مجدّدین نبوی طریق پر امتِ محمدیہ ﷺ میں دینِ محمدی کی اَقدار کے اِحیاء کے لیے آتے ہیں:پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری
مجدّد کے کام کے حقیقی حُجم کو ہر نظر سمجھ نہیں پاتی: صدر منہاج القرآن
مجدّدین کی ضرورت اس لیے پیش آتی ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ جب معاشروں میں دینی اَقدار کمزور پڑنے لگتی ہیں، اعمال کی روح رسم و رواج میں بدلنے لگتی ہے اور دین اپنی اصل مدنی تاثیر کھونے لگتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ایسی ہستیاں پیدا فرماتا ہے جو نبوی طریق پر امتِ محمدیہ ﷺ میں دینِ محمدی کی اَقدار کو ازسرِنو زندہ کر دیتی ہیں۔ مجدّد کا کام محض وعظ، تبلیغ یا وقتی اصلاح نہیں ہوتا بلکہ وہ دین کے بگڑتے ہوئے فہم، معاشرتی رویّوں اور اخلاقی ساخت کو اصل نبوی مزاج پر واپس لاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مجدّد کے کام کا حقیقی حُجم ہر نگاہ نہیں سمجھ پاتی، کیونکہ وہ سطحی تبدیلی کے بجائے فکر، کردار اور نظامِ زندگی کی گہری اِصلاح کرتا ہے۔ مجدّدین کا فیض خاموشی سے نسلوں میں منتقل ہوتا ہے، اور انہی کی تربیت سے ایسے طبقات جنم لیتے ہیں جو دیانت، امانت، حیاء، نظم اور استقامت کے عملی نمونے بن کر پورے معاشرے پر گواہی قائم کر دیتے ہیں۔ یہی مجدّدین کا منصب اور انہی کی بعثت کا اصل مقصد ہے۔
مقامِ مجدّد اور کارخانۂ حیات کی ذمہ داری:
پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ: اللہ تعالیٰ نے جو نظام قائم فرمایا ہے، اس کے تحت ہر صدی میں مجدّدین پیدا ہوتے ہیں۔ انہی مدنی اقدار کو زندہ کرنے کے لیے، جنہیں ہم عام طور پر اسلامی اَقدار کہتے ہیں، میں انہیں مدنی اقدار کہتا ہوں۔ انہی مدنی تعلیمات اور مدنی اَفکار کے اِحیاء کے لیے اللہ تعالیٰ علماءِ ربانیین اور مجدّدین کو مبعوث فرماتا ہے۔ مجدّد کون ہوتے ہیں، اس کی واضح تعریف ہمیں حضرت مجدّد الف ثانیؓ سے ملتی ہے۔ آپؓ فرماتے ہیں کہ مجدّد وہ ہوتا ہے جسے اللہ تعالیٰ ایک نہایت عظیم ذمہ داری سونپتا ہے۔ یہ ہستیاں نہ محض عام رشد و ہدایت کے لیے آتی ہیں، نہ صرف پیری مریدی کے لیے، اور نہ ہی صرف تبلیغ و اِرشاد کے عمومی کام کے لیے؛ بلکہ اللہ تعالیٰ انہیں کارخانۂ حیات کی چابی عطا فرما دیتا ہے۔
یہ مجدّدین نبوی طریق پر، آقا ﷺ کی امت میں دینِ محمدی کی اَقدار کے اِحیاء کے لیے آتے ہیں۔ حضرت مجدّد الف ثانیؓ فرماتے ہیں کہ جو لوگ صرف رشد و ہدایت، دعوت اور تبلیغ کا کام کرتے ہیں، وہ ان مجدّدین کی راہ میں پڑی ہوئی ایک معمولی سی چیز کی مانند ہوتے ہیں، وہ منزل نہیں ہوتے جس پر یہ ہستیاں فائز ہوتی ہیں۔ اسی لیے جب عام علماء یا داعیان، مجدّدِ عصر یا شیخ الاسلام جیسی شخصیات پر تنقید یا تجزیہ کرنے لگیں تو تعجّب ہوتا ہے، کیونکہ وہ ان کے منصب، مقصد اور کام کے حقیقی حُجم کو سمجھنے سے قاصر ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان عظیم ہستیوں کو ایک بہت بڑے مقصد کے لیے پیدا فرماتا ہے، جس کی وسعت اور گہرائی عام نگاہوں سے اوجھل رہتی ہے۔
مجدّدین کی تربیت کے سبب مدنی معاشرے کا احیاء:
پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے مزید کہا کہ: درحقیقت سادہ الفاظ میں سمجھا جائے تو اللہ تعالیٰ ہر سو سال کے بعد مدنی معاشرے کے تسلسل، اس کے قیام اور مدنی اَقدار کے اِحیاء کے لیے مجدّدین کو پیدا فرماتا ہے۔ ان کی تربیت، صحبت، سنگت اور تعلیمات کے ذریعے اگرچہ یہ ضروری نہیں کہ پورا معاشرہ یکدم بدل جائے، مگر اسی معاشرے کے اندر ایک ایسا مضبوط اور باکردار طبقہ ضرور جنم لے لیتا ہے جو اس تربیت یافتہ سلسلے کا تسلسل بن جاتا ہے اور صحابۂ کرامؓ کی تربیت کی خیرات پاتا ہے۔ اگر معاشرہ بددیانتی میں مبتلا ہو جائے تو یہی طبقہ دیانت کا عَلَم اُٹھا لیتا ہے، اگر خیانت عام ہو جائے تو یہی لوگ امانت کے محافظ بن جاتے ہیں، اور اگر چوری اور فریب معاشرتی مزاج بن جائیں تو یہی تربیت یافتہ افراد امانت داری اور سچائی کی عملی تصویر بن کر سامنے آتے ہیں۔
اسی طرح جب معاشرے میں نظم و ضبط ختم ہو جائے، بدتہذیبی اور بے ترتیبی عام ہو، تو مجدّدین کی تربیت سے وجود میں آنے والا یہی طبقہ اپنے نظم، ڈسپلن اور منظم کردار کی وجہ سے پہچانا جاتا ہے۔ ان کی زبان پاکیزہ ہوتی ہے، وہ گالی اور بدکلامی سے دور رہتے ہیں، ایسے ماحول میں بھی جہاں فحش اور تلخ زبان معمول بن چکی ہو۔ جہاں نگاہوں سے حیاء رخصت ہو جائے، وہاں یہی لوگ حیاءدار نگاہوں کے امین ہوتے ہیں، اور جہاں غیرت اور ضمیر کی سوداگری عام ہو جائے، وہاں یہی تربیت یافتہ افراد غیرت، حمیت اور حق پسندی کی زندہ مثال بن جاتے ہیں۔ وہ حالات کی سختی، ظلم اور جبر کے باوجود اصولوں پر سودا نہیں کرتے، کیونکہ ایسی استقامت اور کردار کی مضبوطی مجدّدین کی تربیت ہی کا ثمر ہوتی ہے۔ یہی شیخ الاسلام جیسی عظیم ہستیوں کی تربیت ہے جو معاشروں کے اندر مدنی اَقدار کو ازسرِنو زندہ کرتی ہے، اور قرآنِ مجید کے اس مفہوم کی عملی تفسیر بن جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ بعد میں آنے والوں کو بھی انہی سے ملا دیتا ہے، جو آقا ﷺ کے فیض یافتہ مجدّدین کے ذریعے تربیت پاتے ہیں۔
اسی لیے، حاضرینِ گرامی! یہ بات سمجھنے کی ہے کہ آپ میں سے بہت سے لوگ اپنی جوانی بلکہ کم عمری ہی میں حضور شیخ الاسلام کی سنگت اور صحبت سے وابستہ ہو گئے، اور آپ میں سے بعض کے والدین اور باپ دادا بھی اسی پاکیزہ صحبت میں بیٹھتے رہے۔ سوال یہ ہے کہ ایک ہی کاروباری ماحول، ایک ہی بازار اور ایک ہی معاشرتی طبقے میں رہتے ہوئے بھی آپ کے اندر وہ خوبیاں کیوں پیدا ہو گئیں جو دوسروں میں نظر نہیں آتیں؟ اس کی وجہ یہی ہے کہ آپ خود یا آپ کے بزرگ کسی بلند اور پاکیزہ صحبت سے وابستہ رہے، کہیں بیٹھے، کہیں سے سیکھا، کہیں سے تربیت پائی، اور کسی صاحبِ نسبت کا فیض آپ کی سرشت میں شامل ہو گیا۔ کسی مجدّد نے آپ کی اصلاح کی، آپ کو اپنی صحبت عطا کی، اور یہی تربیت آپ کی زندگی میں وہ مثبت تبدیلی لے آئی جس نے آپ کو دوسروں سے ممتاز اور منفرد بنا دیا۔
بلاگر: ڈاکٹر محمد اِقبال چشتی (ریسرچ اسکالر)


















تبصرہ