اعتدال انسانی مزاج میں وسعت پیدا کرتا ہے اور یہی وسعت ترقی کی بنیاد بنتی ہے: شیخ حماد مصطفی المدنی القادری

جب کوئی فرد یا قوم اعتدال کی راہ اختیار کرتی ہے تو اللہ اُسے قیادت کے منصب سے سرفراز فرما دیتا: خطاب
جو مزاج میں معتدل نہیں ہوتا، وہ نہ ماڈرن بن سکتا ہے اور نہ ہی قیادت کا اہل ٹھہرتا ہے:خطاب

انسانی زندگی کا حُسن توازن اور اعتدال میں مضمر ہے، کیونکہ یہی اعتدال انسان کے مزاج میں وسعت، فکر میں پختگی اور رویّے میں نکھار پیدا کرتا ہے، اور یہی وسعت آگے بڑھنے اور ترقی کے منازل طے کرنے کی اَصل بنیاد بنتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب کوئی فرد یا قوم شدت، جمود اور انتہا پسندی کے بجائے اعتدال کی راہ اختیار کرتی ہے تو اللہ ربّ العزت اسے محض قبولیت ہی نہیں عطا فرماتا بلکہ قیادت کے منصب سے بھی سرفراز کر دیتا ہے۔ اس کے برعکس جو مزاج میں توازن سے محروم ہو، وہ نہ جدید تقاضوں کو سمجھ سکتا ہے اور نہ ہی انسانیت کی رہنمائی کا حق ادا کر سکتا ہے، کیونکہ حقیقی قیادت ہمیشہ وسیع القلبی، فکری ہم آہنگی اور اعتدال پسند شخصیت ہی سے جنم لیتی ہے۔

انسانی زندگی میں اعتدال کی ضرورت و اہمیت:

شیخ حماد مصطفی المدنی القادری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ: حضور نبی اکرم ﷺ کی سیرت و سنت کی پیروی کا تقاضا یہ ہے کہ انسان اپنی طبیعت، کلام، گفتگو اور طرزِ عمل میں اعتدال، نرمی اور امن پسندی پیدا کرے، کیونکہ اعتدال ہی انسان کے نقطۂ نظر کو وسعت عطا کرتا ہے۔ اعتدال پسند انسان مختلف آراء اور زاویہ ہائے نظر کو کُھلے دل و دماغ سے قبول کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جبکہ سخت مزاج اور ضدی انسان تنقیدی شعور سے محروم ہو کر فکری جمود کا شکار ہو جاتا ہے۔ اکیسویں صدی میں باخبر، مؤثر اور ترقی یافتہ انسان بننے کے لیے ضروری ہے کہ آدمی اپنی طبیعت میں وُسعت اور توازن پیدا کرے، تاکہ وہ مختلف اَفکار سے استفادہ کرتے ہوئے مسلسل آگے بڑھتا رہے۔ اعتدال انسان کے مزاج کو وسعت بخشتا ہے اور یہی وُسعت مختلف آراء کو قبول کرنے اور ترقی کے سفر کو جاری رکھنے کا اصل ذریعہ بنتی ہے۔

اِسی لیے قران مجید میں اللہ رب العزت نے اُمتِ مصطفی علیہ الصلوۃ والسلام کے حوالے سے ایک شناخت بیان کی، ایک سلوگن بیان فرمایا۔ اللہ رب العزت فرماتا ہے کہ:

(وَكَذَلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا لِتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ)

[البقرة : 143]

’’اور (اے مسلمانو!) اسی طرح ہم نے تمہیں (اعتدال والی) بہتر امت بنایا تاکہ تم لوگوں پر گواہ بنو‘‘

اعتدال اور قیادت کا فکری معیار:

شیخ حماد مصطفی المدنی نے مزید کہا کہ: اللہ تعالیٰ نے ہمیں ایک معتدل امت بنا کر بھیجا ہے، ایسی امت جو توازن اور اعتدال کے میزان پر قائم ہے۔ اعتدال کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ انسان کے اندر نرمی اور کشش پیدا ہو جاتی ہے، لوگ اس کے قریب آتے ہیں، اس سے جُڑ جاتے ہیں اور اس کی بات کو قبول کرتے ہیں۔ جب کوئی فرد یا قوم اعتدال کی راہ اختیار کرتی ہے تو اللہ ربّ العزت اُسے صرف قبولیت ہی نہیں بخشتا بلکہ اسے قیادت کے منصب سے بھی سرفراز فرما دیتا ہے۔ اللہ رب العزت نے فرمایا:

(لِتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ)

[البقرة : 143]

’’تاکہ تم لوگوں پر گواہ بنو‘‘

یعنی تم انسانیت پر گواہی بھی دو گے۔ حضور سیدی شیخ الاسلام نے اِس کا دوسرا معنی بیان کرتے ہوئے فرمایا: ’’کہ تم انسانیت پر قیادت بھی کرو گے‘‘۔

قیادت کا حق وہی ادا کر سکتے ہیں جن کی طبیعت میں اعتدال ہو اور جو زمانے کے تقاضوں سے ہم آہنگ بھی ہوں، کیونکہ جو شخص مزاج میں اعتدال نہیں رکھتا وہ حقیقی معنوں میں ماڈرن بھی نہیں ہو سکتا، اور قیادت ایسے ہی متوازن لوگوں کے لیے مخصوص ہوتی ہے۔ اس لیے اصل پیغام یہ ہے کہ ہم خود کو قابلِ قبول بنائیں، تعاون اور ہم آہنگی کی روش اپنائیں اور اپنی طبیعتوں میں اعتدال پیدا کریں۔ بالخصوص انڈیا کے مسلمانوں کے لیے یہ واضح پیغام ہے کہ وہ اعتدال پسندی اور اَمن پسندی کو اپنی عملی زندگی کا حصہ بنائیں، تشدد اور انتہاپسندی سے نہ صرف اجتناب کریں بلکہ کھلے اور واضح الفاظ میں اس کی مذمت اور تردید بھی کریں، کیونکہ داخلی ہم آہنگی، فکری توازن اور پُر اَمن رویّے ہی وہ اوصاف ہیں جن کے ذریعے اللہ ربّ العزت انسانیت پر قیادت عطا فرماتا ہے۔

بلاگر: ڈاکٹر محمد اِقبال چشتی (ریسرچ اسکالر)

تبصرہ

ویڈیو

Ijazat Chains of Authority
Top