شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری دامت برکاتہم العالیہ کا 27ویں شبِ رمضان المبارک میں مرکزی سیکرٹریٹ پر منعقدہ سالانہ عالمی روحانی اجتماع سے خصوصی خطاب

مورخہ: 16 مارچ 2026ء

Ramadan Day 6 Lecture Minhaj Women League

انسان کے قول، نیت، ارادہ، وعدہ، عمل اور معاملات سب سچائی پر قائم ہوں تو اسے حقیقی معنیٰ میں صدق حاصل ہوتا ہے: شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری دامت برکاتہم العالیہ کا 27ویں شبِ رمضان المبارک میں مرکزی سیکرٹریٹ پر منعقدہ سالانہ عالمی روحانی اجتماع سے خصوصی خطاب

شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری دامت برکاتہم العالیہ نے منہاج القرآن انٹرنیشنل کے مرکزی سیکریٹریٹ پر منعقدہ 27ویں شبِ رمضان المبارک کے سالانہ عالمی روحانی اجتماع سے خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ام المؤمنین خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے نزولِ وحی کے بعد حضور نبی اکرم ﷺ کی جن صفاتِ عالیہ کا ذکر کیا، وہ درحقیقت انسانی تاریخ میں سیرتِ نبوی ﷺ کا پہلا جامع تعارف ہے۔ ان میں سے ایک بنیادی وصف صدق الحدیث ہے، یعنی حضور نبی اکرم ﷺ کا ظاہر و باطن سراپا سچائی ہونا۔

انہوں نے کہا کہ سچائی صرف زبان سے سچ بولنے تک محدود نہیں بلکہ انسان کی پوری شخصیت، نیت، ارادے، عمل، معاملات اور ذمہ داریوں میں سچائی کا ہونا ضروری ہے۔ جب انسان کے قول، نیت، ارادہ، وعدہ، عمل اور معاملات سب سچائی پر قائم ہوں تو اسے حقیقی معنیٰ میں صدق حاصل ہوتا ہے۔ اسلامی اخلاقیات میں سچائی کی متعدد جہات ہیں جن میں صدق القول (بات کی سچائی)، صدق النیۃ (نیت کی سچائی)، صدق العزم (ارادے کی سچائی)، صدق الوفا (وعدہ کی پاسداری)، صدق العمل (عمل میں اخلاص) اور صدق المعاملہ (معاملات میں دیانت) شامل ہیں۔ ان تمام پہلوؤں کے بغیر کامل سچائی حاصل نہیں ہو سکتی۔

شیخ الاسلام دامت برکاتہم العالیہ نے کہا کہ قرآن مجید نے سچائی کے مقام کو نہایت بلند قرار دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو حکم دیا کہ تقویٰ اختیار کرو اور سچوں کے ساتھ رہو، کیونکہ سچوں کی صحبت انسان کو بھی سچائی کی منزل تک پہنچا دیتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ قیامت کے دن صرف سچائی ہی انسان کے کام آئے گی، اور ہر شخص کے اعمال اس کے سامنے واضح کر دیے جائیں گے۔

انہوں نے موجودہ دور کے اخلاقی انحطاط کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آج کی دنیا میں نفس کی مکاریاں اور عقل کی عیاریاں انسانی زندگی پر غالب آ چکی ہیں، جس کے باعث سچائی اور دیانت جیسی اقدار کمزور ہو رہی ہیں۔ امّت مسلمہ کو سیرتِ نبوی ﷺ سے رہنمائی لے کر اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں سچائی کو فروغ دینا ہوگا، قیامت کے دن انسان کے اعمال کا حساب اتنی باریکی سے ہوگا کہ زمین، اعضاء اور انسان کا پورا وجود اس کے اعمال کی گواہی دے گا۔ اس لیے مومن کو چاہیے کہ وہ دنیا کی عارضی کامیابی کے بجائے آخرت کی دائمی کامیابی کو اپنا معیار بنائے۔

شیخ الاسلام دامت برکاتہم العالیہ کا مزید کہنا تھا کہ حضور نبی اکرم ﷺ کی سیرت ہمیں یہ درس دیتی ہے کہ انسان اپنی شخصیت کو اس قدر سچائی سے مزین کرے کہ لوگ اسے دیکھ کر سچائی کا مفہوم سمجھ سکیں۔ یہی وہ راستہ ہے جو انسان کو اللہ تعالیٰ کی محبت، قربِ الٰہی اور آخرت کی کامیابی تک پہنچاتا ہے۔

Ramadan Day 6 Lecture Minhaj Women League

Ramadan Day 6 Lecture Minhaj Women League

Ramadan Day 6 Lecture Minhaj Women League

Ramadan Day 6 Lecture Minhaj Women League

Ramadan Day 6 Lecture Minhaj Women League

Ramadan Day 6 Lecture Minhaj Women League

Ramadan Day 6 Lecture Minhaj Women League

Ramadan Day 6 Lecture Minhaj Women League

Ramadan Day 6 Lecture Minhaj Women League

Ramadan Day 6 Lecture Minhaj Women League

Ramadan Day 6 Lecture Minhaj Women League

Ramadan Day 6 Lecture Minhaj Women League

تبصرہ

ویڈیو

Ijazat Chains of Authority
Top