاتے تو ہم سمجھ لیتے کہ یہ محض ظاہری دعویٰ ہے، دل کے اندر نفاق چھپا ہوا ہے۔

مولا علیؑ کو دیکھنا عین عبادت ہے

ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے مزید کہا کہ: سیدہ عائشہ صدیقہؓ روایت فرماتی ہیں کہ میں نے اپنے والد گرامی سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا کہ اے بابا جان! آپ مولا علی المرتضیؓ کا چہرہ کیوں تکتے رہتے ہیں؟ تو آپؓ فرمانے لگے بیٹی عائشہؓ، کیونکہ میں نے تاجدار کائنات ﷺ کو فرماتے سنا کہ:

النظر في وجه علي عبادة۔

’’مولا علیؑ کے چہرے کو تکنا بھی عبادت ہے‘‘ (ابن عساکر، تاریخ مدینۃ دمشق، جلد42، ص: 350)

اسی طرح ایک مقام پر یہ بھی ارشاد فرمایا گیا کہ حضرت علیؓ کا ذکر خود عبادت ہے۔ آج ہم یہاں مولا علی شیرِ خداؓ کے ذکر کے لیے جمع ہوئے ہیں، اس لیے اس مجلس کی ابتداء سے لے کر انتہاء تک، جب تک مولا علی المرتضیٰؓ کے مناقب بیان ہوتے رہیں گے، چاہے مقررین خطابات کریں یا ثنا خوان فضائل و مناقب پیش کریں، یہ پورا وقت عبادت میں شمار ہوگا۔ پس آپ سب یہ بات جان لیجیے کہ اس مجلس کا پہلا لمحہ ہو یا آخری لمحہ، جب تک ذکرِ علیؓ جاری ہے آپ عبادت میں مشغول ہیں، کیونکہ مولا علی المرتضیٰؓ کا ذکر خود عبادت ہے۔

ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے مزید توضیح کرتے ہوئے کہا کہ: اب ذرا آئیے کچھ روایات مولا علی شیر خداؓ کی اپنی زبان سے اُن کے بارے میں سنتے ہیں جو احادیث میں وارد ہوئی ہیں۔ مولا علی شیر خداؓ بیان فرماتے ہیں کہ:

بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْيَمَنِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ تَبْعَثُنِي وَأَنَا شَابٌّ أَقْضِي بَيْنَهُمْ وَلَا أَدْرِي مَا الْقَضَاءُ قَالَ فَضَرَبَ بِيَدِهِ فِي صَدْرِي ثُمَّ قَالَ اللَّهُمَّ اهْدِ قَلْبَهُ وَثَبِّتْ لِسَانَهُ قَالَ فَمَا شَكَكْتُ بَعْدُ فِي قَضَاءٍ بَيْنَ اثْنَيْنِ.

’’مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یمن کی طرف بھیجا، میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ مجھے (قاضی بنا کر) یمن بھیج رہے ہیں، اور میں (جوان) ہوں، لوگوں کے درمیان مجھے فیصلے کرنے ہوں گے، اور میں یہ بھی نہیں جانتا کہ فیصلہ کیا ہوتا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے سینہ پر ہاتھ رکھا پھر فرمایا: اے اللہ! اس کے دل کو ہدایت فرما، اور اس کی زبان کو ثابت رکھ، پھر اس کے بعد مجھے دو آدمیوں کے درمیان فیصلہ کرنے میں کبھی کوئی تردد اور شک نہیں ہوا‘‘ (ابن ماجہ، السنن، جلد2، ص774، رقم: 2310)

پھر مولا علی شیرِ خداؓ خود ارشاد فرماتے ہیں کہ اس کے بعد مجھے یوں محسوس ہوا گویا سارا علم میرے دل میں منتقل ہو گیا ہو اور میرا قلب علم و فقہ سے پوری طرح لبریز ہو چکا ہو۔ اس کے بعد جب بھی دو فریقین کے درمیان فیصلہ کرنے کا موقع آیا تو مجھے کبھی کسی شک، تردد یا ابہام کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ یوں تاجدارِ کائنات ﷺ نے علی المرتضیٰؓ کو حقیقی معنوں میں مولا علی المرتضیٰؓ بنا دیا۔
حاصلِ کلام:
احادیثِ نبوی ﷺ اور مولا علیؑ کی روایات کی روشنی میں یہ حقیقت عیاں ہے کہ مولا علی المرتضیٰؓ سے محبت ایمان کی سب سے مستحکم نشانی اور دین کی حقیقی کسوٹی ہے۔ یہ محبت محض جذباتی وابستگی نہیں بلکہ قلبی اخلاص، فکری وابستگی اور عملی اطاعت کا مظہر ہے، کیونکہ جو علیؑ سے محبت کرتا ہے وہ دراصل رسول اللہ ﷺ سے محبت کا تسلسل اختیار کرتا ہے، اور جو مولا علی علیہ السلام کے ساتھ بغض رکھتا ہے وہ منافقت اور نفاق کی علامت کے سوا کچھ نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو علیؑ سے محبت کرتا ہے وہ مومن ہے اور جو بغض رکھتا ہے وہ منافق ہے، اور یہی وجہ ہے کہ صحابہؓ جب کسی کی سچائی جانچنا چاہتے تو مولا علیؑ کا نام لیتے اور اس کے چہرے کے ردّ عمل سے اس کے ایمان یا نفاق کا اندازہ لگاتے۔ مولا علیؑ کا ذکر اور ان کا دیدار بذاتِ خود عبادت ہے، اور مجالسِ مناقب میں ہر لمحہ جب ان کے فضائل بیان ہوتے ہیں تو شرکاء عبادت میں مشغول رہتے ہیں۔ ان کی علمی عظمت بھی بے نظیر ہے؛ یمن میں لوگوں کے مابین فیصلہ کرنے کے لیے جب انہیں بھیجا گیا تو رسول اللہ ﷺ نے ان کے سینہ پر دست مبارک رکھ کر دل اور زبان کو استقامت عطا فرمائی، جس کے بعد وہ کبھی فیصلہ کرنے میں تذبذب یا شک کا شکار نہ ہوئے۔ آپؑ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے علم کے ہزار باب سکھائے اور ہر باب سے ہزاروں دروازے کھل گئے، جس سے آپؑ کی حکمت، فہمِ شریعت اور عدالت کی مہارت مکمل ہوئی۔ یہی سب کچھ واضح کرتا ہے کہ مولا علیؑ نہ صرف صحابہ میں ممتاز ہیں بلکہ ایمان، علم اور اطاعت میں نبی اکرم ﷺ کے سب سے قریبی وارث اور علامت ہیں، اور جو دل ان کی محبت سے معمور ہو وہ حقیقی معنوں میں اسلام اور سنت نبوی ﷺ کے ساتھ کامل تعلق رکھتا ہے۔

بلاگر: ڈاکٹر محمد اِقبال چشتی (ریسرچ اسکالر)

تبصرہ

ویڈیو

Ijazat Chains of Authority
Top