والدین کے کفر و شرک کے باوجود بھی اِسلام اُن کے ساتھ حُسنِ سلوک کا حکم دیتا ہے:شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری
قرآنِ کریم نے واضح کر دیا کہ کفر و شرک سے اجتناب لازم ہے، مگر والدین کے ساتھ حُسنِ سلوک ہر حال میں برقرار رہتا ہے: شیخ الاسلام کا خطاب
بد عقیدہ اور بد عمل والدین کے ساتھ برتاؤ کے حوالے سے اسلام ایک نہایت متوازن، حکیمانہ اور بلند اخلاقی تعلیم پیش کرتا ہے۔ ایک طرف عقیدۂ توحید کی حفاظت کو لازم قرار دیا گیا ہے اور کفر و شرک سے مکمل اجتناب کا حکم دیا گیا ہے، تو دوسری جانب والدین کے مقام و مرتبہ کو اس قدر بلند رکھا گیا ہے کہ اُن کے کفر و شرک کے باوجود بھی اُن کے ساتھ حُسنِ سلوک، اَدب، خدمت اور احسان کا رویہ برقرار رکھنے کی تاکید کی گئی ہے۔ قرآنِ مجید اس حقیقت کو بڑی وضاحت کے ساتھ بیان کرتا ہے کہ والدین کی نافرمانی صرف اسی حد تک ہے جہاں وہ اللہ کی نافرمانی کا حکم دیں، مگر اس کے علاوہ زندگی کے تمام معاملات میں ان کے ساتھ نرمی، محبت اور خیر خواہی کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے۔ یوں اسلام انسان کو یہ سکھاتا ہے کہ وہ عقیدے کی پختگی کے ساتھ اخلاق کی بلندی کو بھی قائم رکھے، اور اختلافِ عقیدہ کے باوجود رشتۂ والدین کی حرمت اور خدمت کو ہر حال میں مقدّم جانے۔
والدین کے حقوق: کفر و گناہ کے باوجود حُسنِ سلوک کی تاکید:
مجدّد المئۃ الحاضرۃ حضور شیخ الاسلام دامت برکاتہم العالیۃنے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ: قرآن مجید نے ارشاد فرمایا:
﴿وَوَصَّيْنَا الْإِنْسَانَ بِوَالِدَيْهِ حُسْنًا وَإِنْ جَاهَدَاكَ لِتُشْرِكَ بِي مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْهُمَا﴾
’’اور ہم نے انسان کو اس کے والدین سے نیک سلوک کا حکم فرمایا اور اگر وہ تجھ پر (یہ) کوشش کریں کہ تو میرے ساتھ اس چیز کو شریک ٹھہرائے جس کا تجھے کچھ بھی علم نہیں تو ان کی اطاعت مت کر‘‘ [العنكبوت، 29/8]
یعنی اگر والدین کافر یا مشرک ہوں اور وہ اپنی اولاد کو بھی شرک پر مجبور کریں، تو ایسی صورت میں اللہ تعالیٰ نے واضح ہدایت دی ہے کہ ان کی اس بات کو ہرگز نہ مانا جائے۔ لیکن اس کے باوجود یہ حکم برقرار رہتا ہے کہ اُن کے ساتھ حُسنِ سلوک اور احسان کا رویہ ترک نہ کیا جائے۔ گویا اُن کے کفر و شرک کے باوجود بھی اُن کے حقوق ساقط نہیں ہوتے۔
اب اس سے نچلے درجے کو دیکھیے: اگر والدین مسلمان تو ہوں، لیکن گناہوں میں مبتلا ہوں، نماز کے تارک ہوں، روزہ نہ رکھتے ہوں، جھوٹ بولتے ہوں، حتیٰ کہ رشوت یا دیگر برائیوں میں ملوث ہوں اور دوسری طرف اولاد نیک، پرہیزگار اور عبادت گزار ہو، تو بھی اولاد کو یہ اجازت نہیں کہ وہ والدین کی نافرمانی کرے یا ان کی خدمت سے ہاتھ کھینچ لے۔
اولاد کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ والدین کے گناہوں پر نظر نہ رکھے، بلکہ ان کے ساتھ خدمت، ادب اور احسان کا رویہ جاری رکھے۔ ان کے اعمال کا حساب اللہ تعالیٰ کے سپرد ہے، وہی ان سے باز پرس کرے گا۔ البتہ اولاد کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اپنی استطاعت کے مطابق والدین کو نیکی کی طرف بلائے، انہیں سمجھائے، ان کی اصلاح کی کوشش کرے، اور ان کے لیے دعا کرتی رہے۔ کیونکہ انہیں گمراہی اور عذابِ آخرت سے بچانے کی کوشش کرنا بھی حُسنِ سلوک کا ایک اہم حصہ ہے۔
شیخ الاسلام نے مزید کہا کہ: یہ حقیقت اپنی جگہ مسلّم ہے کہ والدین کے اعمال جیسے بھی ہوں، کسی بھی درجے میں اولاد کو یہ حق حاصل نہیں ہوتا کہ وہ ان کی گنہگاری کو بنیاد بنا کر اپنی خدمت یا حُسنِ سلوک میں کمی کرے۔ والدین بہرحال والدین ہیں، اور ان کے ساتھ احسان، ادب اور خدمت کا رویہ ہر حال میں قائم رہتا ہے۔
یہاں تک کہ اگر معاملہ اس حد تک پہنچ جائے کہ والدین اپنی اولاد کو کفر و شرک پر مجبور کریں، حالانکہ ایک مسلمان کسی کو کفر و شرک کا حکم نہیں دے سکتا۔ تو بھی اصول یہی رہتا ہے کہ اگر وہ خود کافر و مشرک ہوں اور اولاد مومن و متقی ہو، تب بھی حسنِ سلوک اور خدمت کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے۔ البتہ جب وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے خلاف کوئی بات کہیں، شریعت کی خلاف ورزی کا حکم دیں یا کفر و شرک پر مجبور کریں، تو ایسے موقع پر قرآنِ مجید کی واضح ہدایت ہے: فَلَا تُطِعْهُمَا: یعنی ان کی اس بات کو نہ مانو۔ مگر اس کے ساتھ یہ کہیں نہیں فرمایا گیا کہ ان سے بدتمیزی کرو، انہیں جھڑکو، یا تلخ کلامی اختیار کرو۔ بلکہ تاکید یہ ہے کہ صرف اُن کی ناجائز بات نہ مانو، باقی تمام معاملات میں اُن کے ساتھ حُسنِ سلوک، خدمت اور ادب کا رویہ برقرار رکھو۔
اسی طرح قرآن کا یہ حکم بھی اپنی جگہ قائم ہے: فَلَا تَقُلْ لَهُمَا أُفٍّ وَلَا تَنْهَرْهُمَا۔ یعنی انہیں ’’اُف‘‘ تک نہ کہو اور نہ ہی جھڑکو۔ گویا اگر وہ کفر و شرک کی بات بھی کریں تو ان کی وہ بات قبول نہ کی جائے، لیکن اس پر بھی بدتمیزی، سختی یا دل آزاری کی اجازت نہیں۔ بلکہ گفتگو ہمیشہ نرمی، ادب اور احترام کے ساتھ ہو، تاکہ ان کے دل کو ٹھیس نہ پہنچے۔
کفر و شرک کے باوجود والدین کے حقوق کی پاسداری:
شیخ الاسلام نے فرمایا کہ دوسرے مقام پر قرآن مجید میں ارشاد ہے:
﴿وَإِنْ جَاهَدَاكَ عَلَى أَنْ تُشْرِكَ بِي مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْهُمَا وَصَاحِبْهُمَا فِي الدُّنْيَا مَعْرُوفًا﴾
’’اور اگر وہ دونوں تجھ پر اس بات کی کوشش کریں کہ تو میرے ساتھ اس چیز کو شریک ٹھہرائے جس (کی حقیقت) کا تجھے کچھ علم نہیں ہے تو ان کی اطاعت نہ کرنا، اور دنیا (کے کاموں) میں ان کا اچھے طریقے سے ساتھ دینا‘‘ [لقمان،31/15]
یعنی اگر تمہارے والدین تمہیں اس بات پر مجبور کریں کہ تم میرے ساتھ شرک کرو، جس کا تمہیں کوئی علم نہیں، تو ان کی یہ بات ہرگز نہ مانو۔ یہ حکم پہلے بھی بیان ہو چکا تھا، مگر یہاں ایک اہم اضافہ کیا گیا کہ اگرچہ ان کی یہ بات نہ مانی جائے، لیکن اس کے باوجود دنیاوی معاملات میں ان کے ساتھ حُسنِ سلوک، خدمت اور بھلائی کا رویہ برقرار رکھا جائے۔
گویا قرآنِ مجید نے نہایت صراحت کے ساتھ یہ اصول قائم کر دیا کہ والدین اگر کفر و شرک میں مبتلا بھی ہوں، تب بھی ان کی خدمت، ادب اور احسان ترک نہیں کیا جا سکتا۔ کوئی شخص قیامت کے دن یہ عذر پیش نہیں کر سکے گا کہ ’’میرے والدین کافر یا مشرک تھے، اس لیے میں نے ان کی خدمت چھوڑ دی تھی۔‘‘ یہ عذر ہرگز قابلِ قبول نہ ہوگا، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے صاف طور پر فرما دیا ہے کہ ان کے راستے پر نہ چلو، مگر ان کے ساتھ حُسنِ سلوک کا دامن نہ چھوڑو۔
اسی ضمن میں فقہائے کرام نے ایک نہایت باریک اور اہم مسئلہ بھی بیان کیا ہے۔ اگر والدین کافر یا مشرک ہوں اور وہ اپنی عبادت یعنی بت پرستی کے لیے بت خانے جانا چاہیں اور اپنی مسلمان اولاد سے کہیں کہ ہمیں وہاں چھوڑ آؤ، تو اولاد کے لیے جائز نہیں کہ وہ انہیں خود وہاں لے کر جائے، کیونکہ یہ شرک کے عمل میں معاونت ہوگی۔
البتہ اگر وہ خود کسی ذریعے سے وہاں پہنچ جائیں چاہے پیدل جائیں، سواری کے ذریعے جائیں اور بعد میں واپسی کے لیے اولاد کو بلائیں، تو اس صورت میں اولاد پر لازم ہے کہ وہ جا کر انہیں واپس لے آئے۔ یہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ اسلام میں والدین کے حقوق کس قدر عظیم اور بلند ہیں کہ ان کی خدمت کا حکم اس نازک ترین صورتحال میں بھی برقرار رکھا گیا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ والدین کے حقوق کی یہ جامع اور متوازن تعلیم صرف اسلام ہی کا امتیاز ہے، جس میں اطاعتِ الٰہی اور خدمتِ والدین کے درمیان نہایت حکیمانہ توازن قائم کیا گیا ہے۔
بلاگر: ڈاکٹر محمد اقبال چشتی (سینئر ریسرچ اسکالر)


















تبصرہ