حضرت فریدِ ملت ڈاکٹر فرید الدین قادریؒ علم، روحانیت اور تربیت کا درخشاں باب: پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری

پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری کا دارالعلوم فریدیہ قادریہ میں حضور فریدِ ملت ڈاکٹر فرید الدین قادریؒ کے 53ویں عرس مبارک کی تقریب سے ’’فریدِ ملت ڈاکٹر فرید الدین قادریؒ: علم، روحانیت اور خدمتِ خلق کا حسین امتزاج‘‘ کے موضوع پر خطاب

Prof Dr Hussain Qadri Special Addresses 53rd Urs of Farid e Millat

حضرت فریدِ ملت ڈاکٹر فرید الدین قادریؒ بیسویں صدی کی اُن نابغۂ روزگار شخصیات میں سے تھے جن کی ذات میں علم و حکمت، تصوف و روحانیت، ادب و شاعری، جدید و قدیم طب، فہم و فراست اور اخلاص و کردار ایک حسین اور متوازن امتزاج کے ساتھ جلوہ گر تھے۔ آپ محض ایک عالم یا معالج نہ تھے بلکہ ایک ایسے مربی، مرشد اور صاحبِ نظر انسان تھے جنہوں نے اپنے عہد میں علم، روحانیت اور کردار سازی کے میدان میں گہرے اور دیرپا اثرات چھوڑے۔

کسی بھی شخصیت کی اصل قدر و منزلت کا اندازہ اس کے علم، فکر، کردار اور اس علمی و روحانی ورثے سے ہوتا ہے جو وہ اپنے بعد چھوڑ جاتی ہے۔ حضرت فریدِ ملت قادریؒ اس اعتبار سے ایک غیر معمولی شخصیت تھے۔ علومِ قرآن، تفسیر، فقہ، تصوف، عربی و فارسی ادب اور طب کے میدان میں ان کی مہارت اس بات کا روشن ثبوت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں غیر معمولی ذہانت، وسعتِ مطالعہ اور فکری جامعیت سے نوازا تھا۔ آپ کی قوتِ حافظہ بھی نہایت حیرت انگیز تھی۔ دورانِ گفتگو قرآنِ مجید کی آیات، احادیثِ مبارکہ اور عربی و فارسی اشعار کو نہایت روانی اور استحضار کے ساتھ بیان کرنا آپ کے علمی رسوخ کا واضح مظہر تھا۔

حضرت فریدِ ملت رحمۃ اللہ علیہ کی تعلیمی زندگی ابتدا ہی سے امتیازی شان کی حامل رہی۔ جامعہ پنجاب سے اعلیٰ ڈگری کا حصول اور عربی زبان میں غیر معمولی مقالہ لکھ کر آپ نے اہلِ علم کو حیران کر دیا، جبکہ لکھنؤ کے مدرسۃ الطب کالج سے طب کی باقاعدہ تعلیم حاصل کر کے آپ نے بطور معالج بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ یوں آپ نے دینی اور عصری علوم کے درمیان ایسا حسین ربط قائم کیا جو اپنے عہد میں بہت کم شخصیات کو نصیب ہوا۔ آپ کی ذات اس حقیقت کی روشن مثال بن گئی کہ دین اور دنیا کا متوازن امتزاج ہی امت کی درست رہنمائی کا ذریعہ بنتا ہے۔

تحریکِ پاکستان کے باب میں بھی آپ نے قابلِ قدر کردار ادا کیا۔ آپ کی خدمات، جذبۂ ایثار اور قومی شعور اس بات کے شاہد ہیں کہ آپ صرف ایک علمی و روحانی شخصیت ہی نہیں بلکہ ملی احساس رکھنے والے باعمل رہنما بھی تھے۔ انہی خدمات کے اعتراف میں آپ کو صدارتی گولڈ میڈل سے بھی نوازا گیا، جو آپ کی قومی خدمت کا نمایاں اعتراف ہے۔

آپ دلوں کے بھی خطیب تھے اور زبان کے بھی۔ پنجاب بھر میں اہلِ سنت کے بڑے بڑے اجتماعات آپ کے خطاب کے بغیر ادھورے سمجھے جاتے تھے۔ لوگ دور دراز علاقوں سے آپ کا بیان سننے کے لیے حاضر ہوتے اور اکابر اہلِ علم و اہلِ دل بھی آپ کی علمی مجلس کی کشش اور روحانی تاثیر کے معترف تھے۔ آپ کی شخصیت میں ایسا وقار، ایسی جاذبیت اور ایسی تاثیر تھی کہ سامع صرف معلومات ہی حاصل نہیں کرتا تھا بلکہ ایک کیفیت سے بھی گزرتا تھا۔

شیخ الاسلام حضرت خواجہ قمرالدین سیالوی رحمۃ اللہ علیہ جیسے اکابر بھی ان کی قدر کرتے اور ان کی مجلس کی کشش کا ذکر فرماتے۔ اسی طرح معروف دانشور واصف علی واصف رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اس بات کا اعتراف کیا کہ اگرچہ ملاقات دیر سے ہوئی، مگر ان کے علم و فیض کی شہرت پہلے ہی دلوں کو اپنی طرف کھینچ چکی تھی۔

حضرت فریدِ ملت رحمۃ اللہ علیہ کا علمی ذوق اور تصنیفی سرمایہ، بالخصوص ان کا سفرنامہ، اپنی مثال آپ ہے۔ یہ سفرنامہ محض سفری مشاہدات کا بیان نہیں بلکہ ایک صاحبِ بصیرت، صاحبِ دل اور عارفانہ نگاہ رکھنے والے عالم کی نظر سے دیکھی گئی دنیا کی ایسی تصویر ہے جس میں تاریخ، ادب، روحانیت اور دینی شعور ایک دوسرے میں گھلے ملے دکھائی دیتے ہیں۔ ایران، عراق، ترکی اور شام کے سفر پر مبنی یہ تحریر اپنے اندر ایسی علمی و روحانی گہرائی رکھتی ہے کہ اسے صرف ایک سفرنامہ کہنا اس کے مقام کو محدود کرنا ہوگا۔

آپ جہاں بھی گئے، وہاں صرف مقامات کی ظاہری کیفیت بیان نہیں کی بلکہ ان کے تاریخی پس منظر، علمی اہمیت، روحانی تاثیر اور باطنی اسرار کو بھی نہایت دل نشیں انداز میں قلم بند کیا۔ اولیاء اللہ کے مزارات پر حاضری، روحانی مشاہدات کا بیان، قرآن و حدیث کے حوالے، عربی و فارسی ادب سے استشہاد، اور تہذیب و معاشرت پر باریک نظر، یہ سب عناصر مل کر آپ کے سفرنامے کو ایک منفرد علمی و ادبی شاہکار بنا دیتے ہیں۔ بطور معالج آپ کی تجزیاتی نگاہ نے اس سفرنامے کو ایک خاص فکری اور مشاہداتی جہت بھی عطا کی، جس سے واضح ہوتا ہے کہ آپ دنیا کو محض ایک مادی منظرنامہ نہیں بلکہ آیاتِ الٰہی کے ظہور کے طور پر دیکھتے تھے۔

اگر ہم سفرناموں کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو ابن جبیر نے اندلس، شمالی افریقہ اور مشرقِ وسطیٰ کا احاطہ کیا، ناصر خسرو نے مشرقِ وسطیٰ، مصر اور ایران کے علاقوں کو بیان کیا، جبکہ ابن بطوطہ نے تین براعظموں تک اپنے مشاہدات کو وسعت دی۔ ان تمام سفرناموں میں جغرافیہ، تہذیب، معاشرت اور حالاتِ زمانہ کا بیان موجود ہے، اور ہر ایک نے اپنے اپنے اسلوب میں سفر کی نوعیت کو واضح کیا۔

ان سفرناموں میں کہیں جغرافیائی معلومات ہیں، کہیں سائنسی و تجزیاتی انداز، کہیں اقوام کی روایات اور کہیں دینی تبلیغ کا رنگ۔ مگر جب حضرت فریدِ ملت ڈاکٹر فرید الدین قادری رحمۃ اللہ علیہ کے سفرنامے کو دیکھا جائے تو ایک بالکل مختلف اور منفرد جہت سامنے آتی ہے۔ ان کا اسلوب ایسا ہے کہ وہ تاریخ کے اوراق کے درمیان سے قاری کو گزار کر قرآن و حدیث کے حوالوں سے روشنی فراہم کرتے ہیں، پھر ادب، شاعری اور روحانیت کے ذریعے ایک مکمل فکری و روحانی فضا قائم کر دیتے ہیں۔

ان سفرناموں میں ایک نمایاں فرق یہ ہے کہ جہاں دیگر سفرنامے طویل عرصے، دو سال، سات سال یا اٹھائیس سال پر محیط ہیں، وہاں حضرت فریدِ ملت رحمۃ اللہ علیہ نے محدود مدت میں چار ممالک کا سفر کیا، مگر اپنے مشاہدات، علمی گہرائی اور روحانی بصیرت کے ذریعے اسے ایک لازوال علمی و ادبی سرمایہ بنا دیا۔

آپ کا علم سے تعلق محض تدریس یا تصنیف تک محدود نہ تھا بلکہ آپ نایاب کتب کے شائق، وسیع المطالعہ عالم اور اعلیٰ علمی ذوق رکھنے والے محقق تھے۔ آپ کا ذاتی کتب خانہ، جو آج بھی فریدِ ملّت ریسرچ انسٹی ٹیوٹ میں علمی سرمایے کے طور پر محفوظ ہے، آپ کی علمی وسعت اور کتاب دوستی کا زندہ ثبوت ہے۔ آپ کی شخصیت ایک فرد کی نہیں بلکہ ایک مستقل جہانِ علم و معرفت کی حیثیت رکھتی تھی۔

حضرت فریدِ ملت رحمۃ اللہ علیہ کی سب سے بڑی اور روشن میراث ان کی تربیتی عظمت ہے۔ تاریخ میں عظیم شخصیات صرف اپنی ذات کے باعث عظیم نہیں ہوتیں بلکہ وہ آئندہ نسلوں کی فکری و روحانی تشکیل بھی کرتی ہیں۔ آپ کی زندگی کا ایک نمایاں ترین پہلو یہ ہے کہ آپ نے حضور شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری کی صورت میں ایک ایسی عظیم شخصیت کی تربیت فرمائی جس نے عالمی سطح پر دینِ اسلام کی ترویج و اشاعت، تجدید و احیائے دین، اُمت کی فکری رہنمائی اور روحانی بیداری کا عظیم کام انجام دیا۔ اس اعتبار سے آپ کی حیاتِ طیبہ محض ایک فرد کی زندگی نہیں بلکہ ایک پورے فکری و روحانی سلسلے کی بنیاد ہے۔

آپ کی حیات ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ اخلاص، علم، محبتِ رسول ﷺ، حلال رزق، سادگی، کردار، ایثار اور نسلوں کی دینی تربیت ہی وہ اقدار ہیں جن سے عظیم معاشرے وجود میں آتے ہیں۔ آج اس امر کی ضرورت ہے کہ ہم اپنی نئی نسلوں کے عقائد، کردار اور دینی شعور کی حفاظت کریں، انہیں صالح ماحول فراہم کریں اور ایسی تربیت کا اہتمام کریں جو انہیں دین، علم اور اخلاق کے ساتھ مضبوطی سے جوڑے رکھے۔

اللہ رب العزت ہمیں حضرت فریدِ ملت ڈاکٹر فرید الدین قادری رحمۃ اللہ علیہ کے علمی و روحانی فیوض سے بہرہ مند فرمائے، ہمیں ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا کرے اور ہماری نسلوں کو علم، عمل، اخلاص اور محبتِ رسول ﷺ کی دولت سے مالا مال فرمائے۔ آمین بجاہ سید المرسلین ﷺ۔

Prof Dr Hussain Qadri Special Addresses 53rd Urs of Farid e Millat

Prof Dr Hussain Qadri Special Addresses 53rd Urs of Farid e Millat

Prof Dr Hussain Qadri Special Addresses 53rd Urs of Farid e Millat

Prof Dr Hussain Qadri Special Addresses 53rd Urs of Farid e Millat

Prof Dr Hussain Qadri Special Addresses 53rd Urs of Farid e Millat

Prof Dr Hussain Qadri Special Addresses 53rd Urs of Farid e Millat

Prof Dr Hussain Qadri Special Addresses 53rd Urs of Farid e Millat

Prof Dr Hussain Qadri Special Addresses 53rd Urs of Farid e Millat

Prof Dr Hussain Qadri Special Addresses 53rd Urs of Farid e Millat

Prof Dr Hussain Qadri Special Addresses 53rd Urs of Farid e Millat

تبصرہ

ویڈیو

Ijazat Chains of Authority
Top