حصولِ علم کےلیے اُٹھایا گیا ہر قدم بندے کو جنت کے قریب کر دیتا ہے: شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری
مجلسِ علم میں بیٹھنے والا اللہ کی رحمت اور فرشتوں کے حصار میں آ جاتا ہے: شیخ الاسلام کا خطاب اس سے بڑی سعادت اور کیا ہو سکتی ہے کہ بندے کا ذکر زمین پر نہیں بلکہ عرشِ الٰہی پر فرشتوں کی مجلس میں کیا جائے: خطاب
حصولِ علم کے لیے اٹھایا گیا ہر قدم انسان کو نہ صرف دنیاوی ترقی کی طرف لے جاتا ہے بلکہ آخرت میں بھی اُسے جنت کے قریب کر دیتا ہے۔ مرکزِ علم اور مجلسِ علم میں بیٹھنے والے نہ صرف قرآن، حدیث اور سیرتِ نبوی کا مطالعہ کرتے ہیں بلکہ علم کے ذریعے اپنے کردار اور عمل کو بھی سنوارتے ہیں، اور اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ اپنی رحمت، سکون اور فرشتوں کے مخصوص حصار میں انہیں محفوظ رکھتا ہے۔ یہ مقام اور سعادت اتنی عظیم ہے کہ بندے کا ذکر محض زمین پر نہیں بلکہ عرشِ الٰہی پر فرشتوں کی مجلس میں بھی کیا جاتا ہے۔ یہ امر واضح کرتا ہے کہ علم اور مرکزِ علم صرف معلومات کا حصول نہیں بلکہ روحانی تربیت، عمل کی اصلاح، دلوں کی روشنی اور آخرت کی کامیابی کا وسیلہ ہیں، اور اسی لیے ہر فرد کو چاہیے کہ وہ اپنے گھر، محلے اور معاشرے میں علم کی محافل قائم کرے تاکہ یہ برکات عام ہوں اور ہر دل اس عظیم نعمت سے مستفید ہو۔
علم کی راہ؛ جنت تک پہنچنے کا آسان ترین راستہ:
مجدّد المئۃ الحاضرۃ حضور شیخ الاسلام دامت برکاتہم العالیۃنے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
وَمَنْ سَلَكَ طَرِيقًا يَلْتَمِسُ فِيهِ عِلْمًا سَهَّلَ اللَّهُ لَهُ بِهِ طَرِيقًا إِلَى الْجَنَّةِ۔
’’جو شخص علم حاصل کرنے کے ارادہ سے چلا، تو اللہ اس کے لیے جنت کے راستے کو آسان (و ہموار) کر دیتا ہے‘‘
1۔ مسلم، الصحیح، جلد4، ص 2074، رقم:2699
2۔ ترمذی، السنن، جلد5، ص 195، رقم: 2945
3۔ أحمد بن حنبل، المسند، جلد2، ص 252، رقم: 7421
یعنی: جو شخص کسی راستے پر چلے۔ اس کا ایک معروف مفہوم یہ ہے کہ جو انسان علم حاصل کرنے کے لیے کسی راہ پر نکلے، خواہ وہ مرکزِ علم کی طرف آئے یا خود مرکزِ علم قائم کرے، دونوں اس بشارت میں شامل ہیں۔ جو شخص اپنے گھر سے، محلے سے یا پڑوس سے نکل کر مجلسِ علم کی طرف قدم بڑھائے؛ قرآن، حدیث، سیرتِ نبوی، عقیدہ، اخلاق، روحانیت اور اصلاحِ سیرت کا علم حاصل کرنے کے لیے تو حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اُس کے لیے جنت کا راستہ آسان فرما دیتا ہے۔ یعنی بندہ جتنے قدم علم کے لیے اٹھاتا ہے، اللہ تعالیٰ اُسے ہر قدم کے بدلے جنت تک پہنچنے کی سہولت اور آسانی عطا فرماتا ہے۔
مجلسِ علم کی برکات: سکینہ، رحمت اور ملائکہ کا حصار:
شیخ الاسلام نے مزید کہا کہ: لوگوں کو یہ پیغام دیں، میرے اس نکتے کو سمجھائیں۔اَب وہ شخص گھر سے نکل چکا ہے، علم کے حصول کی نیت سے چل پڑا ہے، اور ہر قدم کے ساتھ اپنے لیے جنت کا راستہ آسان کرتا جا رہا ہے۔ یہ بات لوگوں کو بتائیں کہ مرکزِ علم کی کتنی عظیم اہمیت ہے۔ پھر وہ پہنچ گیا اس گھر میں جہاں حلقۂ علم قائم ہے، جسے ہم مرکزِ علم کہتے ہیں۔ جہاں قرآن، حدیث، سیرت اور اخلاق کی روشنی پھیلائی جاتی ہے، اور جہاں دلوں کو سنوارا اور فکر کو درست کیا جاتا ہے اب اس کے علاوہ آقا علیہ السلام نے فرمایا:
وَمَا اجْتَمَعَ قَوْمٌ فِي بَيْتٍ مِنْ بُيُوتِ اللَّهِ، يَتْلُونَ كِتَابَ اللَّهِ، وَيَتَدَارَسُونَهُ بَيْنَهُمْ إِلَّا نَزَلَتْ عَلَيْهِمُ السَّكِينَةُ، وَغَشِيَتْهُمُ الرَّحْمَةُ، وَحَفَّتْهُمُ الْمَلَائِكَةُ۔
1۔ مسلم، الصحیح، جلد4، ص 2074، رقم: 2699
2۔ ترمذی، السنن، جلد5، ص 195، رقم: 2945
3۔ أحمد بن حنبل، المسند، جلد2، ص 252، رقم: 7421
’’جو لوگ بھی اللہ تعالیٰ کے گھروں میں سے کسی گھر میں اکٹھے ہوتے ہیں، وہ قرآن کی تلاوت کرتے ہیں اور اس کی درس و تدریس کرتے ہیں مگر اُن پر سکینت (اطمینان و سکون قلب) کا نزول ہوتا ہے اور (اللہ کی) رحمت اُن کو ڈھانپ لیتی ہے اور فرشتے اُن کو اپنے گھیرے میں لے لیتے ہیں‘‘
یعنی جو لوگ مرکزِ علم میں آ کر قرآنِ مجید کی تلاوت کریں گے، ترجمہ اور فہم و تدبر کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی کتاب کو سمجھیں گے، اُس کے معانی بیان کریں گے، درس و تدریس کریں گے، علم سکھائیں گے اور سنیں گے؛ تو اُن کے بارے میں حضور نبی اکرم ﷺ نے ایک یقینی وعدہ فرمایا ہے۔ آپ ﷺ نے ’’إلّا‘‘ کے ساتھ ارشاد فرمایا، جو گویا ایک قسم اور پکا وعدہ ہے کہ جو لوگ اس مجلسِ علم میں بیٹھیں گے، اُن پر اللہ تعالیٰ اپنی طرف سے سکینہ نازل فرمائے گا۔ یعنی ایسا ممکن ہی نہیں کہ وہ بیٹھیں اور اللہ اُن کے دلوں پر سکون اور اطمینان نہ اُتارے، اُن کے غم دور نہ کرے اور اُن کی مشکلات آسان نہ فرمائے۔ پھر فرمایا کہ اللہ کی رحمت انہیں ڈھانپ لے گی اور اپنی آغوش میں لے لے گی، اور فرشتے انہیں چاروں طرف سے گھیر لیں گے، کیونکہ وہ قرآن، حدیث، سیرت اور سنت کا علم حاصل کر رہے ہوتے ہیں اور اپنا عقیدہ و کردار درست کر رہے ہوتے ہیں۔
یہ تین عظیم نعمتیں زمین پر نازل ہوتی ہیں: سکینہ، رحمت اور فرشتوں کا حصار۔ یعنی جو لوگ مرکزِ علم اور مجلسِ علم میں بیٹھ کر قرآن پڑھتے، سمجھتے اور سکھاتے ہیں، ان پر اللہ تعالیٰ دلوں کا سکون نازل فرماتا ہے، اپنی رحمت سے انہیں ڈھانپ لیتا ہے اور فرشتے ان کے گرد حلقہ بنا لیتے ہیں۔ یہ برکات زمین پر اس مجلس کے شرکاء کے لیے ہوتی ہیں، تاکہ اُن کے دلوں کو اطمینان، زندگی کو برکت اور فکر کو ہدایت نصیب ہو۔ اور پھر چوتھی نعمت سن لیجیے، یعنی اللہ تعالیٰ عرش پر فرشتوں کی مجلس میں ان بندوں کا ذکر فرماتا ہے۔ اللہ فرماتا ہے کہ آج فلاں کے گھر میں مرکزِ علم قائم ہے، آج قرآن پر تدبر ہو رہا ہے، حدیث اور سنتِ نبوی کا ذکر ہو رہا ہے، لوگ علم سکھا اور سیکھ رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرشتوں کے سامنے ان اہلِ مجلس کا نام لے کر فخر فرماتا ہے۔ اگر اس عظیم فضیلت کے بعد بھی ہر گھر مرکزِ علم نہ بنے تو پھر حیرت کے سوا کچھ باقی نہیں رہتا، کیونکہ اس سے بڑی سعادت اور کیا ہو سکتی ہے کہ بندے کا ذکر عرشِ الٰہی پر ہو۔
علم و عمل کی اہمیت:
شیخ الاسلام نے مزید کہا کہ: کیا آپ یہ نہیں چاہتے کہ اِدھر آپ ہفتہ وار مرکزِ علم کی مجلس میں بیٹھے ہوں، اور اُدھر عرشِ الٰہی پر اللہ تعالیٰ فرشتوں کی مجلس میں آپ کا ذکر فرما رہا ہو؟ کہ فلاں فلاں بندہ میری یاد میں بیٹھا ہے، فلاں کے گھر میں مجلسِ علم قائم ہے، وہاں قرآن، حدیث اور سنتِ نبوی کا ذکر ہو رہا ہے، میرے دین کی باتیں ہو رہی ہیں، لوگ میرے احکام سیکھ رہے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ عرش پر فرشتوں کو بتا رہا ہو کہ یہ میرے بندے علمِ دین حاصل کر رہے ہیں۔ یہ کتنی عظیم سعادت ہے کہ زمین پر آپ علم کی مجلس میں ہوں اور آسمانوں پر اللہ آپ کا ذکر فرما رہا ہو۔
آخری چیز جو آقا علیہ السلام نے بیان فرمائی:
وَمَنْ بَطَّأَ بِهِ عَمَلُهُ لَمْ يُسْرِعْ بِهِ نَسَبُهُ
مسلم، الصحیح، جلد4، ص 2074، رقم: 2699
یعنی جس شخص کے اعمال کمزور ہوں اور جس نے علم حاصل نہ کیا ہو، نہ علم کے ذریعے اپنے عمل کو بہتر بنایا ہو، تو اس کا عمل ہی اسے پیچھے دھکیل دیتا ہے۔ جب علم کی کمی ہو تو عمل کی کیفیت بھی بلند نہیں ہوتی، کردار میں کمزوری آ جاتی ہے، سیرت میں نقص پیدا ہو جاتا ہے اور نیکیوں کی کمی رہ جاتی ہے۔ ایسے شخص کو اس کا نسب، خاندان یا شجرۂ نسب آگے نہیں بڑھا سکتا۔ چاہے وہ کسی بڑے خاندان سے ہو، کسی عظیم شخصیت کا بیٹا، پوتا یا پڑپوتا ہو، اگر اس کے پاس علم اور عمل نہیں تو اس کا نسب اُسے آگے نہیں لے جا سکتا۔ جو شخص علم و عمل کے فقدان کی وجہ سے پیچھے رہ جائے، اسے محض خاندان کا تعلق آگے نہیں بڑھا سکتا، وہ وہیں پیچھے ہی رہ جاتا ہے جہاں اس کے اعمال نے اسے کھڑا کر دیا۔
آخر میں شیخ الاسلام نے کہا کہ آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے علم کی اتنی بڑی فضیلت بیان فرمائی ہے کہ اب آپ خود اندازہ لگا سکتے ہیں کہ مرکزِ علم کتنا عظیم کام ہے اور مجلسِ علم کتنا بلند اور شرف والا حلقہ ہے۔ اس کا مرتبہ اور فضیلت بے مثال ہے۔ میں امید کرتا ہوں کہ جن کے دلوں میں اللہ تعالیٰ نے ایمان کا نور رکھا ہے اور جو حقیقی طلبگار ہیں، وہ ان عظیم نعمتوں، ان قربتوں اور اللہ کے ان انعامات کو پہچانیں گے۔ ایسے لوگ اپنے گھر کو مرکزِ علم بنانے کا اعلان کریں گے، اور اس سلسلے میں 25000 مراکزِ علم کے قیام میں دیر نہیں ہونی چاہیے۔
بلاگر: ڈاکٹر محمد اقبال چشتی (ریسرچ اسکالر)


















تبصرہ