اللہ ربّ العزت نے خود حضور نبی اکرم ﷺ کی پاکیزہ زندگی، کامل طہارت اور بلند ترین درجۂ کمال کی گواہی دی ہے: شیخ حماد مصطفی المدنی القادری
صحبتِ نبوی دلوں کی تطہیر، کردار کی تکمیل اور ایمان کی معراج کا ذریعہ بنتی ہے: خطاب
قرآنِ مجید میں لفظ ’’صَاحِبُکُم“ کے انتخاب کے ذریعے اللہ رب العزت نے شانِ مصطفیٰ ﷺ کے ایک نہایت لطیف اور عظیم پہلو کو واضح فرما دیا ہے۔ یہ محض ایک لفظ نہیں بلکہ حضور نبی اکرم ﷺ کی پوری حیاتِ طیبہ کی پاکیزگی، کامل طہارت اور بلند ترین درجۂ کمال پر الٰہی گواہی ہے، جو پیدائش سے لے کر وصالِ مبارک تک ہر لمحے کو اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے ہے۔ اسی کامل اور مقدس زندگی کا فیض ہے کہ صحبتِ نبوی صرف ظاہری قربت نہیں رہتی بلکہ دلوں کی تطہیر، کردار کی تکمیل اور ایمان کو معراج عطا کرنے کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ یوں ’’صاحبکم“ کی تفسیر ہمیں یہ شعور عطا کرتی ہے کہ شانِ مصطفیٰ ﷺ صرف منصبِ نبوت تک محدود نہیں بلکہ آپ ﷺ کی پوری ذات سراپا ہدایت، سراپا نور اور سراپا کمال ہے۔
’’صَاحِبُكُمْ‘‘کی تفسیر اور شانِ مصطفی ﷺ:
شیخ حماد مصطفی المدنی القادری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ: اللہ رب العزت نے قرآنِ مجید کی سورۃ النجم میں ایک خاص مفہوم اور اصول بیان کیا ہے۔ اللہ رب العزت فرماتا ہے:
﴿مَا ضَلَّ صَاحِبُكُمْ وَمَا غَوَى﴾
[سورۃ النجم : 2]
’’تمہیں (اپنی) صحبت سے نوازنے والے (رسول ﷺ جنہوں نے تمہیں اپنا صحابی بنایا) نہ (کبھی) راہ بھولے اور نہ (کبھی) راہ سے بھٹکے‘‘
یعنی تم کبھی یہ گمان بھی نہ کرو کہ میرے حبیب ﷺ نے اپنی حیاتِ طیبہ کے کسی بھی لمحے میں کبھی راستہ بھولا ہو یا صراطِ حق سے ذرا سا بھی ہٹے ہوں۔ اللہ ربّ العزت خود حضور ﷺ کی پاکیزہ زندگی، کامل طہارت اور بلند ترین درجۂ کمال کی گواہی عطا فرما رہا ہے۔ اسی آیتِ کریمہ کے ترجمے میں حضور سیدی شیخ الاسلام نے نہایت نادر، بامعنی اور ادبِ مصطفیٰ ﷺ سے لبریز اسلوب اختیار فرمایا ہے۔ اگرچہ بعض مترجمین نے یہاں محض صحبت یا قربت کا مفہوم مراد لیا ہے، مگر حضور سیدی شیخ الاسلام نے عظمتِ رسول ﷺ کے تقاضے کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے واضح فرمایا کہ ’’صَاحِبُكُمْ‘‘ سے مراد صرف وہ ہستی نہیں جن کے ساتھ تم وقت گزارتے ہو، بلکہ وہ رسولِ کریم ﷺ ہیں جو تمہیں اپنی صحبت سے سرفراز فرمانے والے ہیں، اور جو نہ کبھی گمراہ ہوئے، نہ کبھی راہِ حق سے بھٹکے۔
شیخ حماد مصطفی المدنی القادری نے مزید کہا کہ: صحبت ایک ایسی عظیم نعمت ہے جو انسان اپنی محنت، جدوجہد یا ذاتی تگ و دَو سے حاصل نہیں کر سکتا، بلکہ یہ اللہ رب العزت کی خاص عطا ہوتی ہے جو وہ اپنے چنے ہوئے بندوں کو نصیب فرماتا ہے۔ حضور نبی اکرم ﷺ نے اپنے صحابہ کرامؓ کو یہ بے مثال نعمت عطا فرمائی، جس نے ان کی زندگیاں بدل دیں اور انہیں انسانیت کے لیے اَحسن نمونہ بنا دیا۔ اسی حقیقت کو واضح کرتے ہوئے حضور سیدی شیخ الاسلام فرماتے ہیں کہ صحبتِ نبوی محض ایک قربت کا نام نہیں، بلکہ وہ عظیم فیضان ہے جس سے رسولِ اکرم ﷺ خود اپنے امتیوں کو نوازتے ہیں، اور یہی صحبت دلوں کی تطہیر، کردار کی تکمیل اور ایمان کی معراج کا ذریعہ بنتی ہے۔
حضور نبی اکرم ﷺ کی کامل پاکیزگی پر قرآنی گواہی:
شیخ حماد مصطفی المدنی القادری نے مزید کہا کہ: اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اللہ ربّ العزت جب آقا ﷺ کی حیاتِ طیبہ کی پاکیزگی اور طہارت کی گواہی دے رہا ہے تو اس آیتِ کریمہ میں لفظ ’’نَبِیُّکُم‘‘ یا ’’رَسُولُکُم“ کے بجائے ’’صَاحِبُکُم“ کیوں استعمال فرمایا؟ حضور سیدی شیخ الاسلام اس نکتے کی نہایت بلیغ وضاحت فرماتے ہیں کہ اگر یہاں ’’نبیّکم“ یا ’’رسولکم“ کا لفظ آتا تو بعض اذہان یہ گمان کر سکتے تھے کہ یہ گواہی صرف اعلانِ نبوت کے بعد کے دور تک محدود ہے، اور بعثت سے پہلے کے چالیس برس شاید اس دلالت میں شامل نہ ہوں۔ حتیٰ کہ یہ شبہ بھی پیدا ہو سکتا تھا اعلانِ نبوت کے بعد عہدِ رسالت میں نبوت اور رسالت کی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں شاید کبھی راستہ بھولے ہوں یا کبھی راستے سے بھٹکے ہوں۔
لیکن اللہ رب العزت نے یہ تمام احتمالات ختم فرما دیے اور ارشاد فرمایا ’’صَاحِبُکُم“۔ حضور سیدی شیخ الاسلام کے مطابق اس لفظ کا دائرہ حضور نبی اکرم ﷺ کی پوری حیاتِ طیبہ پر محیط ہے۔ یعنی پیدائش سے لے کر وصالِ مبارک تک، بچپن، لڑکپن، جوانی، اعلانِ نبوت سے پہلے اور بعد کا ہر لمحہ اللہ تعالیٰ کی اس شہادت میں شامل ہے۔ گویا اللہ رب العزت یہ اعلان فرما رہا ہے کہ میرا حبیب ﷺ اپنی پوری زندگی میں کبھی ایک لمحے کے لیے بھی نہ راستہ بھولے اور نہ راہِ حق سے بھٹکے، بلکہ ہر حال میں کمال، طہارت اور عظمت کی کامل تصویر رہے۔
حاصلِ کلام:
قرآنِ مجید میں لفظ ’’صَاحِبُکُم“ کا انتخاب محض لسانی اسلوب نہیں بلکہ حضور نبی اکرم ﷺ کی سیرتِ طیبہ پر ایک ہمہ گیر اور ابدی الٰہی شہادت ہے۔ اللہ رب العزت نے اس ایک لفظ کے ذریعے یہ حقیقت واضح فرما دی کہ آقا ﷺ کی پاکیزگی، طہارت اور کمال کسی خاص مرحلے یا اعلانِ نبوت کے بعد کے زمانے تک محدود نہیں، بلکہ آپ ﷺ کی پوری زندگی پیدائش سے لے کر وصال تک ہدایت، استقامت اور عصمت کی روشن مثال ہے۔ اسی کامل سیرت کا فیضان ہے کہ صحبتِ نبوی انسان کو محض قربت نہیں بلکہ قلبی تطہیر، اخلاقی بلندی اور ایمانی معراج عطا کرتی ہے۔ یوں یہ قرآنی اسلوب اعلان کرتا ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نہ صرف منصبِ نبوت میں کامل ہیں بلکہ اپنی پوری حیاتِ مبارکہ میں سراپا ہدایت، سراپا نور اور سراپا کمال ہیں۔
بلاگر: ڈاکٹر محمد اِقبال چشتی (ریسرچ اسکالر)


















تبصرہ