دعوت وتبلیغ کا اَصل حُسن سخت الفاظ میں نہیں بلکہ نرم لہجے اور حکیمانہ انداز میں پوشیدہ ہوتا ہے: پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری
قرآن ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ جب کام اجتماعی ہو تو اُس کی پہچان اور اُس کا اعزاز بھی اجتماعی ہی ہونا چاہیے: صدر منہاج القرآن
دعوت و تبلیغ کا میدان دراصل اَخلاق، حکمت اور حُسنِ کلام کا میدان ہے۔ دین کی دعوت محض الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک ایسا مؤثر اسلوب ہے جو دلوں تک راستہ بناتا ہے۔ اس لیے دعوت و تبلیغ کا اصل حُسن سختی، تلخی اور درشت الفاظ میں نہیں بلکہ نرم لہجے، حکیمانہ انداز اور دل نشین گفتگو میں پوشیدہ ہوتا ہے۔ قرآنِ مجید ہمیں یہ عظیم سبق بھی دیتا ہے کہ جب کوئی کام اجتماعی صورت اختیار کر لے تو اس کی پہچان اور اس کا اعزاز بھی اجتماعی ہونا چاہیے، کیونکہ دعوتِ دین دراصل باہمی تعاون، اخلاص اور ٹیم ورک کے ساتھ آگے بڑھنے والا مشن ہے۔ یہی وہ قرآنی حکمت ہے جو دعوت کو مؤثر، دل نشین اور انسانوں کے لیے باعثِ ہدایت بنا دیتی ہے۔
دعوت و تبلیغ کا قرآنی مزاج اور اسلوب:
پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ: دعوتی اسلوب کے مطابق ایک نہایت اہم نکتہ یہ ہے کہ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت ہارون علیہ السلام اکٹھے ہو گئے تو اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کو ایک عظیم ذمہ داری سونپی۔ ابتدا میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کو تنہا مخاطب کرتے ہوئے فرمایا:
﴿اذْهَبْ إِلَى فِرْعَوْنَ إِنَّهُ طَغَى﴾
’’تم فرعون کے پاس جاؤ وہ (نافرمانی و سرکشی میں) حد سے بڑھ گیا ہے‘‘ [طه : 24]
لیکن جب حضرت ہارون علیہ السلام بھی اس دعوتی مشن میں شریک ہو گئے اور ایک جماعت کی صورت بن گئی تو خطاب کا انداز بھی بدل گیا اور ارشاد ہوا:
﴿اذْهَبَا إِلَى فِرْعَوْنَ إِنَّهُ طَغَى﴾
’’تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ بے شک وہ سرکشی میں حد سے گزر چکا ہے‘‘ [طه : 43]
یعنی فرعون اس قدر سرکش اور متکبر ہو چکا تھا کہ اس نے خدائی کا دعویٰ تک کر دیا تھا، اور ظاہری طاقت و اقتدار کے نشے میں خود کو سب سے برتر سمجھنے لگا تھا۔ ایسے سخت مزاج اور طاقتور حکمران کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبروں کو یہ تعلیم دے رہا ہے کہ دعوتِ دین کس حکمت، بصیرت اور اخلاقی مہارت کے ساتھ دی جانی چاہیے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہم اکثر یہ غلطی کر بیٹھتے ہیں کہ ہر شخص کو ایک ہی انداز میں دعوت دیتے ہیں، حالانکہ ہر انسان کی نفسیات اور مزاج مختلف ہوتا ہے۔ جب ایک ہی طرزِ گفتگو سب پر لاگو کیا جاتا ہے تو بسا اوقات مخاطَب قبولیت کے بجائے چِڑ اور بیزاری محسوس کرنے لگتا ہے۔
قرآنِ مجید ہمیں دعوت کے اسلوب کا ایک نہایت خوبصورت اصول سکھاتا ہے۔ ابتدا میں جب سیدنا موسیٰ علیہ السلام اکیلے تھے تو اللہ تعالیٰ نے انہیں تنہا مخاطب کرتے ہوئے فرمایا:
﴿اذْهَبْ إِلَى فِرْعَوْنَ إِنَّهُ طَغَى﴾
’’تم فرعون کے پاس جاؤ وہ (نافرمانی و سرکشی میں) حد سے بڑھ گیا ہے‘‘ [طه : 24]
جب سیدنا موسی علیہ السلام نے سیدنا ہارون علیہ السلام کو بطورِ ٹیم مانگ لیا اَب دونوں اکٹھے ہو گئے۔ اس کے بعد اَب اگلا قرآن کا خطاب ایک سے نہیں بلکہ دونوں سے ہو رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرما رہا ہے کہ:
﴿اذْهَبَا إِلَى فِرْعَوْنَ إِنَّهُ طَغَى﴾
’’تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ بے شک وہ سرکشی میں حد سے گزر چکا ہے‘‘ [طه : 43]
پھر اللہ تعالیٰ نے ساتھ ہی فرمایا:
﴿فَقُولَا لَهُ قَوْلًا لَيِّنًا لَعَلَّهُ يَتَذَكَّرُ أَوْ يَخْشَى﴾
’’سو تم دونوں اس سے نرم (انداز میں) گفتگو کرنا شاید وہ نصیحت قبول کر لے یا (میرے غضب سے) ڈرنے لگے‘‘ [طه : 44]
گویا قرآن ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ دعوت کا اصل حُسن حکمت، نرمی اور مخاطَب کی نفسیات کو سمجھنے میں ہے۔ سخت ترین انسان کے سامنے بھی دعوت کا دروازہ نرمی، حکمت اور اَخلاقِ حسنہ کے ساتھ ہی کھولا جاتا ہے۔
تبلیغِ دین میں نرم لہجے اور مناسب الفاظ کی اہمیت:
پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے مزید کہا کہ: دعوتِ دین کے حوالے سے قرآنِ مجید ایک نہایت لطیف اور بامعنی اصول بیان کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون علیہما السلام کو فرعون جیسے سرکش اور متکبر حکمران کی طرف بھیجتے ہوئے سب سے پہلے یہ ہدایت دی کہ اس سے گفتگو نرمی کے ساتھ کرنا۔ حالانکہ فرعون ایسا شخص تھا جو خدائی کا دعویٰ کر بیٹھا تھا، مگر اس کے باوجود اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبروں کو سختی اور تلخی سے گفتگو کرنے کا حکم نہیں دیا بلکہ فرمایا کہ اس کے ساتھ نرم لہجے میں بات کرو، شاید تمہاری نرم گفتگو اس کے دل میں اتر جائے اور وہ نصیحت قبول کر لے یا اللہ تعالیٰ سے ڈرنے لگے۔
بدقسمتی سے ہم میں سے بہت سے لوگ دعوت یا اصلاح کے عمل میں اس قرآنی حکمت کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ جب ہم کسی کو سمجھانے یا کسی مسئلے کا حل پیش کرنے کے لیے جاتے ہیں تو کئی بار پہلے ہی اپنے ذہن میں ایک طرح کی مورچہ بندی کر لیتے ہیں، گویا ہم کسی جنگ کے میدان میں جا رہے ہوں۔ اس ذہنی کیفیت کے ساتھ جب کوئی مسئلہ حل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تو مسئلہ سلجھنے کے بجائے مزید اُلجھ جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم پہلے ہی اپنے ذہن میں یہ فیصلہ کر چکے ہوتے ہیں کہ سامنے والا شخص بگڑا ہوا ہے اور اس نے ہرگز درست نہیں ہونا۔ اس طرح کی منفی سوچ کے ساتھ کبھی مثبت نتیجہ پیدا نہیں ہوتا۔
اس کے برعکس اللہ تعالیٰ کا طریقۂ تبلیغ یہ ہے کہ اگر کوئی شخص انتہائی سرکش بھی ہو تو ابتداء نرمی اور حکمت سے کی جائے۔ پہلے اس کے دل تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کی جائے، محبت اور خیرخواہی کے انداز میں اسے سمجھایا جائے اور اس کے دل میں اللہ کا خوف جگایا جائے، تاکہ وہ خوش دلی کے ساتھ خیر اور ہدایت کی طرف مائل ہو جائے۔ اگر اس کے بعد بھی وہ حق کو قبول نہ کرے تو پھر حالات کے مطابق دوسرے مراحل آ سکتے ہیں، لیکن دعوت کا آغاز ہمیشہ نرمی اور حسنِ اخلاق سے ہی ہوتا ہے۔
یہ اصول خصوصًا ان لوگوں کے لیے بڑا سبق ہے جو دعوت و تبلیغ کا کام کرتے ہیں۔ جب ہم کسی کو دین کی طرف بلائیں تو ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ کس طرح کی بات اور کس انداز کی گفتگو اس شخص کے دل پر اثر ڈال سکتی ہے۔ دعوت کا آغاز کبھی جھگڑے، سخت لہجے یا تند و تیز الفاظ سے نہیں ہونا چاہیے۔ بدقسمتی سے بعض اوقات ہم الفاظ کا انتخاب اس قدر سخت کر لیتے ہیں کہ ان کا اثر خیر کے بجائے اُلٹا پڑتا ہے۔ کبھی ہمارا لہجہ اس قدر تیز ہو جاتا ہے کہ الفاظ خنجر کی طرح دل کو زخمی کر دیتے ہیں، اور پھر ہم یہ گمان کرتے ہیں کہ ہم نے تو نرم انداز میں بات کی تھی۔
قرآنِ مجید کی تعلیم یہ ہے کہ اگر نرمی سے بات کرنی ہے تو صرف لہجہ ہی نہیں بلکہ الفاظ کا انتخاب بھی نرم ہونا چاہیے۔ گفتگو میں ایسے الفاظ استعمال کیے جائیں جو سامنے والے کے دل کو زخمی نہ کریں۔ اسی طرح نصیحت کرتے ہوئے چہرے کے تاثرات اور اندازِ گفتگو میں طنز، تمسخر یا تحقیر کا شائبہ بھی نہیں ہونا چاہیے۔ کیونکہ اگر مخاطب کو ایک لمحے کے لیے بھی یہ محسوس ہو جائے کہ بات میں طنز یا غصہ شامل ہے تو اس کا دل فورًا آپ سے دور ہو جاتا ہے اور یوں دعوت کا اثر وہیں ختم ہو جاتا ہے۔
بلاگر: ڈاکٹر محمد اِقبال چشتی (سینئر ریسرچ اسکالر)


















تبصرہ