تعلیمی ادارے نوجوان نسل کی فکری، اخلاقی اور پیشہ ورانہ تربیت پر توجہ دیں: پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری

لاہور: منہاج یونیورسٹی لاہور کے زیراہتمام منعقدہ ایک اہم تعلیمی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے کہا کہ تعلیمی اداروں کو محض ڈگریاں جاری کرنے تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ انہیں نوجوان نسل کی فکری، اخلاقی اور پیشہ ورانہ تربیت کے جامع مراکز کے طور پر اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ منہاج یونیورسٹی لاہور نوجوانوں کو معیاری تعلیم فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی کردار سازی، فکری بیداری اور عملی زندگی کے تقاضوں سے ہم آہنگ تربیت کے لیے مؤثر اقدامات کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ دور میں نوجوانوں کو علم، شعور، اعلیٰ اخلاق اور مثبت اقدار سے آراستہ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے کہا کہ جدید تعلیمی تقاضے اس امر کے متقاضی ہیں کہ طلبہ کو تنقیدی سوچ، تحقیقی رجحان اور عملی مہارتوں سے لیس کیا جائے تاکہ وہ عالمی سطح پر تیزی سے بدلتے ہوئے حالات اور چیلنجز کا اعتماد کے ساتھ مقابلہ کر سکیں۔
انہوں نے کہا کہ نوجوان نسل کسی بھی قوم کا سب سے قیمتی سرمایہ ہوتی ہے۔ اگر انہیں مضبوط اخلاقی بنیادوں، جدید علم، تحقیق اور درست سمت کے ساتھ تیار کیا جائے تو یہی نسل مستقبل میں ترقی، استحکام اور جدت کی ضامن بن سکتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ منہاج یونیورسٹی لاہور اسی وژن کے تحت اپنے تعلیمی ماڈل کو مسلسل بہتر بنا رہی ہے تاکہ طلبہ نہ صرف علمی میدان میں بلکہ عملی زندگی میں بھی نمایاں کردار ادا کر سکیں۔
اس موقع پر یونیورسٹی کے رجسٹرار نے مہمانانِ گرامی اور شرکاء کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ ادارہ تعلیمی معیار کی بہتری، تحقیق کے فروغ اور طلبہ کی ہمہ جہت ترقی کے لیے مسلسل کوشاں ہے۔
خرم نواز گنڈاپور نے اپنے خطاب میں منہاج یونیورسٹی لاہور کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ ادارہ جدید علمی تقاضوں کے ساتھ ساتھ اخلاقی اور فکری تربیت کے میدان میں بھی نمایاں کردار ادا کر رہا ہے، جو نوجوان نسل کی درست رہنمائی کے لیے نہایت اہم ہے۔
سیمینار میں خرم خورشید، محمد طیب ضیاء، علمی و تعلیمی شعبے سے وابستہ شخصیات، انتظامی ذمہ داران اور طلبہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔









































تبصرہ