زبان و ادب کا زوال آج کے دور کا ایک بڑا تہذیبی المیہ ہے: شیخ الاسلام ڈاکٹر طاہرالقادری

ذرائع ابلاغ میں ایسی زبان استعمال ہورہی ہے جو پہلے کبھی سنی، نہ پڑھی: بانی و سرپرست اعلیٰ تحریک منہاج القرآن
زبان و ادب کی پسماندگی کے باعث انسانی رشتے اور مسلمہ اقدار و روایات بری طرح پامال ہورہی ہیں

لاہور (22 اپریل 2025) تحریک منہاج القرآن کے بانی و سرپرست اعلیٰ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے کہا ہے کہ زبان و ادب کا زوال آج کے دور کاایک بڑا تہذیبی المیہ بن گیا ہے۔ ذرائع ابلاغ میں ایسی زبان بولی اور استعمال کی جاتی ہے جو اس سے پہلے کبھی سنی اور نہ پڑھی۔ زبان و ادب کی پسماندگی کے باعث انسانی رشتوں کا احترام اور مسلمہ اقدار و روایات پامال ہورہی ہیں۔ محراب و منبرسے بھی علمی نکات بیان کرتے وقت ایسی زبان استعمال کی جاتی ہے جس سے اسلامی تعلیمات کا تقدس اور اس کی اخلاقی حیثیت مجروح ہورہی ہے اور نوجوان نسل کے اخلاق پر ایسی زبان کے منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں۔ ماضی میں انسان جن الفاظ کے استعمال پر شرم سے پانی پانی ہو جاتا تھا وہ الفاظ آج بے تکلفی کا خاصا سمجھے جاتے ہیں، مغربی تہذیب کی اندھا دھند تقلید نے مشرقی اقدار و روایات اور زبان و بیان اور تحریر و تقریر کو ناقابل نقصان پہنچایا ہے۔ شیخ الاسلام نے اس موضوع پر ایک مکمل بیانیہ دیا ہے جو ماہنامہ منہاج القرآن کے ماہ مئی کے شمارہ میں شائع ہوگا۔

تبصرہ

ویڈیو

Ijazat Chains of Authority
Top