دینے والا اللہ تعالیٰ ہے، مگر وہ اپنی نعمتوں کی تقسیم اپنے محبوب بندوں کے ذریعے فرماتا ہے:شیخ حماد مصطفی المدنی القادری

مورخہ: 02 مارچ 2026ء

تمام خزانے اللہ تعالیٰ کے پاس ہے، مگر اُن کی تقسیم حضور نبی ﷺ کے وسیلے سے ہوتی ہے: خطاب

حضرت موسیٰ علیہ السلام سے بنی اسرائیل کا سوال ہمیں ایک عظیم سبق سکھاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی اصل دینے والا ہے، مگر اپنی نعمتوں کی تقسیم وہ اپنے محبوب بندوں کے ذریعے فرماتا ہے۔ جیسے بنی اسرائیل نے پانی کی ضرورت میں اپنے نبی کی وساطت اختیار کی، اسی طرح ہر امت کو یہ پیغام ملتا ہے کہ تمام خزانے، رزق اور رحمتیں اللہ کے پاس ہیں، مگر اُن کی تقسیم حضور نبی ﷺ کے وسیلے سے ہوتی ہے۔ یہ ہمیں نہ صرف اللہ تعالیٰ کی قدرت اور حکمت کا شعور دلاتا ہے بلکہ نبی کریم ﷺ کی مقامِ نبوت اور اُن کی وساطت کی اہمیت کو بھی روشن کرتا ہے۔

قبولیتِ دعا اور مقامِ نبوت:

شیخ حماد مصطفی المدنی القادری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ: بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کہا: اے موسیٰ علیہ السلام! اپنے رب سے ہمارے لیے بارش کی دعا کیجیے، ہمیں پانی کی سخت ضرورت ہے۔ اگرچہ بنی اسرائیل کی بہت سی کمزوریاں تھیں، مگر اس موقع پر اُن کا عقیدہ قابلِ توجہ ہے۔ وہ چاہتے تو خود اللہ تعالیٰ سے براہِ راست بارش مانگ لیتے، لیکن انہوں نے اپنے نبی سے عرض کیا کہ وہ ان کے لیے اپنے رب سے دعا کریں۔ قرآنِ کریم میں ہے:

﴿وَإِذِ اسْتَسْقَى مُوسَى لِقَوْمِهِ فَقُلْنَا اضْرِبْ بِعَصَاكَ الْحَجَرَ﴾

’’اور (وہ وقت بھی یا دکرو) جب موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم کے لیے پانی مانگا تو ہم نے فرمایا: اپنا عصا اس پتھر پر مارو، ‘‘ \[البقرة : 60]

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بنی اسرائیل اپنے پیغمبر کی قربتِ الٰہی اور مقامِ مقبولیت کو تسلیم کرتے تھے۔ چنانچہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم کی درخواست پر اپنے رب کے حضور دعا کی اور اللہ تعالیٰ نے اُن پر اپنی رحمت فرمائی۔

نبوت کا وسیلہ اور رہنمائی کا الہی اصول:

شیخ حماد مصطفی المدنی القادری نے مزید کہا کہ: اس آیت سے یہ سبق ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی نعمتیں ایک باقاعدہ نظام کے تحت عطا فرماتا ہے۔ اس نے ہر امت کے لیے ایک پیشوا اور رہنما مقرر کیا ہے، اور وہ چاہتا ہے کہ لوگ اپنے نبی اور رہبر کے مقام کو پہچانیں۔ یہ درست ہے کہ دینے والا صرف اللہ ہی ہے، مگر وہ اپنی نعمتوں کی تقسیم اپنے منتخب اور محبوب بندوں کے ذریعے فرماتا ہے۔

اللہ تعالیٰ یہ نہیں چاہتا کہ لوگ اپنے نبی کو نظر انداز کر کے براہِ راست سب کچھ مانگنے لگیں، بلکہ وہ چاہتا ہے کہ وہ اپنے رہنما کی قدر کریں اور اس کے مقام کو سمجھیں۔ جس طرح فوج یا کسی ادارے میں ’’چین آف کمانڈ‘‘ کی پابندی کی جاتی ہے اور جونیئر آفیسر اپنے سپیرئیر کے حکم کو نظر انداز نہیں کرتا، اسی طرح اللہ تعالیٰ نے بھی ہدایت اور نعمتوں کے نظام میں ایک ترتیب رکھی ہے۔ اللہ رب العزت ہی اصل عطا کرنے والا ہے۔ وہ رزق دیتا ہے، علم دیتا ہے، فہم و بصیرت دیتا ہے، کاروبار اور دنیا کی نعمتیں عطا کرتا ہے، مگر یہ سب ایک نظام اور واسطے کے تحت ہوتا ہے۔ اسی مفہوم کو حضور نبی کریم ﷺ نے بھی بیان فرمایا کہ اصل خزانہ اللہ کے پاس ہے، مگر تقسیم اس کے مقرر کردہ طریقے کے مطابق ہوتی ہے۔ صحیح بخاری کی حدیث ہے آقا علیہ السلام نے فرمایا:

إِنَّمَا أَنَا قَاسِمٌ وَاللَّهُ يُعْطِي

’’بے شک عطا خود خدا کی ہے مگر تقسیم محض مصطفیٰ ﷺ کی ہے۔‘‘ (بخاری، الصحیح، جلد1، ص 39، رقم: 71)

جب حضور نبی اکرم ﷺ نے اس موقع پر ’’اِنَّمَا‘‘ کا لفظ استعمال فرمایا تو یہ کلمۂ حصر ہے، یعنی اس کے ذریعے بات میں زور اور تاکید پیدا کی جاتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اصل عطا کرنے والا صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ دینے والا وہی ہے، خزانہ اسی کے پاس ہے اور اختیار بھی اسی کا ہے۔ لیکن اس کے ساتھ یہ حقیقت بھی واضح کی گئی کہ تقسیم ایک مقررہ نظام کے تحت ہوتی ہے، اور اللہ تعالیٰ اپنے محبوب بندوں کے ذریعے اپنی نعمتیں لوگوں تک پہنچاتا ہے۔ یہاں مقصود یہ نہیں کہ عطا کسی اور کی ہے، بلکہ یہ بتانا مقصود ہے کہ عطا اللہ کی ہے اور تقسیم اُس کے مقرر کردہ وسیلے سے ہوتی ہے۔

بلاگر: ڈاکٹر محمد اِقبال چشتی (سینئر ریسرچ اسکالر)

تبصرہ

ویڈیو

Ijazat Chains of Authority
Top