خشیتِ الٰہی وہ نورانی راستہ ہے جس کے ذریعے بندہ اپنے رب کی قُربت حاصل کرتا ہے:شیخ حماد مصطفی المدنی القادری
توبہ کے آنسو سخت دل کو نرم کرتے ہیں: خطاب
توبہ اور خشیتِ الٰہی وہ روحانی کیفیتیں ہیں جو انسان کے دل کو غفلت کی سختی سے نکال کر نرمی اور نور کی طرف لے آتی ہیں۔ جب بندہ اپنے گناہوں پر نادم ہو کر اللہ تعالیٰ کے حضور آنسو بہاتا ہے تو یہی آنسو دل کی سختی کو پگھلا دیتے ہیں اور اس میں خشوع و انکسار پیدا کر دیتے ہیں۔ درحقیقت خشیتِ الٰہی وہ نورانی راستہ ہے جس کے ذریعے انسان اپنے رب کی قربت اور رضا کی منزل تک پہنچتا ہے۔ توبہ کے یہ آنسو محض جذبات کا اظہار نہیں بلکہ دل کی سچی بیداری اور اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کا سبب بنتے ہیں۔ جب یہ آنسو دل کی بنجر زمین پر گرتے ہیں تو اس میں محبتِ الٰہی، عاجزی اور اطاعت کے پھول کھلنے لگتے ہیں، اور یوں بندہ آہستہ آہستہ اللہ تعالیٰ کی قربت اور رحمت کے سایہ میں داخل ہو جاتا ہے۔
خشیتِ الٰہی میں بہنے والے آنسوؤں کی قدر و منزلت:
شیخ حماد مصطفی المدنی القادری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ: جو لوگ رات بھر اللہ ربّ العزت کی یاد میں آنسو بہاتے ہیں، اُس کے دیدار کے آرزو مند اور اُس کی محبت کے طلبگار ہوتے ہیں، اُن کی کیفیت نہایت روحانی اور قابلِ رشک ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی محبت میں بہنے والا ہر آنسو بے حد قیمتی ہوتا ہے، کیونکہ یہ بندے کے دل کی سچائی اور اُس کی اپنے رب کے ساتھ گہری وابستگی کی علامت ہوتا ہے۔ بارگاہِ الٰہی میں ایسے آنسوؤں کی بڑی قدر و منزلت ہے۔ قرآنِ مجید ہمیں یہ بھی بتاتا ہے کہ بعض دل گناہوں، نافرمانیوں اور مسلسل لغزشوں کی وجہ سے سخت ہو جاتے ہیں۔ ایسے دل آہستہ آہستہ پتھر کی طرح سخت اور بے حس بن جاتے ہیں، یہاں تک کہ انسان کی روحانی کیفیت کمزور پڑ جاتی ہے۔ اس کے برعکس وہ دل خوش نصیب ہیں جو اللہ کے خوف اور محبت کے باعث نرم رہتے ہیں اور اُس کی یاد میں آنسو بہاتے ہیں۔ سورۃ البقرۃ میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
﴿ثُمَّ قَسَتْ قُلُوبُكُمْ مِنْ بَعْدِ ذَلِكَ فَهِيَ كَالْحِجَارَةِ أَوْ أَشَدُّ قَسْوَةً وَإِنَّ مِنَ الْحِجَارَةِ لَمَا يَتَفَجَّرُ مِنْهُ الْأَنْهَارُ وَإِنَّ مِنْهَا لَمَا يَشَّقَّقُ فَيَخْرُجُ مِنْهُ الْمَاءُ وَإِنَّ مِنْهَا لَمَا يَهْبِطُ مِنْ خَشْيَةِ اللَّهِ وَمَا اللَّهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ﴾
’’پھر اس کے بعد (بھی) تمہارے دل سخت ہوگئے چنانچہ وہ (سختی میں) پتھروں جیسے (ہوگئے) ہیں یا ان سے بھی زیادہ سخت (ہو چکے ہیں، اس لیے کہ) بے شک پتھروں میں (تو) بعض ایسے بھی ہیں جن سے نہریں پھوٹ نکلتی ہیں، اور یقینًا ان میں سے بعض وہ (پتھر) بھی ہیں جو پھٹ جاتے ہیں تو ان سے پانی ابل پڑتا ہے، اور بے شک ان میں سے بعض ایسے بھی ہیں جو اللہ کے خوف سے گر پڑتے ہیں، (افسوس! تمہارے دلوں میں اس قدر نرمی، خستگی اور شکستگی بھی نہیں رہی،) اور اللہ تمہارے کاموں سے بے خبر نہیں‘‘ [البقرة : 74]
خشیتِ الہی سے دل کی بنجر زمین کی آبادی:
شیخ حماد مصطفیٰ المدنی القادری نے مزید کہا کہ: بعض دل ایسے ہوتے ہیں جو گناہوں، لغزشوں اور نافرمانیوں کی وجہ سے سخت ہو کر پتھر کی مانند بن جاتے ہیں۔ مگر جب بندہ اللہ تعالیٰ کے حضور گریہ و زاری کرتا ہے اور اس کی آنکھوں سے آنسو بہتے ہیں تو اللہ ربّ العزت اُن آنسوؤں کو کبھی ضائع نہیں ہونے دیتا۔ جب یہ آنسو دل کی وادی اور اس کی بنجر زمین پر گرتے ہیں تو وہی دل جو پہلے سخت اور بے حس تھا، آہستہ آہستہ نرم ہونے لگتا ہے اور اس میں زندگی اور تازگی پیدا ہو جاتی ہے۔ جس طرح مسلسل پانی کے قطرے پتھر پر گرتے رہیں تو آخرکار پتھر بھی نرم پڑ جاتا ہے، اسی طرح اللہ کے خوف اور محبت میں بہنے والے آنسو دلوں کو نرم اور زندہ کر دیتے ہیں۔
قرآنِ مجید میں بھی اس حقیقت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ بعض پتھر ایسے ہوتے ہیں جن سے اللہ تعالیٰ نہریں جاری کر دیتا ہے اور بعض سے چشمے پھوٹ پڑتے ہیں۔ اسی طرح جب آنسوؤں کے قطرے دل کی زمین پر گرتے رہتے ہیں تو سخت دل بھی نرم ہو جاتے ہیں۔ پھر ایک وقت ایسا آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان دلوں پر اپنی نگاہِ کرم فرماتا ہے۔ جب اللہ کی رحمت کی نظر کسی دل پر پڑتی ہے تو اُس دل سے محبت، معرفت اور شوقِ الٰہی کے چشمے پھوٹ پڑتے ہیں۔ انہی چشموں کے ذریعے بندے کو اللہ کی قربت، اُس کی معرفت اور اُس سے ملاقات کی آرزو نصیب ہوتی ہے۔ یہی روحانی کیفیت انسان کو اہلِ اللہ کی صحبت اور نیک لوگوں کی سنگت تک بھی پہنچا دیتی ہے۔
آخر میں شیخ حماد مصطفی المدنی القادری نے کہا کہ: اللہ کے حضور آہ و زاری کرنا اور اُس کے خوف سے آنسو بہانا دراصل ایک ایسا راستہ ہے جس کے ذریعے بندہ اللہ تعالیٰ کی قربت حاصل کرتا ہے۔ یہ کیفیت انسان کے دل میں اللہ سے مضبوط تعلق پیدا کرنے کا ایک اہم ذریعہ اور زاویہ ہے۔ آئیے، اس روحانی وادی میں کچھ دیر ٹھہر کر غور کرتے ہیں اور اس سمندرِ معرفت میں ڈوب کر اس کی حقیقت کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
بلاگر: ڈاکٹر محمد اِقبال چشتی (سینئر ریسرچ اسکالر)


















تبصرہ