صدر منہاج القرآن انٹرنیشنل، پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری کا ایوانِ اقبال لاہور میں منعقدہ خواجہ غلام قطب الدین فریدیؒ کی یاد میں تعزیتی ریفرنس میں خصوصی خطاب
تصوف وہ ہمہ گیر نظامِ حیات ہے جو عشقِ الٰہی، اصلاحِ باطن، خدمتِ انسانیت اور اخلاقِ حسنہ کے ذریعے انسان کو معرفتِ حق تک پہنچاتا ہے: پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری

وَ مَا الۡحَیٰوۃُ الدُّنۡیَاۤ اِلَّا لَعِبٌ وَّ لَہۡوٌ ؕ وَ لَلدَّارُ الۡاٰخِرَۃُ خَیۡرٌ لِّلَّذِیۡنَ یَتَّقُوۡنَ ؕ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ.
(الْأَنْعَام، 6 : 32)
اور دنیوی زندگی (کی عیش و عشرت) کھیل اور تماشے کے سوا کچھ نہیں، اور یقیناً آخرت کا گھر ہی ان لوگوں کے لئے بہتر ہے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں، کیا تم (یہ حقیقت) نہیں سمجھتےo
تصوف کسی محدود نظریہ یا محض ایک مکتبہ فکر کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ ایک ہمہ گیر طرزِ حیات ہے جو ہر دور میں مختلف رنگوں کے ساتھ جلوہ گر رہا ہے۔ کبھی یہ فکر اور روحانی تربیت کے ذریعے ظاہر ہوتا ہے، تو کبھی صوفیانہ کلام اور شاعری کے ذریعے دلوں کو گرماتا ہے۔ یہ انسانیت کو اطمینان اور سکون بخشتا ہے اور جب یہ طریقت کے نظام کا ذریعہ بنتا ہے تو معاشرے کے رویوں کو بدلنے کا سبب بھی بنتا ہے۔
کبھی یہ انسان کے اندر الجھی ہوئی سوچ کی گتھیوں کو سلجھاتا ہے، تو کبھی مساوات اور خدمتِ خلق کے عملی مظاہر میں جلوہ گر ہوتا ہے۔ کبھی یہ تعلیمی اداروں اور دینی مدارس کے ذریعے علم و روحانیت کا حسین انتظام بن کر افق پر روشن ہوتا ہے، اور کبھی مراقبے اور مشاہدے کے ذریعے انسان کو اپنے باطن سے آشنا کرتا ہے۔
تصوف محفلِ سماع میں نغمات و سرور کی صورت میں دلوں کو الجھنوں سے نجات دلاتا ہے، اور نظر و نیاز کی صورت میں اخلاص اور ایثار کا درس دیتا ہے۔ یہ عقل و دل کے درمیان توازن پیدا کرتا ہے، اور معرفت و حقیقت کی منازل میں انسان کو اپنے رب سے شناسائی عطا کرتا ہے۔ آج کے پریشان حال انسان کے لیے یہ ایک سہارا ہے اور ہر سمت پھیلے انتشار میں دل کا سکون بنتا ہے۔
یہ تصوف کے رنگ ہیں، جو ہر دور میں اپنی جھلک دکھاتے ہیں، لیکن ان کے علاوہ کچھ
مخصوص رنگ بھی ہیں، جو اپنے ماننے والوں کو عطا کرتا ہے:
جیسا کہ عشق و محبت کا رنگ، اپنائیت کا رنگ، اخلاص کا رنگ، فقر و استغنا کا رنگ،
صبر و رضا کا رنگ، توکلِ علی اللہ کا رنگ، اور مسلسل تحقیق و جستجو کا رنگ۔
تصوف انسان کو اس مقام تک لے جاتا ہے جہاں وہ کائنات کی وسعتوں میں کھو جاتا ہے اور اس کی زبان سے ایک ہی نعرہ بلند ہوتا ہے: "میں کچھ نہیں ہوں"۔ یہ نعرہ گونجتا رہتا ہے، یہاں تک کہ انسان اپنی ذات سے فنا ہو کر اپنے مالکِ حقیقی کی ذات میں باقی رہنا سیکھ جاتا ہے۔
یہی تصوف کی تعلیمات ہیں۔ اگر ہم سلسلہ چشت کے صوفیوں کی زبان سے سمجھیں، تو حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی رضی اللہ عنہ اور حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رضی اللہ عنہ کے اقوال میں اس کا خوبصورت انداز نظر آتا ہے۔
حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ولی اللہ اور علماء دین دنیا کی دولت اور مال کو پسند نہیں کرتے، کیونکہ عالم ہمیشہ قبر کی ہولناک حقیقت کو پیش نظر رکھتا ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ ایک کبیرہ گناہ یہ ہے کہ کوئی مسلمان اپنے بھائی کو بلا وجہ اذیت دے۔
حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رضی اللہ عنہ تصوف کی وادیوں میں خیرات اور سلوک کے اعلی درجات کی تعلیم دیتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ جب لوگ اللہ کے نام یا قرآن کی تلاوت سنیں، تو ان کے دل کی کیفیت بدل جانی چاہیے اور اگر تبدیلی نہ آئے تو یہ بڑی محرومی ہے۔
اسی سلسلے میں اللہ کے احکام پر عمل، توکل، یتیم و مسکین کی مدد، بھوکوں کو
کھانا کھلانا، حاجات پوری کرنا، اور لوگوں کی کمزور حالتوں میں سہارا بننا اعلیٰ
عبادت ہے۔ یہی صوفیوں کا عملی طریقہ رہا ہے۔
یہ وہ روحانی، اخلاقی اور عملی تعلیمات ہیں جو صوفیہ کے طرزِ عمل کا محور رہی ہیں
اور آج بھی ہمارے لیے رہنمائی کا سرچشمہ ہیں۔ حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء محبوبِ
الہیٰ رضی اللہ عنہ نے اس نظام کو ہند میں قائم کیا، جہاں خانقاہیں بنیں اور لاکھوں
لوگوں تک خدمت پہنچی۔ صوفیہ ہمیشہ محبتیں بانٹنے والے اور انسانیت کے رہنما رہے
ہیں۔
صوفیا لوگوں کو سینے سے لگانے والے ہوتے ہیں، نفرتوں کے سوداگر نہیں بلکہ دکھ درد بانٹنے والے ہوتے ہیں۔ یہی خصوصیات اہلِ طریقت کو ممتاز کرتی ہیں۔ اگر کسی میں ہر خوبی ہو مگر وہ دوسروں کے درد بانٹنے میں شامل نہ ہو، تو یہی اصل کمی ہے۔ یہی تصوف کی بنیاد اور اصولِ طریقت ہیں۔
حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ اصل عارف وہ ہے جو خاموش رہے اور آخرت کی فکر میں رہے۔ ایک مرتبہ پوچھا گیا کہ آپ کو سب سے پیاری چیز کیا ہے؟ تو آپ نے فرمایا:
پہلی: صاحبِ علم اپنے مشاہدے سے بات کرے۔
دوسری: وہ شخص جو طمع سے پاک ہو۔
تیسری: وہ عارف جس کی زبان اپنے محبوب کی تعریف میں مشغول رہے۔
حاضرینِ گرامی! یہ اقوال اس لیے بیان کیے گئے تاکہ آپ سمجھ سکیں کہ تصوف رسم و
رواج نہیں بلکہ اپنے اخلاق کو سنوارنے کا نام ہے۔ یہ رنگ صحبت، عادات اور عملی
زندگی سے حاصل ہوتا ہے۔
صوفیا نے اپنی زندگی کو اس قدر خوبصورت بنایا کہ ان کے اندر اور باہر یکساں صفائی
اور روشنی ہوتی۔ ان کی زندگی سے ریاکاری، حسد اور بغض ختم ہو جاتا۔ وہ سب کے لیے
محبت، شفقت اور فائدہ کا ذریعہ ہوتے ہیں۔
جب ہم حضرت خواجہ غلام قطب الدین فریدی رحمۃ اللہ علیہ کا ذکر کرتے ہیں تو انہیں ان تمام اوصاف سے مزین پاتے ہیں۔ گڑھی شریف کے یہ روحانی چراغ محبت و خدمت کا زندہ مجسمہ تھے۔ انہوں نے اپنی زندگی صوفیانہ تعلیمات کے فروغ میں صرف کی۔
ان کی خانقاہ سادگی، محبت اور انسان دوستی کا نمونہ تھی۔ وہ حضرت خواجہ غلام فرید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے فکر کو عملی انداز میں پیش کرتے تھے۔
ان کی زندگی محبت، رواداری اور انسانیت کے احترام سے لبریز تھی۔ وہ نیشنل مشائخ کونسل کے سربراہ تھے اور مختلف طبقات میں ہم آہنگی کے لیے کوشاں رہتے۔ ان کا آستانہ ہر آنے والے کے لیے امن و سکون کی جگہ تھا۔
آپ کے کئی تعارف ہیں، مگر آپ کا حقیقی تعارف عشقِ رسالت اور تصوف کی حرارت ہے۔
تحریکِ منہاج القرآن کے لیے آپ کا ایک خاص تعارف بھی ہے، جو شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری مدظلہ العالی نے بیان فرمایا کہ آپ ان کے قریبی دوست، مخلص اور محبت کرنے والے تھے اور طویل عرصہ رفاقت رہی۔ آپ ایک ممتاز شاعر اور باوقار روحانی شخصیت تھے۔
آپ کی گفتگو سنجیدہ، علمی اور دلکش ہوتی تھی اور آپ کا اندازِ محبت احباب پر خوشگوار اثر ڈالتا تھا۔ مشائخ اور علماء میں آپ کا مقام نمایاں تھا اور تحریک کے ساتھ آپ کا تعلق 40 سال تک قائم رہا۔
یہی پہچان آج بھی دلوں میں زندہ ہے، اور یہ تعلق آپ کے خاندان کے ساتھ بھی قائم ہے۔
حاضرینِ گرامی! آپ کا اس دنیا سے رخصت ہو جانا یقیناً اہلِ تصوف، اُن کے متوسلین
اور خاندان کے لیے عظیم سانحہ ہے۔ آپ سلسلہ چشتیہ کے روشن چراغ تھے۔ میں اُمید کرتا
ہوں کہ ان کے آستانہ اور ان کے صاحبزادے خواجہ غلام نصیر الدین چراغ کی کوششوں سے
یہ روشنی ان شاء اللہ جاری رہے گی۔
میں اس موقع پر اُن کے فرزند سے اظہارِ تعزیت بھی کرتا ہوں اور دعا گو بھی ہوں کہ
اللہ تعالیٰ آپ کو اپنے والد کا صحیح جانشین بنائے اور اس سلسلے کو جاری رکھے۔
آخر میں حضرت امام مالک رضی اللہ عنہ کے وصال کا واقعہ سبق آموز ہے۔ آپ نے فرمایا: اللہ کا شکر ہے جس نے ہمیں کبھی ہنسایا اور کبھی رلایا، ہم ہمیشہ اس کی رضا پر رہے اور پھر لبیک کہہ کر دنیا سے رخصت ہوئے۔
یوں حضرت خواجہ غلام قطب الدین فریدی رحمت اللہ علیہ کی زندگی بھی رضا اور اخلاص کا نمونہ ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے اور ان کی کاوشوں کو شرفِ قبولیت سے نوازئے۔ آمین
























تبصرہ