جو صدقہ وخیرات اخلاص سے چُھپ کر دیا جائے، وہی اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ مقبول ہوتا ہے: شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری

اللہ تعالیٰ کے ہاں عزت کا معیار پیشہ نہیں، بلکہ تقویٰ اور اخلاص ہے:شیخ الاسلام کا خطاب

راہِ خدا میں چُھپا کر خرچ کرنا محض ایک مالی عمل نہیں بلکہ بندگی کے اعلیٰ ذوق اور اخلاصِ نیت کی روشن علامت ہے۔ وہ صدقہ جو نمود و نمائش سے محفوظ رہ کر صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے دیا جائے، اُسی کو بارگاہِ الٰہی میں حقیقی قبولیت نصیب ہوتی ہے، کیونکہ وہاں اعمال کی ظاہری صورت نہیں بلکہ دل کی کیفیت دیکھی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک نہ کسی کا پیشہ معیارِ فضیلت ہے اور نہ دنیاوی مقام و مرتبہ؛ اصل عزت تقویٰ، عاجزی اور خالص نیت میں پوشیدہ ہے۔ جو بندہ گمنامی میں رہ کر اس کے بندوں کی مدد کرتا ہے، وہ درحقیقت اپنے رب کے قریب ہو جاتا ہے، اور اسی قرب میں اس کی بزرگی اور سرخروئی کا راز مضمر ہے۔

پوشیدہ صدقہ کرنا اِخلاص کی اعلیٰ مثال:

مجدّد المئۃ الحاضرۃ حضور شیخ الاسلام دامت برکاتہم العالیۃنے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ: اِس طرح خدا کی مخلوق پر خرچ کریں کہ دایاں ہاتھ دینے والا ہو اور بایاں ہاتھ بے خبر ہو۔ قرآنِ کریم اس کے متعلق ارشاد فرماتا ہے:

﴿الَّذِينَ يُنْفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ سِرًّا وَعَلَانِيَةً﴾

’’جو لوگ (اللہ کی راہ میں) شب و روز اپنے مال پوشیدہ اور ظاہر خرچ کرتے ہیں‘‘ [البقرة : 274]

یعنی وہ لوگ جو رات کی تاریکی میں اللہ کے بندوں پر خرچ کرتے ہیں اور اس طرح دیتے ہیں کہ کسی کو خبر تک نہیں ہونے دیتے، وہ لوگ دراصل اِنفاق کے ایک اعلیٰ ادب کو اختیار کرتے ہیں۔ زکوٰۃ، صدقات اور اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کا یہ دوسرا اہم اصول ہے کہ انسان اپنے عمل کو نمود و نمائش سے محفوظ رکھے۔ جو لوگ خلوصِ دل سے پوشیدہ طور پر خدا کی راہ میں دیتے ہیں، اللہ تعالیٰ اُنہیں ایسا عظیم اَجر عطا فرماتا ہے کہ اُن کا ایک عمل بھی بے شمار لوگوں کے اعمال کی قبولیت کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ یہ وہ عطا ہے جو اخلاص کے سبب کئی گنا بڑھا دی جاتی ہے اور دینے والے کے مقام کو بلند کر دیتی ہے۔

بندگی کا اصل معیار تقویٰ اور خدمتِ خلق میں ہے:

شیخ الاسلام نے مزید کہا کہ: بلخ کے علاقے میں ایک بزرگ گزرے ہیں، حضرت شقیق بلخی رحمۃ اللہ علیہ۔ بعض کتابوں میں اُن کا نام غلطی سے شفیق بلخی لکھا گیا ہے، حالانکہ اُن کا درست نام ’’شقیق بلخی‘‘ ہے۔ وہ پیشے کے اعتبار سے جوتے بنانے کا کام کرتے تھے، مگر اللہ کے نزدیک بزرگی کا تعلق نہ پیشے سے ہے اور نہ ظاہری حیثیت سے۔ کوئی بوریا نشین ہو یا ریشمی بستروں پر سونے والا، اصل معیار تقویٰ، عاجزی، نیازمندی اور رضائے الٰہی کی طلب ہے۔

ہم نے دنیا میں چھوٹے بڑے کی جو تقسیم قائم کر رکھی ہے، وہ محض ظاہری اسباب کی بنیاد پر ہے، ورنہ خدا کی بارگاہ میں عزت کا معیار صرف دل کی کیفیت اور بندگی کا اخلاص ہے۔ جو جتنا اللہ کو راضی کرنے والا ہے، وہی اُس کے نزدیک بلند ہے، چاہے دنیا کی نگاہ میں وہ معمولی ہو۔ اور جو شخص تکبر میں ڈوبا رہے، خواہ وہ کتنا ہی طاقت ور کیوں نہ ہو، خدا کے ہاں وہ حقیر اور بے قدر ہے۔

ایک مرتبہ حضرت شقیق بلخیؒ نے اپنے کچھ ساتھیوں کے ساتھ مل کر حج پر جانے کا ارادہ کیا۔ سب نے مل کر اپنی استطاعت کے مطابق رقم جمع کی اور ایک فنڈ تیار کر لیا۔ جب روانگی کا وقت قریب آیا تو ایک دن وہ کسی کام سے شہر سے باہر نکلے۔ وہاں انہوں نے دیکھا کہ ایک عورت برقعے میں کچھ چھپائے جنگل کی طرف جا رہی ہے۔ تجسس ہوا تو فاصلے سے اس کا تعاقب کیا۔ عورت نے اِدھر اُدھر دیکھ کر اطمینان کیا کہ کوئی نہیں دیکھ رہا، پھر ایک مردار جانور کے پاس جا کر اس کا گوشت کاٹا اور اُسے اپنے برقعے میں چھپا کر گھر لے آئی۔ حضرت شقیق بلخیؒ یہ منظر دیکھ کر حیران رہ گئے اور رات کو اس کے گھر کے متعلق مختلف لوگوں سے حقیقت معلوم کی۔ معلوم ہوا کہ وہ بیوہ ہے، اس کے بچے یتیم ہیں، کئی دنوں سے فاقہ ہے اور کوئی ان کا حال پوچھنے والا نہیں۔ بچوں کی جان بچانے کے لیے وہ مجبوری میں مردار کا گوشت لائی ہے، مگر وہ عورت کسی کے آگے ہاتھ پھیلانے کو تیار نہ تھی۔

یہ منظر دیکھ کر حضرت شقیق بلخیؒ کانپ اٹھے۔ ساری رات بے چین رہے اور صبح ہوتے ہی اُس شخص کے پاس گئے جس کے پاس حج کا جمع شدہ سرمایہ رکھا تھا۔ انہوں نے ساری رقم واپس لی، خود کو ملامت کی اور کہا: شقیق! تیرے پڑوس میں بیوہ اور یتیم بھوک سے مجبور ہو کر حرام کھانے پر آمادہ ہیں اور تو حج کی تیاری کر رہا ہے؟ ایسا حج کیسے قبول ہوگا؟ چنانچہ انہوں نے حج کا ارادہ ترک کر دیا اور وہ تمام رقم خاموشی سے اس بیوہ اور اس کے بچوں تک پہنچا دی۔ نہ اپنا نام بتایا، نہ احسان جتایا۔ یوں انہوں نے یہ سبق دیا کہ اللہ کی رضا کبھی کبھی اپنے اردگرد کے مجبور انسانوں کی خدمت میں پوشیدہ ہوتی ہے۔

لوگ روانگی کے وقت اُن کے پاس آئے اور کہا: حج پر چلو، قافلہ تیار ہے۔ حضرت شقیق بلخیؒ نے سکون سے جواب دیا: میرے پاس اب سفر کے لیے رقم نہیں، وہ میں ایک ضرورت میں خرچ کر چکا ہوں، اس لیے میں نہیں جا سکوں گا۔ یہ سن کر لوگوں نے طعنے دینے شروع کر دیے۔ کسی نے کہا: ضرور چمڑا خرید لیا ہوگا یا کاروبار بڑھانے میں لگا دیا ہوگا۔ کسی نے طنز کیا: بدنصیب تھا، اُسے خدا کی بارگاہ میں حاضری کہاں نصیب ہونی تھی! وہاں تو نصیب والے جاتے ہیں۔کسی نے کہا: ہمیں پہلے ہی معلوم تھا کہ یہ آگے نہیں پہنچنے والا۔ لوگ اپنی اپنی بات کہتے رہے، اور وہ خاموشی سے مسکراتے ہوئے سب کچھ سنتے رہے۔ نہ صفائی دی، نہ وضاحت کی۔ قافلہ حج کے لیے روانہ ہو گیا، حج ادا ہو گیا، مگر شقیق بلخیؒ اپنے شہر میں ہی رہے۔

حج کے بعد ایک بزرگ، جو کعبہ کے حرم میں قیام پذیر تھے، رات کو سوئے تو خواب میں دیکھا کہ دو فرشتے آپس میں گفتگو کر رہے ہیں۔ ایک نے پوچھا: اس سال کتنے لوگوں نے حج کیا؟ دوسرے نے جواب دیا: تقریبًا نو یا دس لاکھ افراد نے حج ادا کیا ہے۔ پہلے فرشتے نے پھر سوال کیا: ان میں سے کتنے لوگوں کا حج قبول ہوا؟ جواب ملا: تمام کے تمام لوگوں کا حج قبول کر لیا گیا ہے۔ فرشتے نے حیرت سے پوچھا: ایسا کیوں؟ دوسرے نے کہا: بلخ میں ایک بزرگ ہیں، شقیق بلخی، جو جوتے بنانے کا کام کرتے ہیں۔ وہ خود حج پر نہیں آ سکے، مگر اللہ تعالیٰ نے انہیں گھر بیٹھے ایسا اجر عطا فرمایا کہ اُن کے عمل کے صدقے میں تمام حاجیوں کا حج قبول کر لیا گیا۔

یہ سن کر وہ بزرگ بیدار ہو گئے۔ فورًا سفر کا ارادہ کیا اور بلخ پہنچ کر لوگوں سے پوچھا: حضرت شقیق بلخی کہاں ملیں گے؟ میں اُن کی زیارت کرنا چاہتا ہوں۔ لوگ ہنس پڑے اور کہنے لگے: وہ کون سے بزرگ ہیں؟ وہ تو بدبخت ہیں، حج پر بھی نہ جا سکے۔ انہوں نے کہا: مجھے اُسی شخص کی زیارت کرنی ہے جو حج پر نہ جا سکا۔ آخرکار وہ اُن کی خدمت میں حاضر ہوئے اور سارا خواب سنایا۔ یہ خوشخبری سن کر حضرت شقیق بلخیؒ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے اور وہ سجدے میں گر کر اللہ کا شکر ادا کرنے لگے۔

واقعی وہ رب کتنا کریم، کتنا سخی اور کتنا جواد ہے۔ اعمال کی قدر وقیمت اُن کی شکل و صورت سے نہیں بلکہ نیت سے ہوتی ہے۔ حج کا ظاہری عمل اگرچہ اُن سے ادا نہ ہو سکا، مگر اللہ کی مخلوق پر رات کی تاریکی میں کیا گیا وہ خالص انفاق ایسا مقبول ہوا کہ نہ صرف اُنہیں بلکہ لاکھوں حاجیوں کو بھی حجِ مقبول کا شرف مل گیا۔

بلاگر: ڈاکٹر محمد اقبال چشتی (ریسرچ اسکالر)

تبصرہ

ویڈیو

Ijazat Chains of Authority
Top