کاملین وہ چراغِ راہ ہوتے ہیں جو خود بھی عشق کی آگ میں جلتے ہیں اور دوسروں کے دلوں کو بھی اِسی حرارت سے منوّر کردیتے ہیں: شیخ حماد مصطفی المدنی القادری
تصوف کی معراج یہ ہے کہ انسان طلب کی وادیوں سے چلتا ہوا محبوب کی گلیوں تک جا پہنچے: خطاب
کاملینِ طریقت کا مقام و مرتبہ محض روحانی دعوؤں کا عنوان نہیں بلکہ ایک زندہ حقیقت ہے، جو کردار کی حرارت اور محبت کی صداقت سے پہچانی جاتی ہے۔ وہ خود عشقِ الٰہی کی آگ میں جل کر اپنے باطن کو روشن کرتے ہیں اور پھر اسی نور کی کرنیں دوسروں کے دلوں تک پہنچاتے ہیں۔ اُن کی صحبت میں بیٹھنے والا محض الفاظ نہیں سنتا بلکہ ایک کیفیت کو محسوس کرتا ہے، پھر وہ ایک ایسا سفر شروع کرتا ہے جو طلب کی وادیوں سے اٹھ کر محبوب کی گلیوں تک جا پہنچتا ہے۔ یہی تصوف کی معراج ہے کہ انسان خواہش سے وفا تک، جستجو سے وصال تک اور علم سے حال تک کا سفر طے کرے، اور کاملین اسی سفر کے رہبر اور چراغِ منزل ہوتے ہیں۔
کاملینِ طریقت اور تربیتِ سالک کا راز:
شیخ حماد مصطفی المدنی القادری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ: کاملینِ طریقت کا یہ امتیاز ہوتا ہے کہ وہ خود راہِ شوق و محبت، راہِ عشق و جستجو، راہِ تقویٰ و پرہیزگاری، اور راہِ زہد و قناعت کے دشوار گزار مراحل طے کرتے ہیں، اور پھر اپنے قرب میں آنے والوں کو بھی اسی نورانی سفر پر گامزن کر دیتے ہیں۔ ان کے لیے تصوف محض الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک زندہ اور متحرک سلوک ہے، جو عمل سے شروع ہو کر دل تک پہنچتا ہے۔ تصوف کی بنیاد ہی اسی باطنی سفر پر رکھی گئی ہے۔ اگر صوفیاء کی کتب و رسائل کا مطالعہ کیا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ ان کی تحریروں کا آغاز اکثر اسی تمثیلی سفر سے ہوتا ہے، کہیں بیابان اور بنجر زمین کا ذکر، کہیں ویران صحراؤں کی حکایت، اور کہیں غیر آباد بستیوں کی تصویر کشی۔
یہ دراصل سالک کی ابتدائی کیفیات کا استعارہ ہوتا ہے۔ جیسے جیسے سالک اس سفرِ عشق و محبت میں آگے بڑھتا ہے، اس کے باطن کی ویرانی رفتہ رفتہ سرسبز و شاداب گلستان میں بدلنے لگتی ہے۔ روح کی بنجر زمین پر معرفت کے پھول کھلتے ہیں اور دل کی وادیوں میں یقین کے چشمے جاری ہو جاتے ہیں۔ یہاں تک کہ جب یہ سفر اپنے نقطۂ کمال کو پہنچتا ہے تو سالک خود کو یار کی گلیوں میں پاتا ہے، جہاں طلب، تڑپ اور جستجو سب وصال کی سرشاری میں ڈھل جاتے ہیں۔
شیخ حماد مصطفی المدنی القادری نے مزید کہا کہ: عزیزانِ محترم! ہم نے بھی اسی راہِ محبت و شوق کا مسافر بننا ہے، اسی شاہراہِ عشق پر قدم رکھنا ہے جہاں طلب اخلاص میں ڈھلتی ہے اور اخلاص قربِ الٰہی کا وسیلہ بنتا ہے۔ یہ راستہ محض جذبات کا نہیں بلکہ مجاہدۂ نفس، صبر، استقامت اور وفاداری کا راستہ ہے۔ اس راستے پر چلنے والا ہر قدم خودی کی نفی اور رضائے رب کی اثبات کی طرف اٹھتا ہے۔ جب انسان اپنے دل کو دنیا کی بے ثبات رغبتوں سے آزاد کر کے محبتِ حقیقی کے سپرد کر دیتا ہے تو اس کے اندر ایک نئی زندگی جنم لیتی ہے، ایسی زندگی جس میں خواہش کی جگہ رضا، اضطراب کی جگہ اطمینان، اور فاصلے کی جگہ قُرب کی لذت پیدا ہو جاتی ہے۔ یہی وہ سفر ہے جو بندے کو محض جاننے والے سے ماننے والا، اور ماننے والے سے پانے والا بنا دیتا ہے۔
بلاگر: ڈاکٹر محمد اِقبال چشتی (سینئر ریسرچ اسکالر)


















تبصرہ