والدین کو اپنے پَروں پر رکھنے والا کبھی نہیں گرتا، اللہ اُسے زندگی کی پرواز عطا کر دیتا ہے:شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری

جو شخص ماں باپ کی جتنی خدمت کرتا ہے اللہ تعالیٰ اُسے اُتنی بلندی عطا کرتا ہے: شیخ الاسلام کا خطاب
جو اولاد والدین کے لیے سراپا پَر بن جاتی ہے، اللہ تعالیٰ اس کی زندگی کو عزت اور برکت کی پرواز عطا کر دیتا ہے:شیخ الاسلام

والدین کے سامنے بازو جھکائے رکھنے کا حقیقی مفہوم محض ظاہری ادب یا رسمی تعظیم تک محدود نہیں بلکہ یہ قرآنِ مجید کے نہایت گہرے اور بلیغ استعارے جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ کی عملی تعبیر ہے، جس میں اولاد کو رحمت، عاجزی اور محبت کے ساتھ والدین کے لیے سراپا خدمت بن جانے کی تعلیم دی گئی ہے۔ یہ وہ طرزِ عمل ہے جس میں اولاد اپنے وجود، اپنے وقت اور اپنی توانائیوں کو والدین کی آسائش اور عزت کے لیے وقف کر دیتی ہے، گویا انہیں اپنے پَروں پر بٹھا کر رکھتی ہے۔ قرآن کا یہ اصول ہمیں یہ شعور عطا کرتا ہے کہ والدین کی خدمت انسان کو گراتی نہیں بلکہ عزت عطا کرتی ہے، اُسے جُھکاتی نہیں بلکہ بلندی عطا کرتی ہے، کیونکہ جو شخص جتنا ماں باپ کے سامنے جُھکتا ہے وہ اتنا ہی اللہ تعالیٰ کے نزدیک بلند ہوتا جاتا ہے۔ یوں والدین کے لیے سراپا پَر بن جانا دراصل زندگی کی عزت، سکون اور برکت کی اُس پرواز کی بنیاد ہے جو ربِ کریم اپنے فرماں بردار بندوں کو عطا فرمایا کرتا ہے۔

والدین کے سامنے ’’بازو جھکائے رکھنے‘‘ کا حقیقی مفہوم:

مجدّد المئۃ الحاضرۃ حضور شیخ الاسلام دامت برکاتہم العالیۃنے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ: اللہ رب العزت نے فرمایا:

وَاخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ

[الإسراء: 24]

’’اور ان دونوں کے لیے نرم دلی سے عجز و انکساری کے بازو جھکائے رکھو‘‘

اللہ تعالیٰ نے والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کا حکم نہایت لطیف اور بلیغ اسلوب میں دیا ہے کہ اُن کے سامنے نرمی، رحمت، عجز اور انکساری کے ساتھ اپنے بازو نہیں بلکہ اپنے پَر جھکاؤ۔ قرآنِ مجید میں یہاں جَنَاح کا لفظ استعمال کیا گیا ہے جو پرندے کے پَر کے لیے استعمال ہوتا ہے، اور یہ محض ایک لفظ نہیں بلکہ گہرا استعارہ ہے۔ پَر دراصل پرواز کی علامت ہیں؛ جس پرندے کے پَر سلامت ہوں وہی اُڑ سکتا ہے، اور جس کے پَر کٹ جائیں وہ زمین پر گر جاتا ہے۔ اسی طرح والدین کے ساتھ رحمت، تواضع اور عاجزی کے پَر بچھانا انسان کو روحانی بلندی اور کامیابی کی پرواز عطا کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ گویا یہ فرما رہے ہیں کہ اے بندے! اگر تُو ماں باپ کے سامنے انکساری سے جھک جائے گا، انہیں اپنے پَروں پر بٹھائے رکھے گا، ان کے قدم زمین پر نہ لگنے دے گا اور دل سے ان کی خدمت کرے گا، تو یہی پَر تجھے زندگی کی بلندیوں تک اُڑائیں گے۔ جو شخص والدین کی خدمت میں جتنا جھکتا ہے، اللہ تعالیٰ اُسے اتنا ہی بلند کرتا ہے، اور جو والدین کو اپنے پَروں پر رکھتا ہے، ربّ کائنات اسے عزت، سکون اور کامیابی کی پرواز عطا فرما دیتا ہے۔

والدین کے سامنے سراپا عاجزی و انکساری کرنا:

شیخ الاسلام نے مزید کہا کہ: اس کے بعد اللہ تعالیٰ واضح فرماتا ہے کہ والدین کے سامنے بچھائے جانے والے یہ پَر محض عاجزی یا انکساری کے نام پر ایک ظاہری ادا نہ ہوں، بلکہ وہ مِنَ الرَّحْمَةِ ہوں، یعنی رحمت، شفقت اور سچی محبت سے لبریز ہوں۔ ایسی عاجزی جو دکھاوے، بناوٹ یا محض رسمی رویّے پر مبنی ہو، اللہ تعالیٰ کے ہاں مقبول نہیں۔ اس لیے حکم دیا گیا کہ پَر بچھائیں، جن میں تواضع ہو، ادب ہو، جھکاؤ ہو، مگر یہ سب دل کی گہرائیوں سے پھوٹنے والی رحمت کے ساتھ ہو۔ گویا ربِّ کریم یہ پیغام دے رہا ہے کہ اے بندے! والدین کے لیے صرف جھکنا کافی نہیں، بلکہ پورا کا پورا پَر بن جا؛ ان کے لیے سراپا خدمت، سراپا محبت اور سراپا شفقت بن جا۔ جو اولاد والدین کے سامنے ادب میں کمی کرتی ہے، انکساری نہیں دکھاتی یا دل سے خدمت گزار نہیں بنتی، اس نے بھی کوتاہی اور گناہ کا ارتکاب کیا۔ اسی لیے لازم ہے کہ انسان توبہ کرے، اللہ سے معافی مانگے اور یہ عہد کرے کہ والدین کو اپنے پَروں پر بٹھا کر رکھے گا، یہاں تک کہ وہ یہ محسوس کریں کہ ہماری اولاد ہمیں زمین پر نہیں بلکہ اپنے پَروں پر اٹھائے ہوئے ہے۔ قرآن میں جَنَاح کے لفظ کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے اولاد کو مکمل رویّہ اور عملی طرزِ عمل سکھایا ہے کہ پَر صرف کھلیں نہیں بلکہ جھکیں؛ اور وَاخْفِضْ کے ذریعے بتایا کہ جھکاؤ اوپر سے نہیں، نیچے کی طرف ہو یعنی احسان، رحمت اور محبت کے ساتھ۔ یہی وہ کامل اخلاق ہے جو اولاد کو والدین کے ساتھ اختیار کرنا چاہیے، کیونکہ آج ہمیں یاد نہیں رہتا کہ ہمارے بچپن میں وہ ماں باپ ہمارے لیے کس قدر سراپا رحمت، سراپا قربانی اور سراپا شفقت بنے رہے۔

بلاگر: ڈاکٹر محمد اقبال چشتی (ریسرچ اسکالر)

تبصرہ

ویڈیو

Ijazat Chains of Authority
Top