والدین اور ازدواجی زندگی میں توازن ہی انسان کو دنیا کا سکون اور آخرت کی نجات عطا کرتا ہے:شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری

انسان عمر کے کسی بھی مرحلے میں ہو، ماں باپ کی شفقت اور محبت کبھی کم نہیں ہوتی:شیخ الاسلام کا خطاب
شریعت کی پابندی لازم ہے، مگر والدین سے گفتگو ہمیشہ احترام کے ساتھ کرنی چاہیے:شیخ الالسلام

انسان کی زندگی میں سب سے نازک اور اہم تعلقات والدین اور ازدواجی زندگی کے ہیں، جن کے حقوق کا صحیح توازن قائم کرنا ہر فرد کے لیے ایک فطری اور اخلاقی ضرورت ہے۔ والدین کی شفقت اور محبت عمر کے کسی بھی مرحلے میں کم نہیں ہوتی، اور یہ رشتہ انسان کی زندگی میں سکون، اعتماد اور روحانی تحفظ کا سرچشمہ ہے۔ اسی کے ساتھ ساتھ ازدواجی زندگی کے حقوق بھی اللہ تعالیٰ کی شریعت کے تحت مکمل طور پر ادا کرنا لازم ہے۔ حقیقی کامیابی اور سکون اسی میں ہے کہ انسان والدین اور بیوی کے حقوق کے درمیان توازن برقرار رکھے، شریعت کی پابندی کے ساتھ والدین سے گفتگو ہمیشہ ادب، احترام اور محبت کے دائرے میں کی جائے، تاکہ زندگی کے ہر تعلق میں عدل، محبت اور سکون قائم رہے۔

والدین کی شفقت اور ازدواجی رشتوں کا توازن:

مجدّد المئۃ الحاضرۃ حضور شیخ الاسلام دامت برکاتہم العالیۃنے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ: انسان کی عمر خواہ جتنی بھی بڑھ جائے، ماں باپ کی شفقت اور محبت اس کے ساتھ ہمیشہ قائم رہتی ہے؛ یہ وہ رشتہ ہے جس میں کبھی فاصلہ نہیں آتا اور نہ ہی ایک لمحے کے لیے محبت کی حرارت کم ہوتی ہے۔ ہمارے معاشرے اور ثقافت میں بعض اوقات خرابی اس لیے پیدا ہو جاتی ہے کہ تعلیم و تربیت کا فقدان ہوتا ہے، والدین خود بھی تربیت کے مراحل سے نہیں گزرے ہوتے۔ جب بیٹے کی شادی ہو جاتی ہے تو بعض اوقات والدین لاشعوری طور پر اس بات کو قبول نہیں کر پاتے کہ اب ان کی محبت میں بیوی بھی شریک ہو گئی ہے اور محبت کا دائرہ وسیع ہو گیا ہے۔ چنانچہ اگر بیٹا اپنی بیوی کے ساتھ اطمینان سے بیٹھا ہو، یا اسے سیر کے لیے باہر لے جائے تو ماں کے دل میں انجانی سی خلش اور بے چینی پیدا ہو جاتی ہے؛ وہ سوچتی ہے کہ بیٹا اس کے ساتھ پہلے جیسا کیوں نہیں رہا۔ یہ دراصل انسانی فطرت کی وہ کمزوریاں ہیں جو مناسب تربیت نہ ہونے کی صورت میں آہستہ آہستہ ظاہر ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔

اسی عدمِ توازن کے نتیجے میں بعض اوقات والدین لاشعوری طور پر بیٹے کی ازدواجی زندگی میں مداخلت شروع کر دیتے ہیں، جس سے رفتہ رفتہ تلخیاں جنم لینے لگتی ہیں اور خرابی کسی ایک طرف نہیں بلکہ دونوں طرف پیدا ہو جاتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ کوئی فردِ واحد کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک پورے معاشرتی نظام سے جڑا ہوا موضوع ہے، کیونکہ والدین بھی کبھی بچے اور نوجوان تھے، مگر انہیں نہ مناسب تعلیم ملی، نہ تربیت، نہ حقوق و فرائض کا شعور دیا گیا۔ انہیں یہ نہیں سکھایا گیا کہ عدل اور اعتدال کیسے قائم رکھا جاتا ہے، کہ یہ والدین کا حق ہے، یہ بیٹے کی بیوی کا حق ہے اور یہ آنے والی اولاد کا حق ہے۔ حالانکہ اصل ضرورت اس توازن کی ہے کہ بیٹا والدین کا حق ادا کرتے ہوئے بیوی کے حقوق پامال نہ کرے اور بیوی کے حقوق نبھاتے ہوئے والدین اور اولاد کے حقوق سے غافل نہ ہو، کیونکہ ہر زیادتی اللہ تعالیٰ کے حضور گرفت کا سبب بن سکتی ہے۔ اسی لیے خاندانی زندگی میں اعتدال، حکمت اور شعور ناگزیر ہیں۔

والدین اور بیوی کے درمیان توازن کا معیار:

شیخ الاسلام نے مزید کہا کہ: یہاں ماں باپ کو بھی یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ زندگی کے مختلف مراحل میں انسان پر کئی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں اور ان سب میں توازن کے ساتھ چلنا ضروری ہوتا ہے۔ البتہ یہ اصول ہر حال میں قائم رہتا ہے کہ والدین کا دل نہ دکھایا جائے۔ ہاں، اگر وہ کسی ناجائز یا خلافِ شریعت بات کا حکم دیں تو اس کی اطاعت لازم نہیں، اور ایسی نافرمانی بے ادبی کے زمرے میں نہیں آتی، کیونکہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی نافرمانی میں کسی کی اطاعت جائز نہیں۔ تاہم اس انکار کا انداز سختی، تلخی یا بے ادبی کے لہجے سے نہیں ہونا چاہیے بلکہ محبت، تعظیم اور احترام کے ساتھ بات کی جائے، کیونکہ اس طرزِ گفتگو پر بھی باز پرس ہوگی۔

شادی کے بعد اگر بیوی علیحدہ اور خود مختار رہائش چاہتی ہے تو یہ اس کا شرعی حق ہے، والدین کو یہ حق حاصل نہیں کہ جبرًا اسے مشترکہ خاندانی نظام میں رہنے پر مجبور کریں۔ ایسی صورت میں اگر والدین ایک طرف اصرار کریں اور بیوی دوسری طرف، تو فیصلہ شریعت کے مطابق ہوگا اور شوہر پر لازم ہے کہ وہ بیوی کو مناسب اور مستقل رہائش فراہم کرے۔ جس عمل میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی، کسی کے حق کی پامالی یا ظلم شامل ہو، اس پر عمل نہیں کیا جا سکتا، جیسا کہ اصول ہے: لا طاعۃَ لمخلوقٍ فی معصیۃِ الخالق۔ اس کے باوجود والدین سے گفتگو میں احسان، نرمی اور ادب کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے، تاکہ حق پر قائم رہتے ہوئے بھی رشتوں کے وقار اور دلوں کے احترام کو محفوظ رکھا جا سکے۔

بلاگر: ڈاکٹر محمد اقبال چشتی (ریسرچ اسکالر)

تبصرہ

ویڈیو

Ijazat Chains of Authority
Top