تحریک منہاج القرآن زوال کے اندھیروں میں ایمان، عِلم اور اَخلاق کی شمع روشن کرنے کا نام ہے: شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری
اللہ تعالیٰ نے ہر دور کے مجدّدین کے لیے جو اَجر لکھا ہے، اُس میں اِس تحریک کے ہر فرد کا حصہ محفوظ ہے: شیخ الاسلام کا خطاب
منہاج القرآن کا شہرِ اعتکاف محض چند دنوں کی عبادت کا نام نہیں، بلکہ وہ روحانی اور فکری انقلاب ہے جو انسان کی پوری زندگی کا رُخ بدل دیتا ہے۔ یہ وہ مبارک لمحات ہیں جن میں زوال کے اندھیروں کے درمیان ایمان، عِلم اور اخلاق کی شمعیں روشن کی جاتی ہیں، دلوں کی تطہیر کی جاتی ہے اور فکر کو نئی جہت دی جاتی ہے۔ تحریک منہاج القرآن اِسی احیائے دین اور تجدیدِ ایمان کی جدوجہد کا نام ہے، جو ہر دور کے تقاضوں کے مطابق اسلام کی اصل روح کو زندہ کرنے کا عزم رکھتی ہے۔ یقینًا اللہ تعالیٰ نے ہر صدی میں دین کی تجدید کرنے والوں کے لیے جو اَجر مقرر فرمایا ہے، اُس میں اِس تحریک کے ہر مخلص فرد کا حصہ محفوظ ہے۔
منہاج القرآن تجدیدِ دین کی تحریک:
مجدّد المئۃ الحاضرۃ حضور شیخ الاسلام دامت برکاتہم العالیۃنے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ: آپ ایک عظیم تحریک کا حصہ ہیں، وہ تحریک جو تجدیدِ دین اور احیائے اسلام کی علمبردار ہے۔ یہ محض ایک تنظیم یا اجتماع نہیں، بلکہ ایک فکری، روحانی اور اخلاقی بیداری کی مسلسل جدوجہد ہے۔ ایک ایسے مادی اور زوال پذیر دور میں، جب اَقدار ماند پڑتی جا رہی ہیں، یہ تحریک اسلام کی قدیم، روحانی، اخلاقی، علمی اور اعتقادی قدروں کو اَز سرِ نو زندہ کرنے کا عزم لے کر اُٹھی ہے۔ یہ تحریک ماضی کی تابندہ روایات کو حال کے تقاضوں سے جوڑ رہی ہے اور حال کو اپنے روشن ماضی سے پیوستہ کرنے کی سعی کر رہی ہے۔ یہ مردہ دلوں میں زندگی کی حرارت پیدا کرنے، بگڑے ہوئے عقائد کی اصلاح کرنے اور اعمال و احوال کو سنوارنے میں شب و روز مصروف ہے۔ یہ فکر و نظر کو درست زاویہ عطا کرتی ہے، زندگی کو صحیح راستہ دکھاتی ہے، اور افراد کے اندر اسلاف کا رنگ پیدا کرنے کی جدوجہد کرتی ہے۔
یہ وہ تحریک ہے جو نسلوں کو ایمان کی قوت اور نورِ ہدایت کے ساتھ مستقبل کی طرف لے جا رہی ہے۔ اس تحریک نے مردہ اَقدار کو زندہ کیا، عقائد کی حفاظت کی، اخلاق کو سنوارا، اعمال کی اصلاح کی اور دین کی صحیح فکر کو عام کیا۔ اس نے لوگوں کو قرآن سے جوڑا، سنتِ رسول ﷺ سے وابستہ کیا، علم و شعور سے آشنا کیا اور صحتِ عقیدہ کی بنیادوں کو مضبوط کیا۔ زندگی کے مختلف میدانوں میں اصلاح کا بیڑا اٹھانے والی اس تحریک کے آپ فعّال رکن ہیں۔ آپ اس قافلے کے شریکِ سفر ہیں، اس جدوجہد کے برابر کے حصہ دار ہیں۔ آپ نے احیائے دین اور تجدیدِ دین کا عَلَم اپنے ہاتھوں میں اٹھایا ہے اور اسے نسل در نسل آگے بڑھا رہے ہیں۔
ہر سال تربیتی اجتماع اعتکاف کی صورت میں جو منعقد ہوتا ہے، وہ درحقیقت ایک روحانی درسگاہ ہے۔ یہ ایک ایسی ورکشاپ ہے جہاں سیکھنے اور سکھانے کا عمل جاری رہتا ہے۔ یہاں جو سبق حاصل کیا جاتا ہے، وہ سال بھر کی عملی زندگی میں دہرایا اور پھیلایا جاتا ہے۔ یہی تسلسل اس تحریک کی جان ہے۔ آپ مرد ہوں یا عورت، بیٹے ہوں یا بیٹیاں، بھائی ہوں یا بہنیں، آپ سب اس عظیم مشن میں شریک اور تجدیدِ دین کے کام کے حقیقی حصہ دار ہیں۔ اللہ رب العزت نے ہر صدی میں دین کی تجدید کرنے والوں کے لیے جو اجر مقرر فرمایا ہے، اُس اجر میں آپ میں سے ہر ایک کا حصہ لکھا جا چکا ہے۔
اعتکاف گاہ؛ دعوت و تربیت کا مرکز و محور:
شیخ الاسلام نے مزید کہا کہ: آپ کے اعتکاف کی ایک نمایاں اور منفرد خصوصیت یہ ہے کہ اعتکاف تو لوگ اپنے محلّوں کی مساجد میں بھی کر لیتے ہیں، جہاں ہر شخص اپنی سمجھ اور ذوق کے مطابق ذکر و عبادت میں مشغول رہتا ہے؛ لیکن وہاں اکثر اللہ کا ذکر سکھانے والا کوئی نہیں ہوتا۔ اس اعتکاف کی انفرادیت یہ ہے کہ آپ یہاں صرف اللہ اللہ کرنے نہیں آتے، بلکہ اللہ اللہ کرنا سیکھنے آتے ہیں، اور پھر سیکھ کر دوسروں کو سکھانے کے لیے جاتے ہیں۔
یہاں آپ کی ہمہ جہت تربیت کی جاتی ہے۔ آپ کے اخلاق کو سنوارا جاتا ہے، آپ کو دین سکھایا جاتا ہے، اور سب سے بڑھ کر دین کو اپنی عملی زندگی میں نافذ کرنا سکھایا جاتا ہے۔ آپ اپنے اندر ایمان کی شمع روشن کرتے ہیں، دین کا نور اپنے دل میں اُتارتے ہیں، اور پھر اسی نور کو لے کر دنیا کی تاریکیوں کا مقابلہ کرنے نکلتے ہیں۔
اس اعتکاف میں آپ اپنے دین کو اپنے اندر مضبوط کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ کے ساتھ اپنے تعلق کو مستحکم بناتے ہیں۔ پھر جو لوگ اس تعلق سے محروم یا کمزور ہو چکے ہیں، اُن کے ٹوٹے ہوئے رشتے جوڑنے کی کوشش کرتے ہیں، اُن کی اصلاح اور رہنمائی کے لیے محنت کرتے ہیں۔ اس طرح یہ اعتکاف محض چند دنوں کی عبادت نہیں، بلکہ ایک ہمہ گیر تربیتی نظام ہے، جس کے وسیع پہلو اور گہری جہات ہیں۔ یہ اعتکاف گاہ درحقیقت اس تحریک کا مرکز اور محور ہے۔ دعوت و تربیت کے جس مشن کو آپ نے اپنایا ہے، اس کی روح اور بنیاد یہی اعتکاف ہے۔ یہاں آپ خود کو تازہ کرتے ہیں، اپنے ایمان کو زندہ کرتے ہیں، اپنی روحانی تجدید کرتے ہیں، اور پھر اسی تجدید کے پیغام کو لے کر معاشرے کی اصلاح کے لیے آگے بڑھتے ہیں۔
میری دعا ہے کہ آپ ہمیشہ استقامت کے ساتھ اس راستے پر قائم رہیں۔ زمانے بدلتے رہیں، حالات کروٹیں لیتے رہیں، مگر اللہ رب العزت آپ کے احوال کو ہمیشہ بہتری کی طرف لے جائے، آپ کو تنزّل اور زوال سے محفوظ رکھے، اور آپ کو دین کی خدمت میں ثابت قدمی عطا فرمائے۔
بلاگر: ڈاکٹر محمد اقبال چشتی (ریسرچ اسکالر)


















تبصرہ