توبہ صرف اِستغفار کے اَلفاظ نہیں بلکہ دل کی ندامت اور کردار کی تبدیلی کا نام ہے: شیخ حماد مصطفی المدنی القادری
بُری صحبت کو چھوڑے بغیر توبہ کی حفاظت ممکن نہیں: خطاب
توبہ محض چند الفاظ کی تکرار یا وقتی جذبات کا نام نہیں، بلکہ یہ انسان کے باطن اور ظاہر دونوں کی ہمہ گیر اصلاح کا عنوان ہے۔ توبہ کے پانچ بنیادی ارکان دراصل اُس مکمل روحانی سفر کی منازل ہیں جو بندے کو گناہ کی تاریکی سے نکال کر قربِ الٰہی کی روشنی تک لے جاتی ہیں۔ صرف زبان سے اِستغفار کافی نہیں، جب تک دل ندامت سے نہ پگھلے اور کردار میں حقیقی تبدیلی پیدا نہ ہو۔ اسی طرح بری صحبتوں اور گناہ کے اسباب سے کنارہ کشی کے بغیر توبہ کی حفاظت ممکن نہیں، کیونکہ ماحول ہی انسان کے ارادوں کو کمزور یا مضبوط بناتا ہے۔ حقیقی توبہ وہ ہے جو لفظ سے شروع ہو کر دل میں اُترے، کردار میں ڈھلے اور زندگی کے ہر گوشے کو پاکیزگی کی سمت موڑ دے۔
توبہ کے پانچ بنیادی اَرکان:
شیخ حماد مصطفی المدنی القادری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ: توبہ کے پانچ بنیادی ارکان ہیں، اور ہر رُکن بندے کو اللہ تعالیٰ کی طرف حقیقی رجوع کی ایک نئی منزل عطا کرتا ہے۔ توبہ کا پہلا رُکن اَلْاِسْتِغْفَارُ بِاللِّسَانِ ہے، یعنی زبان سے اللہ تعالیٰ کے حضور اپنے گناہوں کا اعتراف کرنا اور اس کی بارگاہ میں مغفرت طلب کرنا۔ بدقسمتی سے ہم نے توبہ کو محض چند استغفار کے الفاظ تک محدود سمجھ لیا ہے، حالاں کہ اہلِ علم کے نزدیک یہ توبہ کا صرف ایک حصہ ہے، مکمل توبہ نہیں۔
توبہ کا دوسرا رُکن اَلنَّدَمُ عَلَی مَا عَمِلَ مِنَ الْعِصْیَانِ ہے، یعنی جو گناہ غفلت یا کمزوری سے سرزد ہو گیا ہو، اس پر دل کی گہرائی سے ندامت اور شرمندگی محسوس کرنا۔ حقیقی توبہ کی ابتداء اسی لمحے ہوتی ہے جب انسان کا دل اپنے کیے پر پگھلنے لگے اور اسے اپنے رب کے سامنے اپنی کوتاہی کا احساس ہو۔ اگر دل میں ندامت پیدا ہو جائے تو سمجھ لیجیے کہ رجوع کا دروازہ کُھل چکا ہے۔
توبہ کا تیسرا رُکن اَلْاِقْلَاعُ عَنِ الذَّنْبِ بِالْأَبْدَانِ ہے، یعنی جن اعضاء سے گناہ سرزد ہوا ہو اُنہیں عملاً گناہ سے روک دینا۔ اگر آنکھیں معصیت میں ملوث تھیں تو اُنہیں پاک کرنا ہوگا، اگر زبان، ہاتھ، کان یا قدم خطا کی طرف بڑھتے تھے تو اُنہیں بھی روکنا اور سنوارنا ہوگا۔ صرف ندامت کافی نہیں، عملی تبدیلی بھی ضروری ہے۔
توبہ کا چوتھا رُکن عَزْمُ تَرْکِ الْعَوْدِ بالجنانِ ہے، یعنی دل میں پختہ ارادہ کرنا کہ آئندہ اس گناہ کی طرف پلٹ کر نہیں جائیں گے۔ یہ ارادہ محض وقتی جذبہ نہیں بلکہ مستقل عزم ہونا چاہیے کہ اب زندگی کا رخ اللہ تعالیٰ کی رضا کی طرف موڑ دیا گیا ہے۔
توبہ کا پانچواں اور نہایت اہم رُکن اَلْمُھَاجَرَۃُ عَنْ سَیِّئِ الْخُلَّانِ ہے، یعنی اُن صحبتوں کو ترک کرنا جو انسان کو گناہ کی طرف مائل کرتی ہیں۔ بُری مجلسیں اور غفلت آمیز ماحول انسان کو دوبارہ اسی دلدل میں لے جاتے ہیں جس سے وہ نکلنا چاہتا ہے۔ اس لیے صحبت کی اصلاح توبہ کی حفاظت ہے۔
حضور نبی اکرم ﷺ نے توبہ کے متعلق ارشاد فرمایا:
اَلنَّدَمُ تَوْبَةٌ.
(گناہ پر) ندامت (شرمندگی) توبہ ہے۔ (ابن ماجہ، السنن، جلد2، ص 1420، رقم: 4252)
ایک اور حدیث میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَيَقْبَلُ تَوْبَةَ الْعَبْدِ مَا لَمْ يُغَرْغِرْ.
’’بیشک اللہ عزوجل اپنے بندے کی توبہ قبول کرتا رہتا ہے جب تک اس کی جان حلق میں نہ آ جائے۔‘‘ (ابن ماجہ، السنن، جلد2، ص 1420، رقم: 4253)
توبہ کی حفاظت؛ ماحول اور مجلس کی تطہیر:
آخر میں شیخ حماد مصطفی المدنی القادری نے مزید کہا کہ: ہم زبان سے توبہ کا دعویٰ تو کرتے ہیں، مگر افسوس یہ ہے کہ توبہ کے پانچوں ارکان کو مکمل کرنے کی سنجیدہ کوشش نہیں کرتے۔ ہم اپنی صحبت، سنگت اور مجلس کی اصلاح نہیں کرتے، حالاں کہ یہی وہ مقامات ہیں جہاں سے کردار کی تشکیل بھی ہوتی ہے اور بگاڑ بھی جنم لیتا ہے۔ جن ذرائع سے دل میں بدی پیدا ہوتی ہے، جن ماحول سے طبیعت میں شر انگیزی جنم لیتی ہے، جن محفلوں سے زبان پر لغزش آتی ہے اور جن صحبتوں سے کانوں میں وسوسے آتے ہیں، اُن سب سے کنارہ کش ہونا توبہ کے لیے ناگزیر ہے۔ جب تک انسان اپنے ماحول کو پاک نہیں کرتا، اُس کی توبہ کمزور اور غیر محفوظ رہتی ہے۔ حقیقی رجوع وہی ہے جو نہ صرف گناہ کو چھوڑ دے بلکہ اُن راستوں کو بھی مسدود کر دے جو گناہ تک پہنچاتے ہیں۔
بلاگر: ڈاکٹر محمد اِقبال چشتی (ریسرچ اسکالر)


















تبصرہ