اگر حضور نبی اکرم ﷺ کا ادب حد سے بڑھ کر کرو گے تو عظمتِ مصطفی ﷺ کی معرفت نصیب ہوگی: شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری
توقیر کا معنی محض اَدب نہیں بلکہ اَدب کی تمام حدود سے آگے بڑھ جانا ہے: شیخ الاسلام کا خطاب
ادب و تعظیمِ مصطفیٰ ﷺ درحقیقت محض ظاہری احترام یا رسمی عقیدت کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک ایسی باطنی کیفیت ہے جو دل کو حضور نبی اکرم ﷺ کی بے مثال عظمت کے سامنے جھکا دیتی ہے۔ قرآنِ کریم کے حکم ’’وَ تُعَزِّرُوۡہُ وَ تُوَقِّرُوۡہُ‘‘ میں یہی راز پوشیدہ ہے کہ جہاں تعزیر عام ادب و تعظیم کا تقاضا ہے، وہاں توقیر اس سے کہیں بلند مقام کی نشاندہی کرتی ہے۔ توقیر کا مفہوم صرف ادب بجا لانا نہیں بلکہ ادب کی تمام حدود سے آگے بڑھ جانا ہے۔ اسی لیے جب بندہ حضور ﷺ کی بارگاہ میں اپنی محبت و عقیدت کو ہر حد سے بڑھا دیتا ہے، تو اسے عظمتِ مصطفی ﷺ کی حقیقی معرفت نصیب ہوتی ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں الفاظ کی حدیں ختم ہو جاتی ہیں اور دل سراپا ادب، محبت اور تعظیم بن جاتا ہے۔
اَدب و تعظیمِ مصطفی ﷺ کی حقیقت:
مجدّد المئۃ الحاضرۃ حضور شیخ الاسلام دامت برکاتہم العالیۃنے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ: قرآن مجید نے ارشاد فرمایا:
﴿لِتُؤْمِنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَتُعَزِّرُوهُ وَتُوَقِّرُوهُ وَتُسَبِّحُوهُ بُكْرَةً وَأَصِيلًا﴾ [الفتح، 48/9]
’’تاکہ (اے لوگو!) تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور آپ (ﷺ کے دین) کی مدد کرو اور آپ (ﷺ) کی بے حد تعظیم و تکریم کرو، اور (ساتھ) اللہ کی صبح و شام تسبیح کرو ‘‘
آپ نے اس آیتِ کریمہ میں دو الفاظ پڑھے اور سنے ہیں: ’’وَ تُعَزِّرُوۡہُ وَ تُوَقِّرُوۡہُ‘‘۔ عام طور پر دونوں الفاظ کا ترجمہ حضور نبی اکرم ﷺ کی تعظیم اور تکریم ہی کیا جاتا ہے، اور یہ معنی ایک حد تک درست بھی ہے۔ لیکن حقیقت اس سے کہیں زیادہ گہری ہے۔ دراصل اس آیت میں دو الگ احکام بیان کیے گئے ہیں، نہ کہ ایک ہی بات کو دہرا دیا گیا ہے۔
لفظ ’’وَ تُعَزِّرُوۡہُ‘‘ کے متعدد معانی ہیں، تاہم ائمۂ تفسیر نے جس معنی کو زیادہ ترجیح دی ہے وہ ہے: حضور ﷺ کی عظمت کو دل و جان سے تسلیم کرتے ہوئے آپ کی نصرت اور حمایت کرنا، اور آپ کی شان کے مطابق تعظیم بجا لانا۔ گویا اس میں صرف ادب ہی نہیں بلکہ عملی وابستگی اور دفاعِ رسالت کا پہلو بھی شامل ہے۔
اس کے بعد فرمایا: ’’وَ تُوَقِّرُوۡہُ‘‘۔ اگر اس کا معنی بھی صرف تعظیم اور ادب ہی لے لیا جائے تو پھر تکرار لازم آئے گی، جو کلامِ الٰہی کی شان کے خلاف ہے۔ حقیقت میں ’’توقیر‘‘ کا مفہوم زیادہ لطیف اور باطنی ہے، یعنی دل کی گہرائیوں سے حضور ﷺ کی ہیبت، عظمت اور جلال کا ایسا احساس پیدا ہو جانا جو انسان کے ظاہر و باطن کو ادب سے بھر دے۔
اللہ تعالیٰ کا کلام انسانی کلام کی طرح نہیں کہ محض حُسنِ بیان یا فصاحت کے لیے مترادف الفاظ استعمال کیے جائیں۔ انسان اپنی گفتگو کو مؤثر بنانے کے لیے ایک ہی مفہوم کو مختلف الفاظ میں دہراتا ہے، مگر اللہ تعالیٰ ہر لفظ کو ایک خاص حکمت، جدا معنویت اور منفرد مقصد کے تحت استعمال فرماتا ہے۔ اس لیے جہاں بظاہر الفاظ ملتے جلتے نظر آئیں، وہاں درحقیقت معنی، اطلاق اور حکمت میں فرق ہوتا ہے اور یہی فرق سمجھنا قرآن فہمی کی اصل روح ہے۔
تعزیر اور توقیر میں فرق: امام مبرّد کی وضاحت:
شیخ الاسلام نے مزید کہا کہ: اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’’وَ تُعَزِّرُوۡہُ‘‘ یعنی اس نبی کریم ﷺ کا ادب کرو، تعظیم کرو اور تکریم بجا لاؤ۔ پھر فرمایا: ’’وَ تُوَقِّرُوۡہُ‘‘ یعنی اس کی توقیر کرو۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر پہلے ہی ادب و تعظیم کا حکم دیا جا چکا تو دوبارہ ’’توقیر‘‘ سے کیا مراد ہے؟
علمِ نحو کے عظیم امام مبردؒ اس کی نہایت دقیق وضاحت کرتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ ’’توقیر‘‘ کا معنی محض ادب کرنا نہیں، بلکہ ادب میں حد سے بڑھ جانا ہے، یعنی ایسا ادب جو معمول کی حدود سے آگے نکل جائے۔
اس وضاحت کی روشنی میں آیت کا مفہوم واضح ہوتا ہے کہ ’’تعزیر‘‘ وہ ادب، تعظیم اور تکریم ہے جو تمام انبیاء علیہم السلام کے لیے ان کے منصبِ نبوت و رسالت کے اعتبار سے لازم ہے۔ یعنی نبی ﷺ کو نبی اور رسول مانتے ہوئے آپ کا ادب کرنا، آپ کی تعظیم اور تکریم بجا لانا ایمان کا تقاضا ہے، اور اس میں کوتاہی ایمان سے محرومی کا سبب بن سکتی ہے۔
لیکن جب بات ’’توقیر‘‘ کی آتی ہے تو یہاں ایک خاص شان اور امتیاز سامنے آتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ’’تِلْكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلٰی بَعْضٍ‘‘ یعنی ہم نے بعض رسولوں کو بعض پر درجات میں فضیلت دی۔ اگرچہ نبوت و رسالت کے اصل منصب میں سب برابر ہیں، لیکن درجات، مراتب اور فضائل میں فرق ہے۔
چنانچہ حضور نبی اکرم ﷺ چونکہ تمام انبیاء میں اعلیٰ ترین مقام رکھتے ہیں، اس لیے آپ کے ادب کا تقاضا بھی عام نہیں۔ ’’تعزیر‘‘ کے تقاضے کے مطابق آپ کا ادب و احترام لازم ہے، مگر ’’توقیر‘‘ کا تقاضا یہ ہے کہ جب حضور ﷺ کی ذاتِ اقدس کا ذکر آئے تو ادب کی تمام حدود پیچھے رہ جائیں، اور محبت و تعظیم اپنے کمال کو پہنچ جائے۔ گویا آپ ﷺ کی توقیر وہ بلند ترین ادب ہے جو کسی اور کے لیے ممکن نہیں، اور نہ کبھی ہو سکتا ہے۔ جب رسول اللہ ﷺ کے اَدب کی باری آئے تو اے لوگو! تعظیم و تکریم کی ساری حدیں میرے محبوب کی ذات کے لیے توڑ ڈالو۔
توقیرِ مصطفی ﷺ حدود سے ماورا محبت و تعظیم:
شیخ الاسلام نے کہا کہ: انسانی معاشرے میں ہر رشتے اور ہر مقام کے ساتھ ادب کی ایک حد مقرر ہوتی ہے۔ اولاد اگر والدین کا ادب کرے تو اس کی بھی ایک حد ہے، شاگرد استاد کا احترام کرے تو اس کی بھی ایک حد ہے، اور مرید اپنے شیخ کی تعظیم کرے تو وہ بھی ایک دائرے کے اندر رہتی ہے۔ گویا دنیا میں ہر مستحقِ ادب، تعظیم اور تکریم کے لیے ایک خاص حد اور معیار مقرر ہے، جس کے اندر رہ کر اس کا حق ادا کیا جاتا ہے۔
لیکن جب بات حضور نبی اکرم ﷺ کی آتی ہے تو معاملہ بالکل مختلف ہو جاتا ہے۔ یہاں ادب، تعظیم اور تکریم کسی حد کے پابند نہیں رہتے۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اگر حضور ﷺ کا ادب انہی محدود پیمانوں میں کیا جائے جو دوسروں کے لیے ہیں، تو یہ ادب نہیں بلکہ بے ادبی کے قریب ہو جاتا ہے۔ آپ ﷺ کا حق یہ ہے کہ آپ کی تعظیم و تکریم میں تمام حدود سے آگے بڑھا جائے، کیونکہ آپ کا مقام تمام مخلوق سے بلند اور منفرد ہے۔
لہٰذا دیگر تمام ہستیوں کا ادب حدود کے اندر رہ کر ادا کیا جاتا ہے، مگر حضور ﷺ کا ادب حدود سے ماورا ہو کر ہی اپنے کمال کو پہنچتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں محبت، تعظیم اور معرفت اپنی انتہا کو چھوتی ہیں۔ اس لیے یہ کہنا کہ نبی ﷺ کا ادب کرتے ہوئے حد سے آگے نہ بڑھو، دراصل اس قرآنی تعلیم کے منافی ہے جو حضور ﷺ کی بے مثال توقیر کا حکم دیتی ہے۔
بلاگر: ڈاکٹر محمد اقبال چشتی (سینئر ریسرچ اسکالر)


















تبصرہ