جدید عمرانی تحقیقات کے مطابق مضبوط خاندانی اور سماجی تعلقات انسان کی ذہنی اور نفسیاتی صحت کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں: شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری
مثبت رویہ، ہمدردی اور خیرخواہی انسان کی شخصیت کو متوازن بناتے ہیں اور یہی اوصاف اُسے معاشرے میں عزت اور وقار عطا کرتے ہیں: شیخ الاسلام کا خطاب
انسانی شخصیت کی تعمیر میں خاندانی اور سماجی تعلقات بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ جدید عمرانیات اور نفسیات کی تحقیقات اس حقیقت کی تصدیق کرتی ہیں کہ صلہ رحمی اور مضبوط سماجی روابط انسان کی ذہنی و نفسیاتی صحت کو بہتر بنانے کا مؤثر ذریعہ ہیں۔ جو افراد اپنے خاندان اور معاشرے کے ساتھ محبت، ہمدردی اور خیر خواہی کا رویہ اختیار کرتے ہیں، اُن کے اندر سکونِ قلب، اعتماد اور توازنِ شخصیت نمایاں طور پر بڑھ جاتا ہے۔ اس کے برعکس کشیدہ تعلقات اور رنجشیں انسان کے ذہن پر بوجھ ڈال کر اسے اضطراب اور بے سکونی کی طرف لے جاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مثبت رویہ، درگزر اور خیر خواہی نہ صرف دلوں کو جوڑتے ہیں بلکہ انسان کی شخصیت کو وقار، اعتدال اور معاشرتی احترام سے بھی آراستہ کر دیتے ہیں۔
سماجی ہم آہنگی اور ذہنی سکون:
مجدّد المئۃ الحاضرۃ حضور شیخ الاسلام دامت برکاتہم العالیۃنے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ: جدید عمرانیات (Sociology) کی تحقیقات یہ حقیقت واضح کرتی ہیں کہ مضبوط خاندانی اور سماجی تعلقات انسانی زندگی پر نہایت مثبت اثرات مرتب کرتے ہیں۔ مغربی دنیا کی متعدد جامعات میں ہونے والی سماجی تحقیقات سے معلوم ہوتا ہے کہ جو افراد اپنے خاندان اور معاشرے کے ساتھ خوشگوار اور مضبوط تعلقات قائم رکھتے ہیں، بالعموم اُن کی ذہنی اور نفسیاتی صحت بہتر رہتی ہے۔ اگرچہ یہ اصول سو فیصد ہر فرد پر لاگو نہیں ہوتا، لیکن اکثریت کے تجربات اور مشاہدات یہی بتاتے ہیں کہ ایسے لوگ زیادہ پُر سکون، متوازن اور مطمئن زندگی گزارتے ہیں۔ اُن کے اندر پریشانی اور ذہنی دباؤ کے غلبہ کے امکانات کم ہوتے ہیں، چنانچہ وہ نسبتًا زیادہ مطمئن، پُر اَمن اور پُر اعتماد رہتے ہیں۔
اس کے برعکس جب انسان اپنے خاندانی اور سماجی تعلقات میں مسلسل کشیدگی، شکوہ شکایت اور بدگمانی کا شکار رہتا ہے تو اس کے مزاج میں چڑچڑا پن، منفی سوچ اور اضطراب پیدا ہونے لگتا ہے۔ ہر وقت دوسروں کی خامیوں پر گفتگو اور اُن کے بارے میں بدگمانی کرنے سے انسان کے اندر غصہ اور مایوسی بڑھتی جاتی ہے، جس کے نتیجے میں اس کی خود اعتمادی بھی متاثر ہوتی ہے۔ یہی منفی سوچ رفتہ رفتہ انسان کو اضطراب (Anxiety) اور افسردگی (Depression) کی طرف لے جاتی ہے۔ جب تعلقات میں کشیدگی حد سے بڑھ جاتی ہے تو ایک وقت ایسا آتا ہے کہ انسان خود کو معاشرے سے کٹا ہوا اور تنہائی کے احساس میں مبتلا محسوس کرنے لگتا ہے، اور یوں سماجی isolation اس کی شخصیت اور ذہنی سکون دونوں کو متاثر کرتی ہے۔
مثبت رویوں سے شخصیت میں توازن اور وقار:
شیخ الاسلام نے مزید کہا کہ: یہ بات ہمیشہ یاد رکھنی چاہیے کہ مسلسل خاندانی کشیدگی اور تعلقات میں تناؤ بالآخر انسان کو تنہائی کی تاریکیوں میں دھکیل دیتا ہے۔ جب رشتوں میں بدگمانی، شکایت اور ناراضی بڑھتی جاتی ہے تو انسان کا ذہن شدید دباؤ اور اضطراب کا شکار ہو جاتا ہے۔ ایسی کیفیت میں دل سے محبت کی روشنی مدھم پڑنے لگتی ہے، تعلقات کمزور ہو جاتے ہیں اور انسان کے اندر معاف کرنے کا جذبہ بھی ماند پڑ جاتا ہے۔ جب کوئی شخص دوسروں کی غلطیوں کو نظر انداز کرنے، اُنہیں معاف کرنے اور اُن کے لیے خیر خواہی کا جذبہ رکھنے سے محروم ہو جاتا ہے تو دراصل وہ دوسروں کو نہیں بلکہ خود اپنی داخلی سکون اور خود اعتمادی کو نقصان پہنچا رہا ہوتا ہے۔
جدید سماجی اور عمرانی تحقیقات بھی اس حقیقت کی تصدیق کرتی ہیں کہ جو لوگ دوسروں کے لیے آسانی پیدا کرتے ہیں، اُن کے ساتھ ہمدردی کرتے ہیں اور اُن کی بھلائی کے بارے میں سوچتے ہیں، اُن کے اپنے دل کا بوجھ ہلکا ہونے لگتا ہے۔ جب انسان اپنی ذات سے بالاتر ہو کر دوسروں کے لیے خیر اور محبت کا رویہ اختیار کرتا ہے تو اس کے اندر کی بے چینی کم ہو جاتی ہے اور دل میں سکون پیدا ہونے لگتا ہے۔ البتہ یہ تبدیلی فوری طور پر ظاہر نہیں ہوتی بلکہ یہ ایک تدریجی عمل ہوتا ہے۔ اگر انسان طویل عرصے تک صبر، درگزر اور خیر خواہی کا رویہ اپنائے رکھے تو آہستہ آہستہ اس کے ذہنی دباؤ میں کمی آتی ہے اور اس کی شخصیت میں توازن اور اعتدال پیدا ہونے لگتا ہے۔
ایسا انسان نہ صرف خود ذہنی اور نفسیاتی طور پر متوازن ہو جاتا ہے بلکہ اس کا رویہ بھی دوسروں کے ساتھ خوشگوار اور مہذب ہو جاتا ہے۔ جب انسان کا اخلاق اور طرزِ عمل بہتر ہو جاتا ہے تو اس کی زندگی باوقار بن جاتی ہے اور معاشرے میں لوگ اس کی عزت اور قدر کرنے لگتے ہیں۔
بلاگر: ڈاکٹر محمد اقبال چشتی (سینئر ریسرچ اسکالر)


















تبصرہ