معرفتِ توحید وہ مقام ہے جو مؤمنین کو نصیب ہوتا ہے اور جس کے ذریعے بندہ اپنے رب کی وحدانیت کو پہچانتا ہے: شیخ حماد مصطفی المدنی القادری

مورخہ: 16 مارچ 2026ء

اولیاء اللہ کا مقام یہ ہے کہ وہ اپنے دل کی آنکھوں سے اپنے رب کا مشاہدہ کرتے ہیں: خطاب

معرفتِ الٰہی دراصل وہ روحانی سفر ہے جو بندے کو ایمان کی ابتدائی روشنی سے اٹھا کر قربِ الٰہی کی بلند منزلوں تک لے جاتا ہے۔ اس سفر کا پہلا درجہ معرفتِ توحید ہے، جو مؤمنین کو نصیب ہوتا ہے اور جس کے ذریعے بندہ اپنے رب کی وحدانیت کو پہچان کر اپنے ایمان کو مضبوط بنیاد فراہم کرتا ہے۔ مگر اہلِ اللہ کی زندگی اس ابتدائی معرفت سے آگے بڑھ کر ایک اعلیٰ روحانی مقام تک پہنچتی ہے، جہاں دل پر معرفت کے اسرار منکشف ہونے لگتے ہیں۔ یہی وہ بلند مرتبہ ہے جہاں اولیاء اللہ اپنے دل کی آنکھوں سے اپنے رب کا مشاہدہ کرتے ہیں اور ہر لمحہ اس کی حضوری کی کیفیت میں زندگی بسر کرتے ہیں۔

معرفت کے تین درجات اور اہل اللہ کا مقام:

شیخ حماد مصطفی المدنی القادری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ: حضرت ذو النون مصری رضی اللہ عنہ معرفتِ الٰہی کے درجات کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ معرفت کے تین بنیادی مراتب ہیں۔

أولھا: معرفۃ التوحیدِ وھی لعامۃ المؤمنین

’’پہلا درجہ معرفتِ توحید کا ہے، اور یہ عام مؤمنین کی معرفت ہے۔‘‘ یعنی وہ معرفت جس کے ذریعے بندہ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو پہچانتا ہے، اس کی ربوبیت کا اقرار کرتا ہے اور اپنے ایمان کی بنیاد مضبوط کرتا ہے۔(أبو سعد النیسابوری، تہذیب الأسرار، ص 48)

والثانی: معرفۃ الحُجَّۃِ والبیانِ وھی للعلماء والحکماء والبلغاء

’’دوسرا درجہ حجّت/دلیل اور بیان کی معرفت کا ہے، جو علماء، حکماء اور اہلِ بلاغت کا مقام ہے۔‘‘ اس مرتبے پر پہنچنے والے لوگ دلائل، حکمت اور بصیرت کے ذریعے حق کو واضح کرتے ہیں اور علم و فہم کی روشنی میں توحید کے اَسرار کو بیان کرتے ہیں۔

والثالث: معرفۃ صفات الواحدانیۃِ وھی لأھل ولایۃِ اللہ

’’تیسرا درجہ صفاتِ واحدانیت کی معرفت کا ہے، اور یہ اولیاءِ اللہ کا مقام ہے۔‘‘ (أبو سعد النیسابوری، تہذیب الأسرار، ص 48)

یہ وہ بلند مرتبہ ہے جہاں بندہ اللہ تعالیٰ کی صفات کے جلووں کو اپنے باطن میں محسوس کرتا ہے اور اس کے قرب کی خاص کیفیت سے بہرہ مند ہوتا ہے۔

آخر میں شیخ حماد مصطفیٰ المدنی القادری نے کہا کہ: یعنی وہ اولیاء جو اپنے دلوں کی آنکھ سے اپنے رب کا دیدار کرتے ہیں اور ہر وقت اس کے حضور اور مشاہدے کی کیفیت میں رہتے ہیں۔ یہی عرفان و معرفت کا نہایت بلند اور اَرفع مقام ہے۔ درحقیقت انسان کی روحانی جدوجہد کا مقصد بھی اسی اعلیٰ درجۂ معرفت کو پانا ہے، اور بندے کو چاہیے کہ وہ اپنی ساری تگ و دو اور کوشش اسی منزل کے حصول کے لیے صرف کرے۔

بلاگر: ڈاکٹر محمد اِقبال چشتی (سینئر ریسرچ اسکالر)

تبصرہ

ویڈیو

Ijazat Chains of Authority
Top