انسان کی اصل کامیابی یہ ہے کہ دنیا سے رخصت ہوتے وقت دل میں صرف اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت غالب ہو:پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری

صلحائے اُمت کے دل آخرت کی فکر سے اس قدر لبریز ہوتے ہیں کہ دنیا کے غم اُن کی نگاہ میں کچھ نہیں ہوتے: صدر منہاج القرآن

اصلاحِ احوال کا سفر دراصل خود احتسابی سے شروع ہوتا ہے، کیونکہ انسان جب اپنے باطن، نیتوں اور اعمال کا دیانت داری سے جائزہ لیتا ہے تو اسے اپنی کمزوریاں بھی دکھائی دیتی ہیں اور اپنی سمت بھی واضح ہو جاتی ہے۔ یہی شعوری نگرانی اسے اس منزل کی طرف لے جاتی ہے جہاں زندگی کی اصل کامیابی پوشیدہ ہے کہ انسان دنیا سے رخصت ہو تو اس کے دل میں ہر شے سے بڑھ کر اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت غالب ہو۔ جب یہ محبت اور آخرت کی فکر دل میں جگہ بنا لیتی ہے تو دنیا کے غم اپنی شدت کھو دیتے ہیں۔ صلحائے اُمت کی زندگیاں اسی حقیقت کی روشن مثال ہیں کہ جن کے دل آخرت کی جواب دہی کے احساس سے اس قدر معمور ہوتے ہیں کہ دنیا کے دکھ اُن کی نگاہ میں ہیچ ہو جاتے ہیں۔ یوں خود احتسابی، محبتِ الٰہی اور فکرِ آخرت مل کر انسان کے باطن کو سنوارتے ہیں اور اسے حقیقی کامیابی کے راستے پر گامزن کر دیتے ہیں۔

اصلاحِ احوال اور باطنی سفر کا شعوری محاسبہ:

پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ: اصلاحِ احوال کی ہماری تمام کوششوں کا اصل مقصد یہ ہونا چاہیے کہ انسان اپنے باطنی سفر کو شعوری طور پر ناپتا رہے۔ وہ اپنی روزمرہ زندگی، کیفیات، احساسات، وساوس، ارادوں اور خیالات کا جائزہ لے کر دیکھے کہ وہ دس سال پہلے کیسا تھا، پانچ سال پہلے کہاں کھڑا تھا، آج کس حال میں ہے اور کل کیا بننا چاہتا ہے۔ یہی مسلسل محاسبہ اُسے بتا دیتا ہے کہ اس میں حقیقی تبدیلی آئی ہے یا نہیں۔ بدقسمتی سے ہم اکثر اِن امور پر سنجیدگی سے غور نہیں کرتے اور بہت سی عبادات کو محض رسمی انداز میں ادا کرتے رہتے ہیں۔ یہاں تک کہ اعتکاف، تسبیحات اور دیگر نفلی اعمال بھی کبھی کبھی صرف ظاہری ادائیگی بن کر رہ جاتے ہیں، جبکہ ہمارے خیالات اور جذبات ایک ساتھ ہم آہنگ نہیں ہوتے، نتیجتًا روحانی سفر آگے نہیں بڑھتا۔ اس لیے ضروری ہے کہ انسان اپنے باطن کو بیدار رکھے اور اپنی منزل کو واضح کرے۔ ایسی منزل جہاں دنیا کی کوئی شے دل میں خوف پیدا نہ کرے اور کوئی غم اسے مغلوب نہ کر سکے، بلکہ ہر حال میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت غالب رہے۔ یہ راستہ آسان نہیں، مگر اسے ایک اعلیٰ مقصد سمجھ کر اس کی طرف قدم بڑھانا ہی اصل کامیابی ہے، تاکہ رخصتِ دنیا کے وقت دل مطمئن ہو اور محبتِ الٰہی اور رسول اللہ ﷺ کی محبت سب پر حاوی ہو۔

محبتِ رسول ﷺ: غمِ دنیا پر غالب کیفیت:

ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے مزید کہا کہ: ہماری بہنوں کے لیے یہ واقعہ ایک عظیم روحانی سبق رکھتا ہے کہ ایک جلیل القدر صحابیہ کو غزوے سے واپسی پر جب بتایا گیا کہ ان کے والد، شوہر اور بیٹے شہید ہو گئے ہیں، تو ہر خبر کے جواب میں ان کا ایک ہی سوال تھا: ’’مجھے یہ بتاؤ کہ رسولِ کریم ﷺ کیسے ہیں؟‘‘ یہ کیفیت اس بات کی علامت تھی کہ ان کے دل میں دنیاوی رشتوں کے غم سے بڑھ کر محبتِ رسول ﷺ غالب تھی۔ ایسا مقام محض دعوے سے حاصل نہیں ہوتا؛ یہ تب نصیب ہوتا ہے جب انسان دنیا کے خوف اور تعلقات سے اوپر اٹھ کر اپنے دل کو اللہ اور اس کے محبوب ﷺ کی رضا کے ساتھ جوڑ لیتا ہے۔ پھر اس کے دل پر ایک ہی فکر غالب رہتی ہے، کہیں میرا رب ناراض نہ ہو جائے، کہیں میں اپنے محبوب ﷺ کی ناراضی کا سبب نہ بن جاؤں۔ جب آخرت کی فکر اور اپنے اعمال کا احساس گہرا ہو جاتا ہے تو دنیا کے دکھ اپنی شدت کھو دیتے ہیں۔ یوں انسان کا باطن اس محبت اور جواب دہی کے احساس سے بھر جاتا ہے کہ جذباتی سے جذباتی منظر بھی اسے صرف اسی وقت متاثر کرتا ہے جب وہ اللہ، اس کے رسول ﷺ اور دین سے متعلق ہو۔ یہی وہ کیفیت ہے جس میں آخرت کا غم انسان کے لیے رہنمائی بن جاتا ہے اور دنیا کے خوف اس کے دل پر اثر انداز نہیں ہو پاتے۔

پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے کہا کہ: ہمیں اپنی توجہ کا رخ بدلنا ہوگا۔ جب انسان اپنی ترجیحات کو درست کر لیتا ہے تو اس کی محنت کا حقیقی نتیجہ سامنے آتا ہے۔ آپ یہاں تعلیم حاصل کر رہے ہیں تو یقینًا آپ کے والدین نے ایک خاص مقصد کے تحت آپ کو اس سفر پر بھیجا ہے۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ آپ یہاں کیوں آئے ہیں؟ اگر مقصد صرف ڈگری لینا ہوتا تو وہ اپنے شہر کے کالج میں بھی ممکن تھا، جہاں گھر کا سکون، والدین کی قربت، بہتر آسائشیں اور مانوس ماحول میسر رہتا۔ ہاسٹل کی زندگی میں دوری، تنگی اور کم سہولتیں سب کچھ برداشت کرنا آسان نہیں ہوتا۔ اس لیے ضروری ہے کہ یہ مشقت کسی بڑے مقصد کے لیے ہو۔ اگر اتنے سالوں کی قربانی کے بعد انسان صرف ایک کاغذی سند لے کر واپس لوٹ آئے تو یہ خسارے کا سودا ہوگا۔ اصل مقصد صرف علم کی سند حاصل کرنا نہیں، بلکہ اپنی زندگی کے انداز کو بدل دینا ہے۔ ایسی تبدیلی جس میں تقویٰ انسان کی فطرت میں رچ بس جائے۔ جیسے خون کا گروپ شناخت بن جاتا ہے، ویسے ہی تقویٰ انسان کی پہچان بن جائے۔ پھر صحیح اور غلط کے درمیان بار بار جدوجہد کی ضرورت نہ رہے، بلکہ طبیعت خود بخود نیکی کی طرف مائل ہو۔ انسان کے خیالات، ارادے اور فیصلے خشیتِ الٰہی، اطاعتِ رسول ﷺ اور محبتِ نبوی کے رنگ میں ڈھل جائیں۔ یہی وہ کامیابی ہے جو اس سفر کو بامعنی بناتی ہے۔

یہ مطلوبہ تبدیلی ان چند برسوں میں تربیت کے ذریعے حاصل ہوتی ہے، محض درس و تدریس سے نہیں۔ تعلیم یقینًا علم میں اضافہ کرتی ہے، مگر اصل تربیت وہ مشق ہے جو انسان کی طبیعت، اخلاق، اعمال، عادات اور اطوار میں تقویٰ کا رنگ پیدا کرتی ہے۔ یہی تقویٰ انسان کو دنیا میں بھی سکون عطا کرتا ہے اور آخرت میں بھی کامیابی کا ذریعہ بنتا ہے، یہاں تک کہ وہ اس مقام کے قریب پہنچ جاتا ہے جہاں خوف اور غم دل پر غالب نہیں رہتے۔ یہ کیفیت صرف اس بات سے پیدا نہیں ہوتی کہ زبان پر تقویٰ کی مختلف ابحاث ہوں، اصطلاحات یاد ہوں یا آیات و احادیث محفوظ ہوں۔ اصل مقصد یہ ہے کہ انسان اپنی ذات میں حقیقی تبدیلی پیدا کرے، چاہے وہ بڑے خطابات نہ بھی کرے، مگر اس کا کردار، عادات اور سوچ پاکیزہ ہو جائیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اکثر انسان بہت کچھ بدل لیتا ہے مگر اپنا اندازِ فکر نہیں بدلتا، حالانکہ یہی اصل کنجی ہے۔ جب سوچ بدل جاتی ہے تو گویا انسان کا اندرونی نظام نئی تازگی پا لیتا ہے؛ پھر وہ خیالات جو کبھی گناہ کی طرف مائل کرتے تھے خود بخود کمزور پڑ جاتے ہیں، اور یہی وہ راستہ ہے جس پر چل کر حقیقی اصلاح حاصل ہوتی ہے۔

بلاگر: ڈاکٹر محمد اِقبال چشتی (ریسرچ اسکالر)

تبصرہ

ویڈیو

Ijazat Chains of Authority
Top