شقِ قمر کا واقعہ حضور نبی اکرم ﷺ کا ایک عظیم معجزہ ہے، جو ماہِ شعبان میں رونما ہوا:پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری

حضور ﷺ کی انگشت مبارک سے چاند کا دو حصوں میں تقسیم ہو جانا قدرتِ الٰہی کا حیرت انگیز مظہر تھا: صدر منہاج القرآن
شعبان کا مہینہ معجزاتِ نبوی اور تاریخی واقعات سے مزین ہے: صدر منہاج القرآن

ماہِ شعبان وہ مبارک مہینہ ہے جس میں حضور نبی اکرم ﷺ کے کئی عظیم معجزات اور تاریخی واقعات جلوہ گر ہوئے۔ شقِ قمر کا واقعہ بھی حضور نبی اکرم ﷺ کا ایک عظیم اور درخشاں معجزہ ہے جو اسی ماہِ مبارک میں رونما ہوا۔ جب کفارِ مکہ نے معجزہ طلب کیا تو حضور ﷺ نے اپنی انگشتِ مبارک سے چاند کی طرف اشارہ فرمایا، تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے چاند دو حصوں میں تقسیم ہو گیا، جو قدرتِ الٰہی کا حیرت انگیز مظہر اور نبوتِ محمدی ﷺ کی روشن دلیل تھا، جیسا کہ صدر منہاج القرآن پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے بھی بیان فرمایا ہے۔ یوں ماہِ شعبان معجزاتِ نبوی، روحانی برکتوں اور تاریخِ اسلام کے عظیم واقعات سے مزین ایک نہایت بابرکت اور عظمت والا مہینہ ہے۔

ماہِ شعبان میں معجزاتِ نبوی کا ظہور:

پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ: بہت سے تاریخی واقعات اور معجزات ایسے ہیں جن سے ہم واقف تو ہوتے ہیں، مگر یہ کم ہی جانتے ہیں کہ وہ کس مبارک مہینے میں رونما ہوئے۔ ہماری توجہ اکثر واقعہ پر ہوتی ہے، مگر اس کے زمانی پس منظر پر کم غور کیا جاتا ہے۔ شقِ قمر کا عظیم واقعہ بھی انہی معجزات میں سے ہے جسے ہم سب نے سنا ہوا ہے۔ جب کفارِ مکہ نے حضور نبی اکرم ﷺ سے آپ کی نبوت کی دلیل کے طور پر معجزہ طلب کیا اور کہا کہ کوئی نشانی دکھائیں، تو آقا علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنی مبارک انگلی سے چاند کی طرف اشارہ فرمایا۔ اللہ تعالیٰ کے حکم سے چاند شق ہو گیا اور دو حصوں میں تقسیم ہو گیا، جو حضور ﷺ کی صداقت اور قدرتِ الٰہی کی روشن دلیل تھا۔

1 - مسلم، الصحیح، جلد4، ص 2159، رقم: 2801-2802
2 - ترمذی، السنن، جلد 5، ص 398، رقم: 3289

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ چاند دو حصوں میں یوں تقسیم ہوا کہ ہم ’’حرا‘‘ کی چوٹی اُس چاند کے درمیان دیکھ سکتے تھے۔

ڈاکٹر حسین محی الدین نے کہا کہ: یہ آقا علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ایک مشہور اور عظیم معجزہ ہے، مگر بہت کم لوگ اس بات سے واقف ہیں کہ بعض علمائے کرام اور بزرگانِ دین کے نزدیک یہ معجزہ ماہِ شعبان میں رونما ہوا۔ جس طرح واقعۂ معراج رجب المرجب میں پیش آیا، اسی طرح اللہ رب العزّت نے ماہِ شعبان میں حضور نبی اکرم ﷺ کو شقِ قمر کا عظیم معجزہ عطا فرمایا، تاکہ یہ مہینہ بھی معجزاتِ نبوی کی برکتوں سے مزین ہو جائے۔

تحویلِ قبلہ اور ماہِ شعبان کی عظمت:

پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے مزید کہا کہ: اسی طرح ایک اور معروف واقعہ جسے ہم تحویلِ قبلہ کے نام سے جانتے ہیں۔ آقا علیہ الصلوٰۃ والسلام کے قلبِ اطہر میں ہمیشہ یہ تمنا رہتی تھی کہ اللہ ربّ العزّت مسلمانوں کو بیت المقدس کے بجائے کعبۂ ابراہیمی کی طرف متوجہ فرما دے، تاکہ مسلمان بیت اللہ کی سمت رخ کر کے نماز ادا کریں۔ نماز کے دوران جب یہ خیال حضور ﷺ کے قلبِ انور میں وارد ہوتا تو آپ آسمان کی طرف نگاہ اٹھا لیتے۔ یہ واقعہ کتبِ سیرت و حدیث میں مذکور ہے، جس کا ذکر حضور شیخ الاسلام پروفیسر ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے بھی فرمایا ہے۔ جب اللہ ربّ العزّت نے اپنے محبوب ﷺ کے بار بار آسمان کی طرف متوجہ ہونے کو دیکھا تو وہ آیتِ مبارکہ نازل ہوئی جس میں مسلمانوں کو کعبہ شریف کی طرف رخ کرنے کا حکم عطا فرمایا گیا۔ ارشادِ ربانی ہے:

﴿قَدْ نَرَى تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِي السَّمَاءِ فَلَنُوَلِّيَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضَاهَا فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ﴾

[البقرة : 144]

’’(اے حبیب!) ہم بار بار آپ کے رُخِ انور کا آسمان کی طرف پلٹنا دیکھ رہے ہیں، سو ہم ضرور بالضرور آپ کو اسی قبلہ کی طرف پھیر دیں گے جس پر آپ راضی ہیں، پس آپ اپنا رخ ابھی مسجدِ حرام کی طرف پھیر لیجئے‘‘

اب اہلِ اسلام کو حکم دیا گیا کہ وہ کعبۃ اللہ کی طرف رُخ کریں، جسے سیدنا ابراہیم اور سیدنا اسماعیل علیہما السلام نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے بنیادوں پر قائم فرمایا تھا۔ اس طرح مسلمانوں کا قبلہ بیت المقدس سے بدل کر ’’کعبہ معظمہ‘‘ قرار پایا۔ یہ قبلہ کی تبدیلی کا عظیم واقعہ بھی ماہِ شعبان میں رونما ہوا۔ امام ابن کثیر رحمہ اللہ اپنی کتاب ’’البدایۃ والنہایۃ‘‘ میں اس واقعے کا ذکر کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اکثر علمائے کرام (جمہور علماء) کا بھی یہی خیال ہے کہ تحویلِ قبلہ کا واقعہ شعبان کے مبارک مہینے میں پیش آیا۔

یعنی شقِ قمر کا عظیم واقعہ بھی اسی مبارک مہینے میں پیش آیا، اور مسلمانوں کو ان کا قبلہ اور کعبہ مکہ معظمہ بھی اللہ ربّ العزّت نے اسی ماہِ معظم شعبان میں عطا فرمایا۔ یوں اس مہینے میں دو عظیم اور تاریخ ساز واقعات رونما ہوئے، جو اس ماہ کی خاص برکتوں اور فضیلتوں کو نمایاں کرتے ہیں۔ یہ سب واقعات اپنی جگہ نہایت عظیم اور بلند مرتبہ ہیں، لیکن اہلِ محبت کے لیے اِس مہینے میں ایک اور نہایت پیاری اور خوشی کی خبر بھی نصیب ہوئی، جو اُن کے لیے عید جیسی مسرت کا باعث ہے۔ اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا کہ:

﴿إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا﴾

[الأحزاب : 56]

’’بے شک اللہ اور ا س کے (سب) فرشتے نبیِ (مکرمّ ﷺ) پر درود بھیجتے رہتے ہیں، اے ایمان والو! تم (بھی) اُن پر درود بھیجا کرو اور خوب سلام بھیجا کرو‘‘

آقا علیہ الصلوٰۃ والسلام کی عظمت و شان، آپ کی رسالت کے مقام، اور اللہ ربّ العزّت کے حضور آپ ﷺ کے قرب و تکریم کے بیان میں اتنی بڑی اور عظیم خوش خبری نازل ہوئی کہ امام قسطلانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ عظیم نوید بھی اللہ تعالیٰ نے ماہِ شعبان ہی میں عطا فرمائی۔ گویا شعبان کا مہینہ معجزاتِ نبوی اور تاریخی واقعات سے مزین ہے۔

بلاگر: ڈاکٹر محمد اِقبال چشتی (ریسرچ اسکالر)

تبصرہ

ویڈیو

Ijazat Chains of Authority
Top