بیداری کی حالت میں معراجِ مصطفیٰ ﷺ کا انکار دراصل قدرتِ الٰہی کا انکار ہے: شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری

معجزہ وہ حقیقت ہے جو عقل سے ماورا ہو، اگر عقل اُسے آسانی سے قبول کر لے تو وہ معجزہ رہتا ہی نہیں: شیخ الاسلام کا خطاب

معراجُ النبی ﷺ محض ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ قدرتِ الٰہی کا وہ عظیم مظہر ہے جس کے سامنے انسانی عقل اپنی حدوں کو پہنچ کر خاموش ہو جاتی ہے۔ معجزہ دراصل اسی حقیقت کا نام ہے جو عقل کے معمول کے دائرے میں نہ سمائے، کیونکہ جو چیز عقل کو آسانی سے سمجھ آ جائے وہ معجزہ کہلانے کی اہل ہی نہیں ہوتی۔ اسی لیے بیداری کی حالت میں معراجِ مصطفیٰ ﷺ کا انکار کسی ایک واقعے کا انکار نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی اُس مطلق قدرت سے انکار ہے جس نے اپنے محبوب ﷺ کو زمان و مکان کی قیود سے بالا کر کے اپنی قربتِ خاص عطا فرمائی۔ یہی زاویۂ نظر معراج کو محض فکری بحث نہیں بلکہ ایمان کے ایک بنیادی اور فیصلہ کُن باب کے طور پر سامنے لاتا ہے۔

معراج النبی ﷺ؛ معجزہ یا خواب؟

مجدّد المئۃ الحاضرۃ حضور شیخ الاسلام دامت برکاتہم العالیۃنے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ: معراج ایک معجزہ ہے، اور معجزہ اُس واقعہ کو کہتے ہیں جسے عقلِ انسانی نہ مکمل طور پر سمجھ سکے اور نہ اپنی عادی پیمائش پر پرکھ سکے۔ معجزہ چونکہ معمول کے نظام، عام طریقے اور فطری ضابطوں سے ہٹ کر وقوع پذیر ہوتا ہے، اس لیے عقل جن اصولوں کی عادی ہوتی ہے، معجزہ اُنہی اُصولوں کے خلاف ظاہر ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عقل نہ تو معجزے کی مکمل توجیہ کر سکتی ہے اور نہ ہی اسے اپنے محدود دائرے میں سمو سکتی ہے۔ جو چیز عقل کو آسانی سے سمجھ آ جائے اور معمول کے مطابق محسوس ہو، وہ معجزہ کہلانے کی اہل ہی نہیں ہوتی۔

جب معراج کو معجزہ تسلیم کر لیا جائے تو پھر اُسے خواب یا مَنامی واقعہ قرار دینا خود اپنے ہی دعوے کی نفی بن جاتا ہے۔ خواب عقل کے دائرے میں آتا ہے، جبکہ معجزہ عقل کے دائرے سے ماورا ہوتا ہے۔ اگر معراج خواب ہوتی تو وہ معجزہ نہ رہتی، اور اگر معجزہ ہے تو پھر اُسے خواب کہنا کُھلا تضاد ہے۔ لہٰذا امتِ محمدیہ میں جس نے معراج کو معجزہ مان لیا، اُس کے لیے اس کو مَنامی یا خواب کہنا کسی طور درست نہیں رہتا۔

معراج کا دعویٰ مصطفٰی ﷺ کا نہیں بلکہ خدا کا ہے:

شیخ الاسلام نے مزید کہا کہ: اللہ تعالیٰ نے آیتِ معراج کا آغاز لفظ ’’سبحان‘‘ سے فرما کر یہ حقیقت واضح کر دی کہ واقعۂ معراج اظہارِ عادت نہیں بلکہ اظہارِ قدرت ہے۔ یہ ایسا واقعہ ہے جو عقل کے معمول کے دائرے میں نہیں آتا بلکہ عقل کو عاجز کر دینے والا ہے۔ اسی لیے فرمایا گیا: ’’سبحان الذی‘‘ پاک ہے وہ ذات، یعنی وہ ذات ہر اُس قیاس، ہر اُس پیمانے اور ہر اُس عادت سے منزّہ ہے جس پر انسان کی عقل قائم ہے۔ لفظِ ’’سبحان‘‘ خود اس بات کی دلیل ہے کہ معراج ایک معجزہ ہے، ایسا معجزہ جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب ﷺ کی شان و عظمت کو پوری دنیا پر ظاہر فرمایا۔

جب کفارِ مکہ نے معراج کے واقعے پر شور مچایا اور کہا کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ کوئی شخص راتوں رات مسجدِ حرام سے مسجدِ اقصیٰ، پھر سدرۃ المنتہیٰ اور اس سے آگے جا کر واپس آ جائے، تو اللہ تعالیٰ نے واضح فرما دیا کہ یہ دعویٰ میرے نبی ﷺ کا نہیں ہے۔ قرآن یہ نہیں کہتا کہ محمد ﷺ گئے، بلکہ یہ کہتا ہے: ’’سُبْحَانَ الَّذِي أَسْرَى بِعَبْدِهِ‘‘ پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندے کو سیر پر لے گئی۔ یعنی جانے کا دعویٰ مصطفیٰ ﷺ نے نہیں کیا، لے جانے کا اعلان خود خدا نے فرمایا ہے۔ لہٰذا معراج پر حیرت کرنے والو اور انکار کرنے والو! اگر مصطفیٰ ﷺ اپنی طرف سے کہتے کہ میں گیا ہوں تو تم انکار کر سکتے تھے، مگر اَب دعویٰ اللہ تعالیٰ کا ہے کہ میں لے گیا۔ پس جو شخص بیداری کی حالت میں معراجِ مصطفیٰ ﷺ کا انکار کرتا ہے، وہ حقیقت میں نبی ﷺ کا نہیں بلکہ اللہ ربّ العزّت کے فرمان کا انکار کرتا ہے۔

بلاگر: ڈاکٹر محمد اقبال چشتی (ریسرچ اسکالر)

تبصرہ

ویڈیو

Ijazat Chains of Authority
Top